گلتیوں ۲

۲۔ عقائد اور تعلیم __ پولس ایمان سے راست باز ٹھہرائےجانے کا دفاع کرتا ہے (‏۳:‏ ۱-‏۵:‏ ۱)‏

الف۔ اِنجیل (‏خوش خبری)‏کی عظیم سچائی (‏۳:‏ ۱-‏۹)‏

۳:‏ ۱ گلتیوں کے کاموں سے ظاہر ہوتا تھا کہ اُن میں عقل اور سمجھ کی کمی ہے۔ فضل سے ہٹ کر شریعت کی طرف پھرنا تو «افسون» کے زیرِ اثر آنا ہے۔ گویا جادو کے اثر سے سو گئے ہیں اور اِسی غفلت میں سچائی کو چھوڑ کر جھوٹ کو قبول کئے جا رہے ہیں۔ کس نے تم پر «افسون کر لیا»؟ «کس نے» واحد ہے (‏یونانی tis )‏ جمع نہیں جس سے اِشارہ ملتا ہے کہ اِس جھوٹی تعلیم کا منبع شاید ابلیس ہے۔ خود پولس نے تو گلتیوں کے سامنے «یسوع مسیح» کی منادی کی تھی کہ وہ صلیب دیا گیا۔ اور زور دے کر کہا تھا کہ صلیب تم کو شریعت کی غلامی اور لعنت سے ہمیشہ کے لئے آزاد کرتی ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ وہ صلیب کو نظر انداز کر کے شریعت کی طرف پھر گئے؟ کہ سچائی نے عملاً اُن کے دِلوں میں گھر نہیں کیا تھا؟

اگرچہ یونانی میں «کس نے» یا «کون» کے لئے واحد اور جمع کے صیغوں میں الگ الگ لفظ ہیں،‏ لیکن یہاں جمع میں جواب کو بھی خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔

۳:‏ ۲ اِس سارے معاملے کو طے کرنے کے لئے صرف ایک سوال کافی ہونا چاہئے۔ گلتی اُس وقت پر نظر کریں جب ایمان لائے تھے__ وہ وقت تھا جب روح اُن کے جسموں میں سکونت کرنے کے لئے نازل ہوا تھا۔ پولس گلتیوں سے پوچھتا ہے کہ تم نے شریعت کے اعمال سے روح کو پایا یا ایمان کے پیغام سے؟ صاف ظاہر ہے کہ ایمان سے پایا تھا۔ کسی کو بھی روح شریعت کے اعمال سے کبھی نہیں ملا۔

۳:‏ ۳ اگر وہ اعمال سے نجات حاصل نہیں کر سکتے تھے تو کیا توقع کر سکتے ہیں کہ ہم شریعت کے وسیلے سے پاکیزگی یا مسیحی پختگی میں ترقی کر سکتے ہیں؟ اگر اُن کی نجات کے لئے روح کی قدرت ضرورت ہے،‏ تو کیا وہ اِس عمل کو جسمانی کوشش سے مکمل کر سکتے ہیں؟

۳:‏ ۴جب گلتی پہلے پہل مسیح پر ایمان لائے تو اُن کو تلخ ایذارسانی کا سامنا کرنا پڑا،‏ کچھ تو یہودی زیلوتیس (‏مذہبی جوش رکھنے والے)‏ افراد کے ہاتھوں تکالیف آئیں کیونکہ وہ فضل کی خوش خبری کو ناپسند کرتے تھے اور اِس کے سخت مخالف تھے۔ کیا اُنہوں نے جو اِتنی تکلیفیں اُٹھائیں تو بے فائدہ اُٹھائیں؟ دوبارہ شریعت کی طرف جا کر کیا وہ کہہ نہیں رہے کہ ہمیں ستانے والے درست ہی تھے؟ مگر شاید بے فائدہ نہیں۔ پولس کو پختہ اور دائمی اُمید ہے کہ وہ اُس خوش خبری کی طرف لوٹیں گے جس کی خاطر اُنہوں نے اِتنی تکلیفیں اُٹھائی تھیں۔

۳:‏ ۵ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ «جو» خدا کی طرف اِشارہ کرتا ہے یا پولس کی طرف۔ یا کسی اور کی طرف جو اِس خط کے تحریر کئے جانے کے دنوں میں گلتیوں کے درمیان خدمت کر رہا تھا۔ بالآخر تو اِس کا اطلاق خدا پر ہی ہوتا ہے،‏ کیونکہ صرف وہی پاک روح بخش سکتا ہے۔ لیکن ایک ثانوی مفہوم میں اِس کا اطلاق ایک مسیحی کارندے پر بھی ہوتا ہے جس کے وسیلے سے خدا اپنی مرضی پوری کرتا ہے۔ اِس سے مسیحی خدمت کا ایک سربلند اور شان دار منظر سامنے آتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ «کسی قسم کا بھی حقیقی مسیحی کام یہ ہے کہ روح القدس دوسروں کو پہنچایا جائے۔»

اگر رسول اپنے متعلق بات کر رہا ہے تو شاید وہ اُن معجزوں کے بارے میں سوچ رہا ہے جو اُس کی منادی کے ساتھ ظاہر ہوتے تھے۔ اور یہ سوچ رہا ہے کہ گلتیوں نے کس طرح مسیح کو قبول کیا (‏عبرانیوں ۲:‏ ۴)‏۔ البتہ فعل کا زمانہ (‏حال)‏ کسی ایسے کام کو ظاہر نہیں کرتا جو ماضی میں ہوا،‏ بلکہ یہ کہ اب یعنی خط کے تحریر کرتے وقت ہو رہا ہے۔ غالباً پولس اُن معجزانہ نعمتوں کی طرف اِشارہ کر رہا ہے جو روح القدس نے ایمان داروں کو ایمان لانے کے بعد عطا کیں اور جن کا بیان ۱۔کرنتھیوں ۱۲:‏ ۸-‏۱۱ میں درج ہے۔

«کیا وہ شریعت کے اعمال سے ایسا کرتا ہے یا ایمان کے پیغام سے؟» جواب ہے «ایمان کے پیغام سے»۔ روح القدس کا ایمان دار کے اندر سکونت کرنا اور نتیجے میں اُس کی زندگی میں کام کرنا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کا اِنسان حق دار نہیں ہو سکتا،‏ نہ اعمال سے کما سکتا ہے۔ یہ فضل کے وسیلے سے دی جاتی ہیں اور ایمان سے حاصل کی جاتی ہیں۔ چنانچہ گلتیوں کو اپنے تجربات سے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ برکت شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ ایمان سے ملتی ہے۔

دوسرے ثبوت کے لئے پولس پاک صحائف کا وہی حصہ پیش کرتا ہے جسے جھوٹے اُستاد یہ ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے کہ ختنہ ضروری ہے۔ پرانا عہدنامہ حقیقت میں کیا کہتا ہے؟

۳:‏ ۶ پولس ثابت کر چکا ہے کہ گلتیوں کے ساتھ خدا کا سلوک/ برتائو خالصتاً ایمان کی بنیاد پر تھا۔ اب وہ ثابت کرتا ہے کہ پرانے عہدنامے میں بھی اِنسان اِسی طریقے سے نجات پاتے تھے۔ آیت ۵ میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ شریعت کے اعمال سے ایسا کرتا ہے یا ایمان کے پیغام سے؟ اور جواب تھا ایمان کے پیغام سے۔ اِس جواب کو ذہن میں رکھتے ہوئے آیت ۶ کہتی ہے «چنانچہ ابرہام …» وہ بھی اِسی طریقے سے یعنی ایمان کے پیغام سے راست باز ٹھہرایا گیا۔

شاید یہودی اُستاد ابرہام کو ایک ہیرو کے طور پر استعمال کرتے اور اُس کی مثال دیتے تھے۔ اور اُس کے تجربے (‏پیدائش ۱۷:‏۲۴،‏ ۲۶)‏کو بنیاد بنا کر ختنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ اگر ایسا ہے تو پولس اُن ہی کے میدان میں اُن سے لڑتا ہے۔ چنانچہ ابرہام نے کیسے نجات پائی؟ ابرہام خدا پر ایمان لایا۔ اُس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس میں اُس کی قابلیت یا لیاقت شامل تھی۔ وہ صرف «خدا پر ایمان لایا»۔ اِس حقیقت کے ساتھ کوئی لیاقت اور قابلیت (‏نیک اعمال)‏ پیوستہ نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اِنسان خدا پر ایمان نہیںلاتا تو بے وقوف ہے۔ نجات کے سلسلے میں اِنسان صرف ایک ہی بات کر سکتا ہے کہ خدا پر ایمان لائے۔ اور اِس میں فخر کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ یہ کوئی ایسی «نیکی» (‏نیک عمل)‏ نہیں جس میں اِنسانی کوشش شامل ہو۔ اِس میں جسم کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اِس سے بڑھ کر درست کام اَور کیا ہے کہ مخلوق اپنے خالق کا یقین کرے یا بچہ/ فرزند اپنے باپ پر ایمان لائے۔

راست باز ٹھہرانا خدا کا عمل ہے۔ وہ اُن سب کو راست باز ٹھہراتا ہے جو اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ خدا گنہگاروں سے یہ سلوک اِس لئے کر سکتا ہے کہ مسیح نے کلوری کی صلیب پر گنہگاروں کے عوض جان دے کر اُن کے قصوروں کا قرض ادا کر دیا۔ راست باز ٹھہرانے کا یہ مطلب نہیں کہ خدا گنہگار کی ذات کو راست باز اور بے گناہ بنا دیتا ہے،‏ بلکہ یہ کہ نجات دہندہ کے کام کی بنیاد پر اُس کو راست باز شمار کرتا ہے۔ خدا ایمان لانے والے گنہگار کو راست باز ہونے کا درجہ دے دیتا،‏ اور یوں اُس کو آسمان کے لائق بنا دیتا ہے۔ اور پھر توقع کرتا ہے کہ جو کچھ اُس نے اُس کے لئے کیا ہے اُس کی شکر گزاری کے طور پر وہ راست باز زندگی بسر کرے۔ یہاں غور کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ راست باز ٹھہرائے جانے کا شریعت کی تعمیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس کا تعلق مکمل طور پر ایمان سے ہے۔

۳:‏ ۷ اِس میں شک نہیں کہ یہودی اُستاد اِس بات پر زور دیتے تھے کہ ابرہام کے سچے فرزند بننے کے لئے گلتیوں کو ختنہ کرانا ضروری ہے۔ پولس اِس کی تردید کرتا ہے۔ ابرہام کے حقیقی فرزند وہ نہیں جو یہودی پیدا ہوئے یا جو یہودی نومرید بن گئے،‏ بلکہ وہ ہیں جنہوں نے ایمان کے وسیلے سے نجات پائی۔ رومیوں ۴:‏۱۰،‏ ۱۱ میں پولس ثابت کرتا ہے کہ ابرہام ختنہ کرانے سے پہلے راست باز گنا گیا تھا،‏ یعنی اُس وقت جب کہ وہ ابھی غیر قوم والی بنیاد پر کھڑا تھا۔

۳:‏ ۸ پرانا عہدنامہ آنے والی صدیوں پر نگاہ ڈال رہا ہے اور پہلے ہی دیکھ لیتا ہے کہ خدا یہودیوں اور غیر قوموں کو ایمان سے راست باز ٹھہرائے گا۔ ایمان ہی سے «برکت پائیں گی»۔ یہ بات پرانے عہدنامے نے پہلے سے صرف دیکھی ہی نہیں،‏ بلکہ پیدائش ۱۲:‏۳ میں ابرہام کو واضح طور پر بتائی بھی گئی تھی __ زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلے سے برکت پائیں گے۔

جب ہم پیدائش کی کتاب میں پہلی دفعہ یہ آیت پڑھتے ہیں تو سمجھنا مشکل لگتا ہے کہ پولس نے اِس میں یہ مفہوم کیسے تلاش کر لیا۔ لیکن روح القدس جس نے پرانے عہدنامے میں یہ آیت لکھی جانتا تھا کہ اِس میں ساری قوموں کے لئے ایمان کے وسیلے سے نجات موجود ہے۔ چونکہ پولس بھی اُسی روح القدس کے الہام سے لکھتا ہے اِس لئے اُسے توفیق دی گئی کہ اِس میں چھپے ہوئے اُس بڑے مفہوم کی وضاحت کرے۔ تیرے باعث یعنی ابرہام کے ساتھ،‏ یعنی اُسی طریقے سے جس سے ابرہام کو نجات ملی۔ «سب قومیں۔» یہودی اور غیر یہودی سب« برکت پائیں گی »__ نجات پائیں گی۔ ابرہام نے کس طرح نجات پائی؟ ایمان سے۔ سب قومیں کس طرح نجات پائیں گی؟ جس طریقے سے ابرہام نے پائی تھی __ ایمان سے۔ علاوہ ازیں وہ غیر قوموں کی حیثیت میں نجات پائیں گی __ یہودی بن کر نہیں۔

۳:‏ ۹ وہ سب جو خدا پر ایمان لاتے ہیں ابرہام کے ساتھ راست باز ٹھہرائے جائیں گے۔ یہ یہودی پاک نوشتوں کی گواہی ہے۔

ب۔ شریعت بمقابلہ وعدہ (‏۳:‏ ۱۰-‏۱۸)‏

۳:‏ ۱۰ پولس پاک نوشتوں سے ثابت کرتا ہے کہ برکت عطا کرنا تو دُور کی بات ہے،‏ شریعت صرف لعنت دیتی ہے۔ اِس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ جتنے شریعت کو توڑتے ہیں بلکہ یہ کہ جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں یعنی جو شریعت کی تعمیل کی بنیاد پر خدا کی نظر میں مقبول ٹھہرنے کی اُمید رکھتے ہیں،‏ وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں یعنی اُن پر سزا کا حکم ہو چکا ہے۔ چنانچہ لکھا ہے (‏اِستثنا ۲۷ :‏ ۲۶)‏کہ «جو کوئی … قائم نہیں …لعنتی ہے۔» اِتنا ہی کافی نہیں کہ ایک دن یا ایک مہینہ یا ایک سال شریعت پر عمل کر لیا،‏ اِس پر مسلسل قائم رہنا ضروری ہے۔ فرماں برداری کامل ہونی چاہئے۔ صرف دس احکام کی تعمیل کرنا کافی نہیں۔ اُن چھے سو سے زائد سارے حکموں پر عمل کرنا ضروری ہے جو موسیٰ کی پانچ کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔

۳:‏ ۱۱ پولس جھوٹے اُستادوں کی تعلیم کو پھر پرانے عہدنامے کی مدد سے غلط ثابت کرتا ہے۔ حبقوق میں سے حوالہ دے کر وہ ثابت کرتا ہے کہ خدا ہمیشہ ہی ایمان سے راست باز ٹھہراتا آیا ہے،‏ شریعت سے نہیں۔ اصل یونانی الفاظ کی ترتیب کے مطابق ترجمہ یوں ہو گا «راست باز ایمان سے جئے گا»۔ دوسرے لفظوں میں جن کو ایمان کے وسیلے سے راست باز محسوب کیا گیا ہے __ اعمال سے نہیں __ وہ ابدی زندگی پائیں گے۔ ایمان سے راست باز ٹھہرائے گئے لوگ جیتے رہیں گے۔

۳:‏ ۱۲ شریعت اِنسان کو یہ نہیں کہتی کہ ایمان لائو،‏ بلکہ یہ بھی نہیں کہتی کہ حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔ شریعت سختی سے،‏ مکمل اور کامل فرماں برداری کا مطالبہ کرتی ہے۔ اور یہ بات اَحبار کی کتاب کی تعلیم سے بالکل واضح ہے۔ اِس کا اُصول ایمان کے اُصول سے اُلٹ ہے۔ شریعت کہتی ہے «کر اور جیتا رہ۔» ایمان کہتا ہے «ایمان لا اور جیتا رہ۔» چنانچہ پولس کی دلیل یہ ہے کہ راست باز شخص ایمان سے جیتا رہے گا۔ جو شخص شریعت کے ماتحت ہے وہ ایمان سے نہیں جیتا۔ اِس لئے وہ خدا کے سامنے راست باز نہیں ہے۔ جب پولس کہتا ہے کہ «جس نے اِن پر عمل کیا وہ اِن کے سبب سے جیتا رہے گا» تو وہ ایک نظری اَمرِبدیہی یا ایک مثالی (‏آئیڈیل)‏ بات پیش کر رہا ہے۔ لیکن اِس کا حصول ناممکن ہے۔

۳:‏ ۱۳ مسیح نے ہمارا فدیہ دیا۔ قیمت دے کر ہمیں چھڑایا۔ شریعت کی لعنت موت ہے یعنی اِس کے حکموں کو توڑنے کی سزا __ شریعت کا تقاضا ہے کہ اِنسان کو موت کی سزا ملے۔ لیکن مسیح نے موت کی سزا ادا کر کے شریعت کے ماتحتوں کو چھڑا لیا ہے،‏ (‏جب پولس ہم یا ہمارے لئے کا لفظ استعمال کرتا ہے تو بنیادی طور پر ایمان لانے والے یہودیوں کی طرف اِشارہ ہے۔ البتہ یہودی پوری نسلِ اِنسانی کی نمائندگی کرتے تھے)‏۔

سنڈیلان جونز (‏Cynddylan Jones)‏ کہتا ہے:‏

«گلتی سوچتے تھے کہ مسیح نے ہمیں صرف آدھا خریدا ہے۔ اور باقی نصف ہمیں خود ختنہ اور باقی یہودی رسومات اور ضابطوں کی پابندی کر کے خریدنا ہے۔ چنانچہ وہ جھوٹے اُستادوں کے پیچھے لگنے اور مسیحیت اور یہودیت کی آمیزش کرنے کو تیار ہو گئے۔ اِس لئے پولس یہاں کہتا ہے کہ مسیح نے ہمیں پورا پورا مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔»

مسیح نے اِنسان کو چھڑایا یعنی اُس نے گناہ کے خلاف خدا کے خوف ناک غضب کو برداشت کرتے ہوئے اِنسان کی جگہ موت سہی۔ اور اِنسان کا عوضی ہونے کے باعث خدا کی لعنت اُس پر پڑی۔ وہ خود گنہگار نہیں بنا،‏ بلکہ اِنسان کے گناہ اُس پر رکھے گئے تھے۔

مسیح نے اِنسان کو شریعت کی لعنت سے اِس طرح نہیں چھڑایا کہ اپنی زندگی بھر دس احکام کی پوری پوری تعمیل کی۔ پاک کلام ایسی تعلیم نہیں دیتا کہ اُس کی کامل فرماں برداری ہمارے حساب میں شمار کی گئی،‏ بلکہ اُس نے اِنسان کو اِس طرح چھڑایا کہ شریعت کی خوف ناک لعنت یعنی موت برداشت کی۔ اُس کی موت کے بغیر نجات ہو نہیں سکتی تھی۔ شریعت کی تعلیم ہے کہ جب مجرموں کو درخت (‏لکڑی)‏ پر لٹکایا جاتا تھا تو یہ علامت تھی کہ وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہیں (‏اِستثنا ۲۱:‏ ۲۳)‏۔ یہاں اِس انداز کی پیش گوئی ہے جس سے مسیح اپنی مخلوق کی لعنت اُٹھانے کے لئے جان دینے کو تھا۔ اُس کو آسمان اور زمین کے درمیان یوں لٹکا دیا گیا جیسے وہ دونوں میں سے کسی کے لائق نہیں۔ وہ اپنی صلیبی موت میں گویا لکڑی پر لٹکایا گیا (‏اعمال ۵:‏ ۳۰؛ ۱۔پطرس ۲:‏ ۲۴)‏۔

۳:‏ ۱۴خدا نے وعدہ کیا تھا کہ ابرہام کو برکت دے گا اور اُس کے وسیلے سے ساری دُنیا کو برکت ملے گی۔ ابرہام کی برکت دراصل فضل کے وسیلے سے ایمان سے نجات ہے۔ لیکن پہلے ضروری تھا کہ گناہ کی وہ سزا ادا کی جائے جس کا خدا مطالبہ کرتا تھا۔ اِس لئے خداوند یسوع لعنت بن گیا تاکہ خدا یہودیوں اور غیر قوموں دونوں پر فضل کر سکے۔ اب مسیح میں (‏جو ابرہام کی نسل سے ہے)‏ ساری قومیں برکت پاتی ہیں۔

پیدائش ۱۲:‏ ۳ میں ابرہام کے ساتھ خدا کے وعدے میں روح القدس کا ذکر نہیں۔ مگر خدا کے الہام سے پولس یہاں ہمیں بتاتا ہے کہ ابرہام کے ساتھ نجات کے غیر مشروط وعدے میں روح القدس کی نعمت شامل تھی۔ وہ وہاں موجود تھا۔ جب تک شریعت کا دَور تھا روح القدس آ نہیں سکتا تھا۔ روح القدس کے دیئے جانے سے پہلے مسیح کا مرنا اور جلال پانا ضرور تھا (‏یوحنا ۱۶:‏ ۷)‏۔

رسول نے ثابت کر دیا ہے کہ نجات ایمان سے ہے شریعت (‏کے اعمال)‏ سے نہیں۔ اور ثبوت ہیں (‏۱)‏گلتیوں کا اپنا تجربہ اور (‏۲)‏پرانے عہدنامے کے صحائف کی گواہی۔ اب وہ اِسی مقصد کے لئے روزمرہ زندگی سے ایک مثال دیتا ہے۔

اِس حصے میں پولس جو دلیل دیتا ہے اُس کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔ پیدائش ۱۲:‏۳ میں خدا نے وعدہ کیا کہ ابرہام میں دُنیا کے سارے قبیلے برکت پائیں گے۔ نجات کے اِس وعدے میں یہودی اور غیر قومیں دونوں شامل تھیں۔ پیدائش ۲۲:‏ ۱۸ میں خدا نے یہ وعدہ بھی کیا کہ «تیری نسل کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی۔» خدا نے نسل (‏واحد)‏ کہا نسلیں (‏جمع)‏ نہیں کہا۔ خدا کا اِشارہ ایک شخص یعنی خداوند یسوع مسیح کی طرف تھا جو براہِ راست ابرہام کی نسل سے تھا (‏لوقا ۳:‏ ۳۴)‏۔ دوسرے لفظوں میں خدا نے یسوع مسیح کے وسیلے سے ساری قوموں کو برکت دینے کا وعدہ کیا۔ اِن میں یہودی اور غیر قومیں سبھی شامل ہیں۔ یہ وعدہ غیر مشروط تھا۔ اِس کے لئے نہ نیک کاموں کا تقاضا تھا نہ شریعت کی فرماں برداری کا۔ یہ سادہ (‏سادہ کے لغوی معنی خالص کے ہیں جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو)‏ سا وعدہ تھا۔ اور مقصد تھا کہ اِسے سادہ سے ایمان سے قبول کیا جائے۔

اب شریعت جو بنی اِسرائیل کو ۴۳۰ برس بعد دی گئی،‏ وہ اِس وعدے میں نہ کسی شرط کا اضافہ کر سکتی،‏ نہ اِس میں کسی قسم کا رد و بدل کر سکتی تھی۔ اِنسانی معاملات میں ایسی بات ناراست ہوتی ہے۔ خدا کے معاملات میںایسی بات سوچنا بھی ممکن نہیں۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غیر قوموں کو برکت دینے کا وعدہ مسیح کے وسیلے سے ایمان سے ہے،‏ شریعت کی تعمیل سے نہیں۔

۳:‏ ۱۵ اِنسانی معاملات میں جب کسی عہد پر دستخط ہو جاتے اور مہر لگ جاتی ہے تو کوئی اِس دستاویز میں رد و بدل کرنے یا اِس میں کچھ اضافہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر اِنسانی عہد توڑے نہیں جا سکتے،‏ تو خدا کا عہد کیسے ٹوٹ سکتا ہے!

۳:‏ ۱۶بے شک یہودیت نواز یہ دلیل دیتے تھے کہ اگرچہ شروع میں یہ وعدے ابرہام اور اُس کی نسل سے ایمان کے وسیلے سے کئے گئے تھے،‏ لیکن بعد میں اِسی اِسرائیلی قوم کو شریعت کے ماتحت کر دیا گیا۔ اِسی طرح اگرچہ شروع میں گلتیوں کو ایمان سے نجات ملی،‏ مگر اب ضرور ہے کہ وہ شریعت کی تعمیل کریں۔ پولس یہ جواب دیتا ہے کہ یہ وعدے ابرہام اور اُس کی نسل (‏واحد)‏ سے کئے گئے تھے۔ نسل یا تخم بعض اوقات ہجوم یا بڑے گروہ کو بھی ظاہر کرتا ہے،‏ لیکن یہاں یہ صرف ایک شخص یعنی مسیح کو ظاہر کرتا ہے۔ (‏پرانا عہدنامہ پڑھتے ہوئے شاید ہم بھی کبھی اِس مفہوم کو نہ دیکھ سکیں۔ لیکن خدا کا روح ہمیں روشن کرتا ہے)‏۔

۳:‏ ۱۷ابرہام کے ساتھ خدا کا وعدہ غیر مشروط تھا۔ اُس کا اِنحصار اعمال پر قطعا نہیں تھا۔ خدا نے صرف یہ عہد کیا کہ وہ ابرہام کو ایک نسل (‏مسیح)‏ دے گا۔ اگرچہ ابرہام کے کوئی اولاد نہ تھی مگر اُس نے خدا کا یقین کیا،‏ اِس طرح آنے والے مسیح پر بھی ایمان لایا اور اُسے راست باز ٹھہرایا گیا۔ شریعت __ چار سو تیس برس کے بعد آئی۔ یہ شریعت کسی طرح بھی اِس عہد پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ نہ اِس عہد کو باطل / منسوخ کر سکتی ہے،‏ نہ اِس میں کسی شرط کا اضافہ کر سکتی ہے۔

چار سو تیس برسوں کا حساب اُس وقت سے لگایا جاتا ہے جب خدا نے ابرہام کے ساتھ عہد کی یعقوب کے ساتھ توثیق کی اور جب یعقوب مصر میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا تھا (‏پیدائش ۴۶:‏ ۱-‏۴)‏اور میعاد اُس وقت تک چلتی ہے جب خروج کے کوئی تین ماہ بعد شریعت دی گئی۔

۳:‏ ۱۸ میراث یا تو ایمان کے وسیلے سے ملے گی یا اعمال کے وسیلے سے۔ دونوں طرح نہیں ہو سکتی۔ پاک کلام بالکل واضح کرتا ہے کہ یہ ابرہام کو غیر مشروط وعدہ کے وسیلے سے دی گئی تھی __ یہی حال نجات کا ہے۔ یہ بھی غیر مشروط بخشش کی صورت میں پیش کی گئی ہے،‏ اِس کے لئے اعمال کا خیال بھی خارج از امکان ہے۔

ج۔ شریعت کا مقصد (‏۳:‏ ۱۹-‏۲۹)‏

۳:‏ ۱۹ «پس شریعت کیا رہی؟» یعنی شریعت کا مقصد کیا ہے؟ پولس کہتا ہے کہ شریعت نے ابرہام کے ساتھ خدا کے وعدے کو نہ تو منسوخ کیا نہ اُس میں کسی شرط کا اضافہ کیا۔ تو پھر شریعت کا مقصد کیا تھا؟ شریعت کا مقصد یہ تھا کہ گناہ کی اصلیت کو ظاہر کرے کہ گناہ «نافرمانی یا عدولِ حکم» ہے۔ گناہ تو شریعت سے پہلے بھی موجود تھا۔ لیکن اِنسان نے شریعت کے آنے تک نہ جانا،‏ نہ پہچانا کہ یہ عدولِ حکم ہے۔ عدولِ حکم کا مطلب ہے معلومہ حکم کی خلاف ورزی۔

شریعت گنہگاروں کی ایک قوم کو دی گئی تھی۔ وہ اِس پر عمل کر کے کبھی راست بازی حاصل نہ کر سکتی تھی،‏ کیونکہ اِس میں اُس کی تعمیل کرنے کی طاقت نہ تھی۔ شریعت کا مقصد اِنسانوں کو یہ دِکھانا تھا کہ ایسے گئے گزرے گنہگار ہو کہ تمہارے لئے کوئی اُمید نہیں تاکہ اِنسان خدا کو پکاریں کہ ہمیں اپنے فضل کے وسیلے سے بچا (‏نجات دے)‏۔ ابرہام کے ساتھ خدا کا عہد برکت کا ایک غیر مشروط وعدہ تھا۔ شریعت کا نتیجہ صرف لعنت نکلا۔ شریعت نے دکھا دیا کہ اِنسان غیر مشروط اور مفت برکت حاصل کرنے کے لائق نہیں۔ اگر اِنسان کو برکت ملنی ہے تو ضرور ہے کہ خدا کے فضل سے ملے۔

وہ نسل مسیح ہے۔ چنانچہ شریعت مسیح کے آنے تک ایک عارضی اِنتظام کے طور پر دی گئی۔ موعودہ ابراہیمی برکت اُس (‏مسیح)‏ کے وسیلے سے ملنی تھی۔ جب دو فریقوں کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے تو ایک «درمیانی» کی ضرورت ہوتی ہے۔ شریعت میں بھی وعدہ / معاہدہ کرنے والے دو فریق تھے__ خدا اور اِسرائیل۔ موسیٰ نے درمیانی کا کردار ادا کیا (‏اِستثنا ۵:‏۵)‏۔ فرشتے ایلچی یا پیغام بر تھے جنہوں نے خدا کی شریعت موسیٰ کو پہنچائی (‏اعمال ۷:‏ ۵۳؛ عبرانیوں ۲:‏ ۲)‏۔ موسیٰ اور فرشتوں کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ خدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ لوگ خدا کی حضوری میں آنے کے لائق نہ تھے۔ یہ نالائقی وہ فاصلہ تھی۔

۳:‏ ۲۰ اگر معاہدہ کرنے والا صرف ایک فریق ہوتا،‏ اور وہ غیر مشروط وعدہ کرتا،‏ دوسرے فریق سے کوئی مطالبہ نہ کرتا تو درمیانی کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ یہ حقیقت کہ شریعت کے لئے ایک درمیانی کی ضرورت تھی دلالت کرتی ہے کہ اِنسان کو عہد کے اپنے حصے پر کاربند رہنا اور اُسے پورا کرنا چاہئے۔ یہ شریعت کی کمزوری تھی۔ وہ اُن لوگوں سے فرماں برداری کا مطالبہ کرتی ہے جن میں فرماں برداری کی طاقت ہی نہیں۔ جب خدا نے ابرہام سے یہ وعدہ کیا تو وہ وعدہ کرنے والا اکیلا فریق تھا۔ یہ اِس وعدے کی خوبی ہے۔ ہر بات کا اِنحصار خدا پر تھا۔ اِنسان پر کسی بات کا اِنحصار نہ تھا۔ کوئی درمیانی ۳؎نہ تھا،‏ کیونکہ درمیانی کی ضرورت ہی نہ تھی۔

۳:‏ ۲۱ کیا شریعت نے اُن وعدوں کو ایک طرف ہٹا دیا،‏ یا اُن کی جگہ خود لے لی؟ «ہرگز نہیں!» اگر کوئی ایسی شریعت دینا ممکن ہوتا جس سے اِنسان وہ کاملیت حاصل کر سکتا جس کا تقاضا خدا کرتا ہے تو پھر نجات یقینا شریعت کے اعمال سے ہوتی۔ اگر خدا یہی مقصد کسی سستے طریقے سے حاصل کر سکتا تو پھر اپنے عزیز بیٹے کو گنہگاروں کی خاطر مرنے کو نہ بھیجتا۔ لیکن شریعت کے دَور میں یہ بات کثرت سے ظاہر ہوئی کہ وہ گنہگاروں کو نہیں بچا سکتی۔ اِن معنوں میں شریعت جسم کے سبب سے کمزور (‏رومیوں ۸:‏ ۳)‏تھی۔ شریعت صرف اِتنا ہی کر سکتی تھی کہ اِنسان کو دکھا دے کہ تمہاری حالت کتنی مایوس کن ہے۔ تمہارے لئے کوئی اُمید نہیں۔ اور کہ نجات صرف خدا کے مفت فضل ہی سے مل سکتی ہے۔

۳:‏ ۲۲ پرانا عہدنامہ ثابت کرتا ہے کہ تمام اِنسان گنہگار ہیں۔ اُن میں وہ بھی شامل ہیں جو شریعت کے ماتحت ہیں۔ ضروری تھا کہ اِنسان گناہ کے بارے میں پورے طور پر قائل ہو جائے «تاکہ وہ وعدہ جو یسوع مسیح پر ایمان لانے پر موقوف ہے ایمان داروں کے حق میں پورا کیا جائے۔» یہ وعدہ نجات کا وعدہ ہے۔ آیت ۲۲ میں کلیدی الفاظ ہیں «ایمان»،‏ «پورا کیا جائے» اور «ایمان داروں»۔ یہاں کرنے یعنی اعمال یا شریعت کی تعمیل کا ذکر تک نہیں۔

۳:‏ ۲۳ یہاں «ایمان» مسیحی ایمان ہے۔ یہ اُس دَور کا بیان کرتا ہے جو خداوند یسوع کی موت،‏ تدفین،‏ جی اُٹھنے اور آسمان پر جانے اور پنتکست پر خوش خبری کی منادی کرنے سے شروع ہوا۔ اِس سے پیشتر یہودی قوم کی نگہبانی ہوتی تھی جیسے کسی کو قید خانے یا حفاظت میں رکھا جاتا ہے۔ اُن کے ارد گرد شریعت کے تقاضوں کی باڑ تھی۔ اور چونکہ وہ اِن تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے تھے اِس لئے وہ نجات کے لئے ایمان کی راہ اِختیار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ جو لوگ شریعت کے ماتحت تھے اُس وقت تک (‏اُسی کے)‏ پابند رہے جب تک خوش خبری میں شریعت کے بندھن سے چھٹکارے کی مبارک خبر کا اعلان نہ ہوا۔

۳:‏ ۲۴ یہاں شریعت کی یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ گویا وہ بچوں کا سرپرست اور راہنما یا اُستاد ۴؎ ہے۔ یہ بات تعلیم دینے / پڑھانے کے خیال پر زور دیتی ہے۔ شریعت خداکی پاکیزگی،‏ اِنسان کی گناہ آلودگی،‏ کفارے کی ضرورت وغیرہ کے اَسباق سکھاتی تھی۔ یہاں یہ لفظ ایسے شخص کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے جو نابالغ یا ناپختہ فرد کی عام نگہداشت اور تربیت کرتا ہے۔

«پہنچانے کو۔» اصل زبان میں یہ لفظ موجود نہیں،‏ بلکہ مترجمین نے مفہوم کی وضاحت کے لئے استعمال کئے ہیں۔ اگر ہم اِن کو چھوڑ دیں تو یہ آیت یہ معانی دیتی ہے کہ شریعت مسیح تک یہودی سرپرست تھی یعنی مسیح کے آنے تک۔ یا مسیح کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے سرپرست تھی۔ ایک لحاظ سے شریعت نے بیاہ شادی،‏ جائیداد اور ملکیت اور کھانے پینے وغیرہ کے ضابطوں کے ذریعے سے بنی اِسرائیل کو ایک اِمتیازی قوم کی حیثیت سے بچائے رکھا۔ جب ایمان آیا تو اِس کا اعلان سب سے پہلے اُسی قوم کے سامنے کیا گیا جس کو صدیوں سے معجزانہ طور پر محفوظ رکھا گیا تھا۔ ایمان سے راست باز ٹھہرائے جانے کے وعدے کی بنیاد فدیہ دینے والے مسیح کا وہ کام ہے جو اُس نے پورا کیا۔

۳:‏ ۲۵ شریعت اُستاد ہے۔ مگر جب مسیحی ایمان آ چکا تو ایمان لانے والے یہودی اب شریعت کے ماتحت نہ رہے تو گلتیوں جیسی غیر قومیں جو کبھی بھی اُستاد کے ماتحت نہ تھیں وہ اب کیسے شریعت کے ماتحت ہو سکتی ہیں؟ آیت ۲۴ سکھاتی ہے کہ اِنسان شریعت سے راست باز نہیں ٹھہرتا۔ آیت ۲۵ سکھاتی ہے کہ جو راست باز ٹھہرایا جا چکا ہے اُس کے لئے شریعت زندگی کا دستور العمل نہیں ہو سکتی۔

۳:‏ ۲۶ اِسمِ ضمیر «ہم» کو چھوڑ کر «تم» کے استعمال پر غور کریں۔ ہم کے ساتھ وہ یہودیوں کی بات کر رہا تھا۔ اُس نے ثابت کیا ہے کہ مسیح کی آمد تک یہودیوں کو شریعت کے ماتحت رکھا گیا۔ شریعت نے اُن کو ایک الگ قوم کی حیثیت سے قائم رکھا جن کےسامنے ایمان سے راست باز ٹھہرائے جانے کی منادی کرنا تھی۔ جب وہ راست باز ٹھہرائے جا چکے تو شریعت کے ماتحت نہ رہے اور بطور یہودی اُن کی الگ یا اِمتیازی حیثیت بھی ختم ہو گئی۔ یہاں سے باب کے آخر تک اِسم ضمیر «تم» میں نجات یافتہ یہودی اور نجات یافتہ غیر قوم دونوں شامل ہیں۔ یہ لوگ سب اُس ایمان کے وسیلے سے جو مسیح یسوع میں ہے خدا کے فرزند ہیں۔

۳:‏ ۲۷ جب کوئی اِنسان مسیح پر ایمان لاتا ہے تو اُس کے ساتھ ایک ہو جاتا ہے۔ اِس ایک ہونے کا اِقرار پانی کے بپتسمے سے ہوتا ہے۔ یہ بپتسمہ کسی شخص کو نہ مسیح کا عضو بناتا ہے نہ خدا کی بادشاہی کا وارث۔ یہ مسیح کے مشابہ ہونے کا علانیہ نشان ہے جسے پولس «مسیح کو پہننا» کہتا ہے۔ جس طرح ایک فوجی وردی کے پہننے سے اعلان کرتا ہے کہ مَیں فوج کا رُکن ہوں،‏ اُسی طرح ایک ایمان دار پانی کا بپتسمہ لے کر اعلان کرتا ہے کہ مَیں مسیح کا ہوں۔ اِس عمل سے وہ مسیح کی قیادت اور اِختیار کے تابع ہونے کا علانیہ اقرار کرتا ہے۔ وہ ظاہرا طور پر دِکھاتا ہے کہ مَیں خدا کا فرزند ہوں۔

یہ یقینی بات ہے کہ یہاں پولس رسول ہرگز یہ تعلیم نہیں دے رہا ہے کہ پانی کا بپتسمہ کسی شخص کو مسیح کے ساتھ پیوستہ کر دیتا ہے۔ اِس طرح تو اِس بنیادی دعوے کی تردید ہو جاتی ہے کہ نجات صرف ایمان سے ہے۔

مزید برآں یہاں پولس روح کے بپتسمے کی طرف بھی اشارہ نہیں کر رہا۔ روح کے بپتسمے کے باعث ایمان دار کو مسیح کے بدن میں شریک کیا جاتا ہے (‏۱۔کرنتھیوں ۱۲:‏ ۱۳)‏۔ روح القدس کا بپتسمہ نادیدنی ہوتا ہے۔ اُس میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو مسیح کو علانیہ پہن لینے سے مطابقت رکھتی ہو۔

یہ بپتسمہ مسیح «میں» ہے۔ اِس سے ایمان دار ظاہر کرتا ہے کہ یہی مسیح میرا مالک اور خداوند ہے۔

بپتسمہ لینے سے ایمان دار اِس بات کا بھی اِظہار کرتا ہے کہ مَیں راست بازی حاصل کرنے کے سلسلے میں جسم کی کوششوں کے اعتبار سے دفن ہوا۔ وہ زندگی کے پرانے طریق کے خاتمے اور نئے طریق کے آغاز کا اظہار بھی کرتا ہے۔ پانی کا بپتسمہ لے کر گلتیوں نے اِقرار کیا کہ ہم مسیح کے ساتھ مر گئے اور اُس کے ساتھ دفن ہوئے۔ جس طرح مسیح شریعت کے اعتبار سے مر گیا،‏ اُسی طرح وہ بھی شریعت کے اعتبار سے مر گئے۔ اور اَب وہ شریعت کے ماتحت نہیں،‏ نہ شریعت اُن کے لئے زندگی کا دستور العمل رہی۔ جس طرح مسیح نے اپنی موت کے وسیلے سے یہودی اور غیر قوم کا فرق مٹا دیا،‏ اُسی طرح وہ قومی اِمتیاز کے اعتبار سے مر گئے۔ اُنہوں نے مسیح کو پہن لیا یعنی اب بالکل نئی زندگی __مسیح کی زندگی __گزارتے ہیں۔

۳:‏ ۲۸ شریعت اِن طبقوں کے درمیان اِمتیاز رکھتی تھی۔ مثال کے طور پر اِستثنا ۷:‏ ۶ اور ۱۴:‏۱،‏ ۲ میں یہودی اور غیر قوم کے درمیان فرق پر خاص زور دیا گیا ہے۔ اپنی صبح کی دعا میں ایک یہودی مرد کہتا تھا کہ « مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تُونے مجھے غیر قوم یا غلام یا عورت نہیں بنایا۔» جہاں تک خدا کی نظر میں مقبولیت کا تعلق ہے «مسیح یسوع میں» یہ اِمتیازات ختم ہو جاتے ہیں۔ نہ یہودی کو غیر قوم پر،‏ نہ آزاد کو غلام پر اور نہ مرد کو عورت پر کوئی ترجیح یا فوقیت دی جاتی ہے۔ سب ایک ہی سطح پر ہیں اِس لئے کہ «مسیح یسوع میں» ہیں۔

اِس آیت سے وہ معانی اخذ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے جو اِس میں نہیں ہیں۔ جہاں تک روزمرہ زندگی کا تعلق ہے (‏خاص طور سے کلیسیا میں علانیہ خدمت کا)‏ خدا مرد اور عورت میں ضرور تمیز کرتا ہے۔ نئے عہدنامے میں ہر دو کے لئے ہدایات موجود ہیں۔ اور مالکوں اور غلاموں سے بھی نیا عہدنامہ الگ الگ مخاطب ہوتا ہے۔ لیکن خدا سے برکت پانے میں یہ باتیں ہرگز کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ بڑی بات تو مسیح یسوع میں ہونا ہے،‏ (‏اِس کا تعلق ہماری زمینی حالت سے نہیں بلکہ آسمانی حیثیت سے ہے)‏۔ خدا کے حضور میں ایک ایمان دار یہودی ایک ایمان لانے والے غیر قوم سے ذرہ بھر اعلیٰ درجہ نہیں رکھتا! گووٹ (‏Govett)‏کہتا ہے:‏ «شریعت کے پیدا کردہ سارے اِمتیازات اُس قبر کا لقمہ بن گئے ہیں جو خدا نے مہیا کی ہے۔» چنانچہ یہ مسیحیوں کی کیسی بڑی بے وقوفی ہے کہ وہ اِمتیازات کے وسیلے سے مزید پاکیزگی ڈھونڈنے کی کوشش کریں جب کہ مسیح نے سارے اِمتیازات ختم کر دیئے ہیں۔

۳:‏ ۲۹ گلتی اِس بہکاوے میں تھے کہ شریعت کی پابندی کر کے ابرہام کی نسل بن سکتے ہیں۔ پولس کچھ اَور ہی ثابت کرتا ہے۔ مسیح ابرہام کی نسل ہے۔ جس میراث کا وعدہ ابرہام سے کیا گیا تھا وہ مسیح میں پوری ہوئی۔ جب گنہگار اس پر ایمان لاتے ہیں تو اُس کے ساتھ ایک ہو جاتے ہیں اور اِس طرح وہ ابرہام کی نسل بن جاتے ہیں اور مسیح میں خدا کی ساری برکتیں میراث میں پاتے ہیں۔

د۔ بچے اور بیٹے (‏۴:‏ ۱-‏۱۶)‏

۴:‏ ۱،‏۲یہاں ایک مالدار باپ کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ باپ ارادہ رکھتا ہے کہ جب بیٹا بالغ ہو گا تو سارے مال و دولت کا اِختیار اُس کو سونپ دے گا۔ لیکن یہ وارث جب تک بچہ ہے اُس کی حیثیت ایک غلام جیسی ہوتی ہے۔ اُس کو ہر وقت کہا جاتا ہے یہ کرو،‏ وہ نہ کرو۔ اُس کے اوپر مختاروں کو مقرر کیا جاتا ہے جو جائیداد کا بندوبست کرتے ہیں اور سرپرستوں کو مقرر کیا جاتا ہے جو اُس کی ذات کے اِنتظامات کرتے ہیں۔ اِس طرح اگرچہ ساری وراثت یقینا ً اُسی کی ہے،‏ لیکن وہ اُس میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوتا جب تک بالغ نہ ہو جائے۔

۴:‏ ۳ یہی حال شریعت کے ماتحت یہودیوں کا تھا۔ وہ بچے تھے اور شریعت اُن کو غلاموں کی طرح حکم دیتی تھی۔ وہ دُنیوی اِبتدائی باتوں کے پابند تھے یعنی اُن کو یہودی مذہب کے اِبتدائی اُصولوں پر چلنا پڑتا تھا۔ یہودیت کے شعائر اور رسمیں اُن کے لئے بنائی گئی تھیں جو خدا باپ کو اُس طرح نہیں جانتے تھے جیسے وہ مسیح میں ظاہر کیا گیا ہے۔ اِس کی مثال اُس بچے کی سی ہے جو تصویروں کی مدد سے مختلف چیزوں کی پہچان کرنا سیکھ رہا ہے۔ شریعت تو عکسوں اور تصویروں سے بھری ہوئی ہے اور خارجی چیزوں کی مدد سے روحانی سبق سکھانا چاہتی تھی۔ ختنہ اِسی کی ایک مثال ہے۔ یہودیت جسمانی،‏ خارجی اور عارضی تھی۔ مسیحیت روحانی،‏ باطنی اور دائمی ہے۔ یہ خارجی باتیں بچوں کے لئے بندھن تھیں۔

۴:‏ ۴«جب وقت پورا ہو گیا۔» یہ خدا کا مقرر کردہ وہ وقت ہے جب وارثوں کو بالغ ہونا تھا (‏دیکھئے آیت ۲)‏۔

اِس آیت میں چند لفظوں میں نجات دہندہ کی اُلوہیت اور بشریت کا حیرت ناک بیان ہوا ہے۔ وہ خدا کا ازلی بیٹا ہے تو بھی عورت سے پیدا ہوا۔ اگر یسوع صرف بشر ہوتا تو یہ کہنا بلاوجہ ہوتا کہ وہ عورت سے پیدا ہوا۔ جو شخص محض بشر ہے وہ اَور کس طرح پیدا ہو سکتا تھا؟ مسیح خداوند کے معاملے میں یہ الفاظ اُس کی یکتا ذات اور پیدا ہونے کے یکتا انداز کی گواہی دیتے ہیں۔

وہ دُنیا میں ایک اِسرائیلی پیدا ہوا اِس لئے شریعت کے ماتحت پیدا ہوا۔ خدا کا بیٹا ہونے کی حیثیت میں خداوند یسوع کبھی شریعت کے ماتحت نہ ہوتا۔ اُسی نے تو شریعت دی تھی۔ لیکن اُس نے اپنے بڑے فضل سے اِنکساری اِختیار کی اور اُس شریعت کے ماتحت ہو گیا جو اُس نے خود بنائی تھی،‏ تاکہ اپنی زندگی میں اِس کو عظمت دے اور اپنی موت میں اِس کی لعنت کو اُٹھا لے۔

۴:‏ ۵جو لوگ شریعت کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں،‏ شریعت اُن سے ایک قیمت مانگتی ہے __ اور یہ قیمت ہے موت۔ اِس سے پیشتر کہ خدا اِنسانوں کو فرزندیت کا عجیب درجہ دے سکتا اِس قیمت کی ادائیگی ضروری تھی۔ اِس لئے خداوند اِنسانی نسل کا ایک رُکن اور یہودی قوم کا ایک فرد بن کر اِس دُنیا میں آیا اور وہ قیمت ادا کی جس کا تقاضا شریعت کرتی تھی۔ چونکہ وہ خدا ہے اِس لئے اُس کی موت کی افادیت لامحدود ہے،‏ اور لامحدود اور لاتعداد گنہگاروں کی قیمت ادا کرنے کو کافی ہے اور چونکہ وہ بشر ہے اِس لئے اِنسانوں کا عوضی بن کر مر سکا۔گووٹ (‏Godet)‏ کہتا ہے،‏ «مسیح جو ابنِ خدا ہے،‏ وہ ابنِ آدم بن گیا تاکہ ہم جو آدم کے فرزند ہیں خدا کے فرزند بن جائیں۔ کیسا عجیب مبادلہ ہے!»

جب تک اِنسان غلام تھے وہ بیٹے نہیں ہو سکتے تھے۔ مسیح نے اُن کو شریعت کی ماتحتی سے چھڑایا تاکہ اُن کو «لے پالک ہونے کا درجہ» ملے __ وہ بیٹے بن جائیں۔ غور کریں کہ خدا کا بچہ بننے اور خدا کا بیٹا بننے میں فرق ہے (‏مقابلہ کریں رومیوں ۸:‏۱۴،‏ ۱۶)‏۔ ایمان دار خدا کے خاندان میں بچے کی حیثیت (‏دیکھئے یوحنا ۱:‏ ۱۲)‏میں جنم لیتا ہے۔ یہاں زور روحانی پیدائش کی حقیقت پر ہے،‏ فرزندیت کے اِستحقاق اور ذمہ داریوں پر نہیں۔ ایمان دار کو لے پالک بیٹے کی حیثیت میں خاندان میں شامل کیا جاتا ہے۔ ہر مسیحی فوراً بیٹا بن جاتا ہے اور اُس میراث میں داخل ہوتا ہے جس کا وہ وارث ہے۔ اِس لئے نئے عہدنامے میں مسیحیوں کے لئے جو ہدایات ہیں اُن میں نابالغی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ سب کے ساتھ بالغ بیٹوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔

رومی معاشرے میں «لے پالک» بنانا ہمارے موجودہ زمانے سے مختلف ہوتا تھا۔ لے پالک سے ہم یہ مفہوم لیتے ہیں کہ کسی دوسرے کے بچے کو لے کر اپنا بچہ بنا لینا۔ لیکن نئے عہدنامے میں اِس کا مطلب ہے ایمان داروں کو بالغ بیٹوں کا درجہ دینا،‏ اور اِس درجے کے مطابق اُن کے تمام حقوق اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا۔

۴:‏ ۶ ضرور ہے کہ خدا کے بیٹے اپنی حیثیت کی عظمت اور وقار کو جانیں۔ اِس مقصد کے لئے خدا نے پنتکست پر پاک روح کو بھیجا کہ اُن کے دلوں میں سکونت کرے۔ روح فرزندیت کا شعور پیدا کرتا ہے اور پھر مقدس خدا کو ابا یعنی اے باپ! کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ «ابا» باپ کو مخاطب کرنے کا ایک عام لفظ ہے جس سے ہم سب مانوس ہیں۔ ارامی میں بھی ابا ہی بولتے تھے۔ کوئی غلام کسی سربراہِ خاندان کو کبھی اِس طرح مخاطب نہیں کر سکتا۔ یہ صرف خاندان کے افراد کے لئے مخصوص ہے۔ اِس سے محبت اور اِعتماد کا اِظہار ہوتا ہے۔ اِس آیت میں تثلیث پر غور کریں:‏ بیٹا،‏ روح اور باپ __ اِسی ترتیب میں۔

۴:‏ ۷ اب ایمان دار غلام نہیں رہتا۔ اب وہ خدا کا بیٹا ہے۔ چونکہ خدا کا بیٹا ہوتے ہوئے مسیح اُس کی ساری دولت کا وارث ہے،‏ اِس لئے مسیحی بھی «خدا کے وسیلے سے وارث … ہوا»۔ جو کچھ بھی خدا کا ہے وہ ایمان کے وسیلے سے مسیحی کا بھی ہے۔

آج کل اِسرائیل میں ربیوں کے سکولوں میں کسی طالب علم کو سلیمان کی غزل الغزلات یا حزقی ایل کا پہلا باب اُس وقت تک پڑھنے کی اِجازت نہیں جب تک وہ عمر میں چالیس برس کا نہ ہو جائے۔ غزل الغزلات کو نوجوان ذہن کے لئے بے حد شہوانی سمجھا جاتا ہے۔ اور حزقی ایل باب ۱ میں ناقابلِ بیان خدا کے جلال کا بیان ہے۔ تالمود میں بیان ہوا ہے کہ چالیس برس سے کم عمر کے ایک شخص نے حزقی ایل کا پہلا باب پڑھنا شروع کیا تو صفحے میں سے آگ نکل کر اُس کو بھسم کر گئی۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص شریعت کے ماتحت ہے اُس کو چالیس برس کی عمر سے پہلے بالغ آدمی نہیں سمجھا جاتا تھا (‏تیرہ برس کی عمر میں «مشہور بار مزوہ» (‏bar-‏mitzvah)‏ کی رسم کے باعث ایک یہودی لڑکا صرف عہد کا فرزند بنتا ہے۔ اِس طرح وہ شریعت کا پابند ہو جاتا ہے)‏۔

لیکن ایمان دار فضل کے ماتحت ہیں۔ اِس لئے اُن کا یہ حال نہیں۔ جس لمحہ وہ نجات پاتے ہیں پوری میراث اُن کی ہو جاتی ہے۔ اُن کے ساتھ بالغ بیٹے/ بیٹی کا سلوک کیا جاتا ہے۔ پوری کی پوری بائبل اُن کی ہو جاتی ہے۔ اِسے پڑھیں،‏ اِس سے لطف اندوز ہوں اور اِس کی فرماں برداری کریں۔

اِن حقائق کی روشنی میں ہیریسن (‏Harrison)‏ کی نصیحت نہایت موزوں ہے:‏

«اے اُس کی محبت کے فرزند،‏ ساری چیزیں تمہاری ہیں __ وہ ۱۔کرنتھیوں ۳:‏ ۲۲،‏ ۲۳ میں تمہیں یہ بتاتا ہے تاکہ تمہارا یہ احساس بیدار ہو کہ وہ دولت تمہاری ہے جو تصور میں نہیں آ سکتی،‏ جو سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ کائنات پر غور کرو کہ کس کی ہے __ صرف اُس (‏مسیح)‏ کی اور تمہاری __ چنانچہ شاہانہ زندگی گزارو۔»

۴:‏ ۸ کوئی وقت تھا کہ گلتی بتوں کے غلام تھے۔ ایمان لانے سے پہلے وہ بے دین تھے اور پتھر اور لکڑی کے بتوں یعنی جھوٹے معبودوں کو پوجتے تھے۔ اب وہ ایک اَور قسم کی غلامی کی طرف جا رہے تھے یعنی شریعت کی غلامی۔

۴:‏ ۹ اب وہ اپنے رویے کے لئے کیا عذر پیش کر سکتے تھے؟ اب اُنہوں نے خدا کو پہچانا یعنی جان لیا تھا۔ اور اگر وہ گہرے تجربے کے لحاظ سے اُس کو نہیں جانتے تھے تو کم سے کم خدا نے اُن کو پہچانا یعنی جان لیا تھا۔ مراد یہ ہے کہ وہ نجات پا چکے تھے۔ مگر اب وہ اُس کی قدرت اور دولت (‏جس کے وہ وارث ہیں)‏ سے ہٹ کر «ضعیف اور نکمی» باتوں کی طرف رجوع کر رہے تھے۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کا تعلق شریعت سے ہے جیسے ختنہ،‏ مقدس دن اور کھانے پینے کے ضابطے وغیرہ۔ وہ خود کو دوبارہ اُن باتوں کی غلامی میں دے رہے تھے جو نہ نجات دے سکتی ہیں نہ دولت مند بنا سکتی ہیں،‏ بلکہ صرف غریب بنا سکتی ہیں۔

پولس شریعت اور اِس کی ساری رسموں کو ضعیف اور نکمی قرار دیتا ہے۔ اپنے زمانے اور مقام میں خدا کے آئین و قوانین خوبصورت تھے،‏ لیکن اگر ان کو خداوند یسوع کا متبادل بنا لیا جائے تو زبردست رکاوٹ تھے۔ مسیح کو چھوڑ کر شریعت کی طرف رجوع کرنا ہرگز مناسب نہیں۔

۴:‏ ۱۰،‏۱۱ گلتیہ کے ایمان دار یہودی سبتوں،‏ تہواروں اور مقررہ وقتوں کو مانتے تھے۔ پولس اُن کے لئے ڈر کا اِظہار کرتا ہے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کوشش یہ کرتے ہیں کہ شریعت کی پابندی سے خدا کی نظر میں مقبول ٹھہریں۔

«دنوں اور مہینوں اور مقررہ وقتوں اور برسوں کو» تو وہ لوگ بھی مان سکتے ہیں جن کو نئی پیدائش کا تجربہ نہیں ہوا۔ بعض لوگوں کو اِس بات سے بہت تسلی ہوتی ہے کہ خدا کو خوش کرنے کے لئے کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو ہم اپنی طاقت سے کر سکتے ہیں۔ مگر اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اِنسان میں کچھ طاقت بھی ہے،‏ اور اِس لئے اِس حد تک اُسے نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔

اگر پولس گلتیوں کو اِس طرح لکھ سکتا ہے تو آج کے دَور میں اُن کو کیا لکھے گا جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر پاکیزگی،‏ شریعت کے رسوم و شعائر کے وسیلے سے ڈھونڈتے ہیں؟ کیا وہ اُن روایتوں کی مذمت نہیں کرے گا جو یہودیت سے مسیحیت میں لائی گئی ہیں،‏ مثلاً اِنسانوں کی طرف سے مقرر پاسٹروں کے لئے اِمتیازی پوشاک،‏ سبت کی پابندی،‏ پاک مقامات،‏ موم بتیاں،‏ پاک پانی وغیرہ۔

۴:‏ ۱۲ لگتا ہے کہ گلتی بھول گئے تھے کہ جب پولس نے اُنہیں پہلی خوش خبری سنائی تھی توکتنے شکرگزار تھے۔ مگر وہ اُن کو «اے بھائیو!» کہہ کر مخاطب کرتا ہے،‏ حالانکہ وہ غلط راہ پر چلنے لگے تھے اور اُسے اُن کے بارے میں خدشات تھے۔ ایک وقت تھا کہ پولس بھی شریعت کے ماتحت تھا۔ لیکن اب مسیح میں وہ شریعت سے آزاد تھا۔ اِس لئے وہ کہتا ہے کہ «میری مانند ہو جائو» یعنی شریعت سے آزاد زندگی شریعت کے ماتحت نہیں۔ غیر قوم گلتی تو کبھی بھی شریعت کے ماتحت نہ تھے اور اَب بھی نہ تھے۔ چنانچہ رسول کہتا ہے «کیونکہ مَیں بھی تمہاری مانند ہوں۔» مَیں جو کہ یہودی ہوں،‏ اب شریعت سے آزادی کے مزے اُڑاتا ہوں،‏ اور تم جو غیر قوم ہو،‏ تم بھی شریعت سے آزاد تھے۔

«تم نے میرا کچھ بگاڑا نہیں۔» یہ واضح نہیں ہوتا کہ پولس کے ذہن میں کیا بات تھی۔ شاید کہہ رہا ہے کہ تم نے مجھ سے جو سلوک کیا ہے،‏ مَیں ذاتی طور پر اُس پر ناراض نہیں۔ وہ اُسے چھوڑ کر جھوٹے اُستادوں کے پیچھے لگ گئے تھے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ بات میرے لئے ذاتی طور پر ایسے صدمے کی بات نہیں۔ مگر یہ خدا کی سچائی پر بڑی چوٹ ہے اور اِس لئے خود اُن کے لئے باعث ِنقصان ہے۔

۴:‏ ۱۳ مَیں نے پہلی دفعہ جسم کی کمزوری ۵؎کے سبب سے تم کو خوش خبری سنائی تھی۔ خدا اکثر کمزور اور حقیر کو استعمال کرتا ہے،‏ تاکہ جلال اور تمجید اِنسان کی نہیں بلکہ خود اُس کی ہو۔

۴:‏ ۱۴ پولس کی بیماری خود اُس کے لئے اور اُس کے سننے والوں کے لئے آزمائش تھی۔ مگر گلتیوں نے ظاہری شکل و شباہت یا اُس کے بولنے کی کمزوری کے باعث اُس کو رد نہیں کیا،‏ بلکہ اُس کو «خدا کے فرشتہ …کی مانند» یعنی خدا کے بھیجے ہوئے ایلچی کی مانند __ «بلکہ مسیح یسوع کی مانند» قبول کیا تھا۔ چونکہ وہ خداوند کی نمائندگی کرتا تھا اِس لئے گلتیوں نے اُسے ایسے قبول کیا جیسے وہ خود خداوند کو قبول کرتے (‏متی ۱۰:‏ ۴۰)‏۔ یہ بات سارے مسیحیوں کے لئے ایک سبق ہونی چاہئے کہ وہ خدا کا پیغام لانے والوں سے کیسے پیش آتے ہیں۔ جب ہم اُن کو تپاک سے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں تو مسیح کو بھی اِسی طرح قبول کرتے ہیں (‏لوقا ۱۰:‏ ۱۶)‏۔

۴:‏ ۱۵جب گلتیوں نے پہلے پہل خوش خبری سنی تھی تو تسلیم کیا تھا کہ یہ ہماری روحوں کے لئے بڑی برکت ہے۔ وہ اِتنے خوش اور احسان مند تھے کہ اپنی آنکھیں بھی نکال کر پولس کو دے دینے پر تیار تھے (‏اِس سے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ پولس کے جسم میں کانٹا آنکھوں کی کوئی بیماری تھی)‏۔ لیکن اب وہ احسان مندی کے جذبات کہاں گئے؟ بدقسمتی سے غائب ہو گئے تھے۔

۴:‏ ۱۶ پولس کے بارے میں اُن کے رویے میں تبدیلی کی وجہ کیا تھی؟ وہ تو اببھی اُسی خوش خبری کی منادی کرتا تھا اور اُس کی سچائی کو ثابت کرنے میں کوشاں رہتا تھا۔ اگر اِس وجہ سے گلتی پولس کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں،‏ تو اُن کی حالت واقعی خطرناک ہے۔

ہ۔ غلامی یا آزادی (‏۴:‏۱۷-‏۵:‏۱)‏

۴:‏ ۱۷ جھوٹے اُستادوں کی نیت پولس سے بالکل فرق تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ اُن کے پیچھے لگ جائیں۔ جب کہ پولس گلتیوں کی روحانی فلاح و بہبود کا خواہاں تھا (‏۴:‏ ۱۷-‏۲۰)‏۔ جھوٹے اُستاد پورے جوش و خروش سے کوشش کرتے تھے کہ گلتیوں کی محبت جیت لیں۔ لیکن اُن کی نیت نیک نہ تھی۔ پولس کہتا ہے،‏ «وہ تمہیں خارج کرانا چاہتے ہیں۔» یہ یہودیت نواز اُستاد گلتیوں کو پولس رسول اور دوسرے رسولوں سے دُور لے جانے کی کوشش میں تھے کہ اُن کے درمیان سارے تعلقات ختم ہو جائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ ہمارے پیچھے لگ جائیں۔ ہم الگ فرقہ قائم کر لیں،‏ جہاں ہمارا اِختیار مانا جائے۔ سٹاٹ خبردار کرتا ہے کہ «جب مسیحیت کو آئین و ضوابط کے بندھنوں میں جکڑ دیا جاتا ہے تو اِس کے شکار لامحالہ غلام بن جاتے ہیں اور اپنے اُستادوں کے مطیع بنے پھرتے ہیں،‏ جیسا کہ قرونِ وسطیٰ میں کلیسیا کا حال تھا۔»

۴:‏ ۱۸ پولس کہتا ہے کہ مَیں بُرا نہیں مانتا کہ دوسرے تمہیں «دوست» بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بے شک میری غیر حاضری میں بھی ایسا کرتے رہیں،‏ لیکن اُن کی نیت تو نیک ہونی چاہئے۔ اُنہیں چاہئے کہ تم کو «نیک اَمر» میں دوست بنائیں (‏نہ کہ اپنی خود غرضی کی خاطر)‏۔

۴:‏ ۱۹ اے میرے بچو! گلتیوں کو اِس انداز میں مخاطب کر کے پولس یاد دلاتا ہے کہ وہ ہی تھا جس نے اُنہیں مسیح کے پاس آنے کی راہ دِکھائی تھی۔ اُن کی وجہ سے پولس کو پھر جننے کے سے درد لگے ہیں۔ اِس دفعہ اُس کو اُن کی نجات کی فکر نہیں بلکہ یہ کہ مسیح اُن میں صورت پکڑ لے۔ خدا کا خاص مقصد یہ ہے کہ اُس کے لوگ مسیح کے مشابہ ہوں (‏اِفسیوں ۴:‏ ۱۳؛ کلسیوں ۱:‏ ۲۸)‏۔

۴:‏ ۲۰ اِس آیت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ پولس کو گلتیوں کی روحانی حالت کے بارے میں شبہ تھا۔ اُن کے سچائی سے ہٹ جانے کے باعث پولس کو یہ شبہ ہونے لگا تھا۔ وہ چاہتا ہے کہ اب اُن کے ساتھ اَور طرح سے بات کرے۔ کاش اُسے اُن کے بارے میں شک کے بجائے تسلی ہوتی۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ شاید وہ اِس کے بارے میں حیران تھا کہ معلوم نہیں میرے خط پر اُن کا کیا ردِ عمل ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ اُن کے ساتھ شخصی طور پر رُوبرو بات کرے،‏ پھر وہ اَور طرح کے لب و لہجے کے ساتھ اپنی بات بہتر طور پر بتا سکے گا۔ اگر وہ اُس کی جھڑکی اور ملامت کو قبول کریں تو نرم لہجے میں،‏ لیکن اگر سرکش اور باغی ہوں تو سخت لہجے میں بات کرے گا۔ لیکن موجودہ حالات میں وہ اُن کے بارے میں پریشان ہے۔ کہہ نہیں سکتا کہ اُس کے پیغام پر اُن کا ردِ عمل کیا ہو گا۔

چونکہ یہودی اُستاد ابرہام کو بہت اہمیت دیتے اور اِصرار کرتے تھے کہ ایمان داروں کو ختنہ کرا کے اُس کے نمونے کی پیروی کرنی چاہئے،‏ اِس لئے پولس اُس کی خاندانی تاریخ بیان کر کے ثابت کرتا ہے کہ شریعت پرستی غلامی ہے اور اِس کو فضل کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔

خدا نے وعدہ کیا تھا کہ ابرہام کے بیٹا ہو گا حالانکہ وہ اور سارہ دونوں نہایت عمر رسیدہ تھے اور طبعی لحاظ سے اُن کے اولاد نہیں ہو سکتی تھی۔ ابرہام خدا پر ایمان لایا اور راست باز گِنا گیا (‏پیدائش ۱۵:‏ ۱-‏۶)‏۔ کچھ عرصے بعد سارہ موعودہ بیٹے کا اِنتظار کرتے کرتے بے حوصلہ ہو گئی اور مشورہ دیا کہ ابرہام اُس کی لونڈی کے پاس جائے تاکہ بیٹا پیدا ہو۔ ابرہام نے اُس کی صلاح مان لی جس کے نتیجے میں اسمٰعیل پیدا ہوا۔ اسمٰعیل وہ وارث نہیں تھا جس کا خدا نے وعدہ کر رکھا تھا،‏ بلکہ ابرہام کی بے صبری،‏ جسمانیت اور بھروسے کی کمی کا فرزند تھا (‏پیدائش باب ۱۶)‏۔

بعد میں جب ابرہام سو برس کا تھا تو وعدے کا فرزند اضحاق پیدا ہوا۔ صاف ظاہر ہے کہ اُس کی پیدائش معجزانہ تھی اور صرف خدا کی زبردست قدرت کے باعث واقع ہوئی (‏پیدائش ۲۱:‏ ۱-‏۵)‏۔ جب اضحاق کے دودھ چھڑانے کی رسم ادا ہوئی تو ضیافت میں سارہ نے دیکھا کہ اسمٰعیل اُس کے بیٹے کا مذاق اُڑا رہا ہے۔ اِس پر اُس نے ابرہام سے کہا کہ اسمٰعیل اور اُس کی ماں کو گھر سے نکال دے۔ اور کہا کہ «اِس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اضحاق کے ساتھ وارث نہ ہو گا» (‏پیدائش ۲۱:‏ ۸-‏ـ۱۱)‏۔ یہ اُس دلیل کا پس منظر ہے جو پولس اب دینے کو ہے۔

۴:‏ ۲۱ اِس آیت میں لفظ «شریعت» دو مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اوّل پاکیزگی حاصل کرنے کا وسیلہ،‏ دوم،‏ پرانے عہدنامے میں شریعت کی کتابیں (‏پیدائش تا اِستثنا)‏ خصوصاً پیدائش کی کتاب۔ پولس کہہ رہا ہے کہ تم جو شریعت کی پابندی کر کے خدا کی نظر میں مقبول ہونا چاہتے ہو مجھے بتائو «مجھ سے کہو» کیا تم شریعت کی کتاب کے پیغام کو نہیں سنتے؟

۴:‏ ۲۲،‏ ۲۳ «ابرہام کے دو» بیٹے اسمٰعیل اور اضحاق ہیں۔ «لونڈی» ہاجرہ «اور آزاد» عورت سارہ ہے۔ اِسمٰعیل تو ابرہام کی اپنی تدبیر سے پیدا ہوا تھا،‏ جب کہ اضحاق خدا کے «وعدے» سے ابرہام کو ملا تھا۔

۴:‏ ۲۴ اِن باتوں میں تمثیل پائی جاتی ہے۔ اِس میں گہرے معنی پائے جاتے ہیں۔ اِن واقعات کی حقیقی اہمیت واضح انداز میں بیان نہیں کی گئی۔ اِن کے مضمرات کی طرف اِشارہ کیا گیا ہے۔ اسمٰعیل اور اضحاق کی کہانی گہرے روحانی مطالب رکھتی ہے۔ اب پولس اِن کی وضاحت کرتا ہے۔

«یہ عورتیں گویا دو عہد ہیں۔» ہاجرہ شریعت کا عہد اور سارہ فضل کا عہد ہے۔ شریعت کوہِ سینا پر دی گئی تھی۔ عجیب اتفاق ہے کہ عربی زبان میں لفظ ہاجرہ __ حجر__کا مطلب چٹان (‏پتھر)‏ ہے اور اہلِ عرب کوہِ سینا کو چٹان کے نام سے پکارتے تھے۔

۴:‏ ۲۵ سینا پر دیئے گئے عہد سے غلامی پیدا ہوئی۔ اِس طرح وہ لونڈی ہاجرہ شریعت کی نہایت موزوں مثیل ہے۔ ہاجرہ یروشلیم کی نمائندگی کرتی ہے۔ یروشلیم یہودی قوم کا صدر مقام اور اُن سارے غیر نجات یافتہ اِسرائیلیوں کا مرکز ہے جو شریعت کی پابندی کے وسیلے سے راست بازی حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ اِسرائیلی اپنے لڑکوں یعنی اپنے پیروئوں سمیت غلامی میں ہیں۔ پولس نے غیر ایمان دار (‏یعنی جو مسیح پر ایمان نہیں لائے)‏ اِسرائیلیوں کو سارہ کے نہیں بلکہ ہاجرہ کے ساتھ،‏ اضحاق کے نہیں بلکہ اِسمٰعیل کے ساتھ ملایا ہے۔ اِس طرح وہ اُن کے نہایت چبھنے والے کردار کو پیش کرتا ہے۔

۴:‏ ۲۶ جو لوگ ایمان سے راست باز ٹھہرائے گئے ہیں،‏ اُن کا صدر مقام آسمانی یروشلیم ہے۔ اور وہ سارے ایمان داروں کی ماں ہے،‏ اور ایمان داروں میں یہودی اور غیر قوم دونوں شامل ہیں۔

۴:‏ ۲۷ یسعیاہ ۵۴:‏ ۱ سے یہ اِقتباس پیش گوئی ہے کہ «آسمانی یروشلیم کے فرزندوں کی تعداد زمینی یروشلیم کے فرزندوں سے زیادہ ہو گی۔»سارہ وہ عورت ہے جو طویل عرصے تک «بانجھ» رہی۔ ہاجرہ وہ عورت ہے جو «شوہر والی» ہے۔ بالآخر سارہ یا آسمانی یروشلیم کس طرح فتح مند ہو گی؟ ہم اِس فتح مندی کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ وعدہ کی اولاد کی تعداد ہاجرہ کے فرزندوں کی تعداد سے بہت زیادہ ہو گی۔ وعدے کے فرزندوں میں وہ سب یہودی اور غیر قوم والے شامل ہیں جو ایمان کے وسیلے سے خدا کے پاس آتے ہیں۔ ہاجرہ کے فرزند شریعت کے ماتحت رہتے ہیں۔

۴:‏ ۲۸ سچے ایمان دار اِنسان کے ارادے سے نہیں بلکہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں۔ طبعی نسل اہمیت نہیں رکھتی،‏ بلکہ اصل اہمیت روحانی پیدائش کو ہے جو خداوند یسوع پر ایمان لانے سے معزانہ طور پر حاصل ہوتی ہے۔ اور خدا کی طرف سے ہے۔

۴:‏ ۲۹ اِسمٰعیل اُس وقت اضحاق کو مذاق کرتا اور ستاتا تھا۔ اور یہ بات ہمیشہ سچ رہی ہے کہ جسمانی پیدائش والے ہمیشہ روحانی پیدائش والوں کو ستاتے رہے ہیں۔ غور کریں کہ غیر نجات یافتہ لوگوں کے ہاتھوں ہمارے خداوند نے اور پھر پولس رسول نے کیا کیا اذیتیں اُٹھائیں۔ اُن کے مقابلے میں اِضحاق کے خلاف اسمٰعیل کے مذاق تو معمولی بات ہیں۔ لیکن پاک کلام نے اِن کی رُوداد محفوظ رکھی ہے۔ پولس کو اِس میں ایک اصول نظر آتا ہے جو آج بھی قائم ہے اور وہ ہے جسمانی اور روحانی کے درمیان دشمنی۔

۴:‏ ۳۰پولس رسول گلتیوں کی توجہ کتابِ مقدس کی طرف دلاتا ہے۔ وہ متوجہ ہوں تو اُن کو یہ فیصلہ سنائی دے گا کہ شریعت اور فضل کو باہم ملایا نہیں جا سکتا۔ اِنسانی لیاقت یا جسمانی کوشش کی بنیاد پر خدا کی برکتوں کا وارث بننا ناممکن ہے۔

۴:‏ ۳۱جتنے مسیح پر ایمان لائے ہیں اُن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق،‏ کوئی واسطہ نہیں جس سے وہ خدا کی نظر میں مقبول ٹھہریں۔ وہ آزاد عورت کے فرزند ہیں اور وہ اپنی ماں کی سماجی حیثیت کی پیروی کرتے ہیں۔

۵:‏ ۱باب ۴ کی آخری آیت ایمان دار کی حیثیت کا بیان کرتی ہے __ وہ آزاد ہے۔ باب ۵ کی پہلی آیت اُس کے عمل کا بیان کرتی ہے کہ اُس کو آزاد شخص کی طرح زندگی گزارنا چاہئے۔ یہاں شریعت اور فضل کے درمیان فرق کی نہایت عمدہ مثال پائی جاتی ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ «اگر تم اپنی آزادی کما لو،‏ تو تم آزاد ہو جائو گے۔» لیکن فضل کہتا ہے کہ تم مسیح کی موت کی بے نہایت قیمت کے وسیلے سے آزاد کئے گئے ہو۔ اُس کی شکر گزاری میں اُس آزادی میں قائم رہو جو مسیح نے تمہیں عطا کی ہے۔ شریعت حکم دیتی ہے توفیق نہیں دیتی۔ فضل وہ کچھ مہیا کرتا ہے جس کا شریعت تقاضا کرتی ہے۔ پھر روح القدس کی توفیق سے ایسی زندگی گزارنے کی طاقت دیتا ہے جو اِس حیثیت سے مطابقت رکھتی ہے اور ایسا کرنے کا اَجر دیتا ہے۔

سی۔ ایچ۔ میکن ٹاش (‏Mackintosh)‏ کہتا ہے،‏ «شریعت اُس سے طاقت کا تقاضا کرتی ہے جس کے پاس طاقت ہے ہی نہیں۔ اور اگر وہ طاقت نہیں دکھاتا تو اُسے لعنتی ٹھہراتی ہے۔ خوش خبری اُس کو طاقت دیتی ہے جس کے پاس طاقت ہے نہیں۔ اور جب وہ اِس طاقت کو استعمال کرتا ہے تو اُسے برکت دیتی ہے۔»