تفسیر
۱۔ ٹڈیوں کی آفت کا بیان (باب ۱)
الف۔ بے نظیر شدت (۱: ۱۔۴)
۱: ۱۔۴ یوایل بن فتوایل ٹڈیوں کی آفت کے استعارے سے بیان کرتا ہے کہ یہوداہ پر عنقریب شمال سے ایک لشکر چڑھائی کرے گا۔ اِس نبوت کی جزوی تکمیل بابل کی بلغار سے ہوئی۔ لیکن مستقبل میں شاہِ شمال (اسور) حملہ آور ہو گا۔
ٹڈیوں کی آفت ایسی شدید تھی جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہ تھی۔ بوڑھوں کو بھی یاد نہ تھا کہ کبھی ایسا ہوا۔ اِس آفت کے چار مرحلے تھے۔ اور یہ چاروں مرحلے ٹڈیوں کی جسمانی نشو و نما کے مطابق ہیں۔ چبانے والی ٹڈی، غول میں جمع ہونے والی ٹڈی، رینگنے والی ٹڈی اور صفا چٹ کرنے والی ٹڈی۔ یہ اُن چار عالمی سلطنتوں کا اِشارہ بھی ہو سکتا ہے جنہوں نے خدا کے لوگوں پر حکومت کی۔ یہ ہیں بابل، مادی فارس، یونان اور روم۔
ب۔ اِس کا اثر
- شراب نوشی کرنے والوں پر (۱: ۵۔۷)
- کاہنوں پر (۱: ۸۔۱۰، ۱۳۔۱۶)
- کسانوں پر (۱: ۱۱، ۱۲، ۱۷،۱۸)
- یو ایل نبی پر (۱: ۱۹،۲۰)
قوم کو تلقین کی جاتی ہے کہ مے نوشی کرنے والوں سے لے کر کسانوں تک (آیات ۱۱، ۱۲،۱۷،۱۸) اور کاہنوں تک (آیات ۸۔۱۰، ۱۳۔۱۶) سب توبہ کریں۔ روزہ رکھیں اور فریاد کریں۔
ٹڈیوں نے زمین کو ایسا اُجاڑ دیا اور ویران کر دیا کہ خداوند کے گھر میں نذرانے اور قربانیاں چڑھانے کے لئے کچھ نہیں بچا (آیات ۸۔۱۰)۔
نبی نے اِس کو ’’خداوند کا روز … اور خداوند کی طرف سے بڑی ہلاکت‘‘ کی صورت میں دیکھا (آیت ۱۵)۔ یہ الفاظ ہر اُس موقعے کا اشارہ ہیں جب خدا عدالت کرنے، برائی اور شرارت کا خاتمہ کرنے اور بغاوت کو کچلنے اور شاندار فتح حاصل کرنے کے لئے اقدام کرتا ہے۔ خداوند کا دن مستقبل میں بڑی مصیبت، مسیح کی آمدثانی، مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی اور آگ سے آسمان اور زمین کی آخری اور قطعی تباہی کو ظاہر کرتا ہے۔
لوگوں کی طرف سے بولتے ہوئے نبی خداوند سے رحم کرنے کی فریاد کرتا ہے کیونکہ ’’آگ … نے…چراگاہوں… اور درختوں کو بھسم کر دیا ہے۔‘‘ یہاں تک کہ جنگلی جانور بھی خدا سے فریاد کرتے ہیں کیونکہ ندیاں سوکھ گئی ہیں۔
مقدس کتاب
۱ خُداوند کا کلام جو یُوایل بن فتُوایل پر نازل ہُوا۔
۲ اے بُوڑھو سُنو !اے زمین کے سب باشندو کان لگاؤ!کیا تمہارے یا تمہارے باپ دادا کے ایّام میں کبھی ایسا ہوا؟۔
۳ تم اپنی اولاد سے اس کا تزکرہ کرو اور تمہاری اولاد اپنی اولاد سےاور اُن کی اُولاد اپنی نسل سے بیان کرے۔
۴ کہ جو کچھ ٹڈیوں کے ایک غول سےبچا اُسے دُوسرا غول نگل گیا اور جو کُچھ دُوسرے سے بچا اُسے تیسرا غول چٹ کر گیا اور جو کُچھ تیسرے سے بچااُسے چوتھا غول کھا گیا۔
۵ اے متوالو جاگو اور تم ماتم کرؤ! اے مے نوشی کرنے والو نئی مے کے لے چلاؤ کیونکہ وہ تمہارے مُنہ سے چھین گی ہے ۔
۶ کیونکہ میرے مُلک پر ایک قم چڑھ آئی ہے جس کے لوگ زور آور اور بے شُمار ہیں اُن کے دانت شیر ببر کے سے ہیں اور اُن کی داڑھیں شیرنی کی سی ہیں۔
۷ انُہوں نے میرے تاکستان کو اُجاڑ ڈالا اور میرے انجیر کے درختوں کو توڑ ڈالا ہے۔انُہوں نے اُن کو بالکل چھیل چھال کر پھینک دیا۔اُن کی ڈالیاں سفید نکل آئیں۔
۸ تم ماتم کُرو جس طرح دُلہن اپنی جوانی کے شوہر کے لےٹاٹ اوڑھ کر ماتم کرتی ہے۔
۹ نذر کی قربانی اور تپانون خُداوندکے گھر سے موقوف ہو گئے۔ خُداوند کے خدمت گُزار کاہن ماتم کرتے ہیں۔
۱۰ کھیت اُجڑ گے۔ زمین ماتم کرتی ہےکیونکہ غلّہ خراب ہو گیا ۔نئی مے ختم ہوگئی اور روغن ضائع ہوگیا۔
۱۱ اے کسانو خجالت اُٹھاؤ۔اے تاکستان کے باغبانو نوحہ کروکیونکہ گیُہوں اور جو اور میدان کے تیار کھیت برباد ہو گئے۔
۱۲ تاک خُشک ہوگئی۔ انجیر کا درخت مُر جھا گیا۔انار اور کھُجور اور سیب کے درخت ہاں میدان کے تمام درخت مُرجھا گئے اور بنی آدم سے خُوشی جاتی رہی۔
۱۳ اے کاہنو! کمریں کُس کر ماتم کُرو۔اے مذبح پر خدمت کرنے والوں واویلا کرو۔اے میرے خُدا کے خادمو آو رات بھرٹاٹ اوڑھو کیونکہ نذر کی قربانی اور تپاون تمہارے خُدا کے گھر سے موقوف ہوگے۔
۱۴ روزہ کے لے ایک دن مُقدّس کرو۔مُقدّس محفل فراہم کرو۔ بُزرگوں اور مُلک کے تمام باشندوں کوخُداوند اپنے خُدا کے گھر میں جمع کر کے اُس سے فریاد کرو۔
۱۵ اُس روز پر افسوس ! کیونکہ خُداوند کا روز نزدیک ہے ۔وہ قادر مُطلق کی طرف سے بڑی ہلاکت کی مانند آئےگا
۱۶ کیا ہماری آنکھوں کے سامنے روزی موقوف نہیں ہُوئی اور ہمارے خُدا کے گھر سےخُوشی و شادمانی جاتی نہیں رہی؟۔
۱۷ بیج ڈھیلوں کے نیچے سڑ گیا۔غلّہ خانے خالی پڑے ہیں۔کھتے توڑ ڈالے گئے کیونکہ کھیتی سُوکھ گئی۔
۱۸ جانور کیسے کراہتے ہیں!گائے بیل کے گلے پریشان ہیں کیونکہ اُن کے لے چراگاہ نہیں ہے۔ ہاں بھیڑوں کے گلے بھی نیست ہو گے ہیں ۔
۱۹ اے خُداوند میں تیرے حُضور فریاد کرتا ہُوں کیونکہ آگ نے بیابان کی چراگاہوں کو جلا دیااور شُعلہ نے میدان کے سب درختوں کو بھسم کر دیا۔
۲۰ جنگلی جانور بھی تیری طرف تکتے ہیں کیونکہ پانی کی ندیاں سُوکھ گیئں اورآگ بیابان کی چراگاہوں کو کھا گئی۔