۔2 کُرنتِھیوں ۲

۲۔ پولس کی نصیحت کہ یروشلیم کے مقدسین کے لئے چندہ بھیجنےکا کام مکمل کیا جائے (‏ابواب ۸ ،‏۹)‏

الف۔ فراخ دلی سے دینے کے اچھے نمونے (‏ ۸:‏ ۱-‏۹)‏

۸:‏ ۱ مکدنیہ کی کلیسیائوں پر خدا کا غیر معمولی فضل ہوا تھا (‏مکدنیہ شمالی یونان میں ہے)‏۔ پولس چاہتا ہے کہ کرنتھس کے مسیحی بھی اِس فضل سے واقف ہوں۔ فلپی اور تھسلنیکے دو شہر تھے جہاں کلیسیائیں قائم کی گئی تھیں۔ مکدنیہ کے اِن مسیحیوں نے اپنی فراخ دلی سے ظاہر کر دیا کہ وہ خدا کے اُس فضل سے فیض یاب ہو گئے ہیں۔

۸:‏ ۲یہ مسیحی مصیبت کی بڑی آزمائش میں سے گزر رہے تھے۔ عام طور سے جن پر ایسی آزمائش آتی ہے وہ مستقبل کے لئے روپیہ بچانے کی کوشش کرتے ہیں،‏ خصوصاً جب وہ مکدنیوں کی طرح زیادہ خوش حال نہ ہوں۔ اُن کے پاس روپے پیسے کی ہرگز افراط نہ تھی۔ لیکن وہ مسیحی خوشی سے اِتنے سرشار تھے کہ جب اُن کو یروشلیم کے مقدسوں کی ضرورت کی خبر ملی تھی تو اُنہوں نے عام رویے سے ہٹ کر بڑی فراخ دلی سے دیا۔ وہ مصیبت،‏ خوشی،‏ سخت غریبی،‏ اور سخاوت کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

۸:‏ ۳ اُن کی سخاوت کی چند اَور بے مثال خصوصیات بھی تھیں اُن کی خیرات نہ صرف اُن کے مقدور کے موافق بلکہ مقدور سے بھی زیادہ تھی،‏ یعنی اُنہوں نے پوری رضامندی اور خوشی سے دیا۔ اُنہیں مجبور کرنے یا بہلانا پھسلانا نہیں پڑا تھا۔

۸:‏ ۴ وہ اِس معاملے میں اِس قدر اصرار کرتے تھے کہ اُنہوں نے پولس کی منت کی کہ ہمیں بھی یروشلیم کے مقدسین کی اِمداد کے اعزاز میں شامل کیا جائے۔ غالباً پولس اُن سے مدد قبول کرنے میں تامل کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فی الحال وہ خود کیسے غریب ہیں،‏ لیکن وہ اُس کی طرف سے اِنکار کو ماننے کو تیار نہ تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمیں بھی دینے کی اِجازت دی جائے۔

۸:‏ ۵ پولس کو غالباً یہ اُمید تھی کہ وہ بھی دوسرے فانی اِنسانوں کی طرح کریں گے،‏ پہلے تو وہ بہت ہاتھ کھینچ کر اور تنگ دلی سے دیتے ہیں،‏ مگر جب اُن پر دبائو بڑھتا ہے تو خیرات کی رقم میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن مکدنیوں کا یہ حال نہیں تھا! اِن پیارے مسیحیوں نے پہلے اپنے آپ کو خداوند کے حوالے کیا۔ اِس کے بعد اپنا پیسہ دینا تو آسان کام تھا۔ پولس کہتا ہے کہ «اُنہوں نے اپنے آپ کو پہلے خداوند کے اور پھر خدا کی مرضی سے ہمارے سپرد کیا۔» مراد یہ ہے کہ پہلے اُنہوں نے اپنی زندگیاں پورے طور پر مسیح کے لئے وقف کر دیں اور پھر دلی خوشی سے اپنے آپ کو پولس کے سپرد کر دیا،‏ یعنی وہ یروشلیم کے ایمان داروں کے لئے چندہ دینے میں مقدور سے بڑھ کر حصہ لینے پر آمادہ ہوئے۔ گویا اُنہوں نے پولس سے کہا،‏ ہم نے اپنا آپ خداوند کو دے دیا ہے۔ اب ہم اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتے ہیں کہ تُو منتظم ہے۔ تُو بتا کہ ہم کو کیا کرنا ہے۔ اِس لئے کہ تُو ہمارے خداوند کا رسول ہے۔

جی کیمبل مورگن کہتا ہے کہ «خداوند کے کام کے لئے چندے اُسی وقت گراں قدر ہوتے ہیں جب اُن کی طرف سے نذر کئے جائیں جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر رکھا ہو۔»

۸:‏ ۶ رسول مکدنیوں کے نمونے سے اِس قدر شادمان اور حوصلہ مند ہے کہ چاہتا ہے کہ کرنتھی بھی اُن کی پیروی کریں۔ اِسی لئے وہ کہتا ہے کہ «ہم نے ططس کو نصیحت کی کہ … اِس خیرات کے کام کو پورا بھی کرے۔»یاد رہے کہ ططس نے کرنتھس میں خیرات جمع کرنے کا کام شروع کر رکھا تھا۔ جب ططس پہلی دفعہ کرنتھس گیا تھا تو اُس نے چندہ جمع کرنے کا سارا معاملہ کرنتھیوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ اور اب جب کہ دوبارہ وہاں جاتا ہے تو اُسے ہدایت کی جاتی ہے کہ دیکھے کہ اُن کی اچھی نیت عملی جامہ بھی پہنے۔

۸:‏ ۷ چونکہ کرنتھی کئی باتوں میں دوسروں سے نمایاں تھے اِس لئے پولس چاہتا ہے کہ اب خیرات دینے کے معاملے میں بھی وہ سبقت لے جائیں۔ وہ ایمان اور کلام اور علم اور پوری سرگرمی اور اپنے ساتھ محبت کے لئے اُن کی تعریف کرتا ہے۔ پہلے خط میں پولس نے اُن کے علم اور کلام کرنے کی تعریف کی تھی۔ یہاں وہ چند اَور خوبیوں کا بھی اضافہ کرتا ہے۔ بے شک یہ ططس کی آمد کا نتیجہ ہے۔

«ایمان۔» یہ بیان ہے کہ وہ خدا پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ایمان کی نعمت ہے۔ وہ اپنے ہم جنس اِنسانوں کے ساتھ برتائو اور معاملات میں پُر خلوص اور دیانت دار تھے۔

«کلام۔» یہ حوالہ ہے کہ وہ غیر زبانیں استعمال کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ اِس موضوع پر پولس نے پہلے خط میں طویل بحث کی ہے۔

«علم۔» کرنتھی الٰہی سچائیوں پر مضبوط گرفت رکھتے تھے۔ اُن کو خدا کی یہ نعمت حاصل تھی۔

«پوری سرگرمی۔» وہ خدا کی باتوں اور کاموں میں جوش و جذبہ اور بڑا شوق رکھتے تھے۔

«محبت … جو ہم سے رکھتے ہو۔» پولس کے لئے اُن کی محبت کو قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے۔

اب پولس اِس فہرست میں ایک اَور چیز کا اضافہ کرنا چاہتا ہے،‏ یعنی خیرات کے کام میں بھی سبقت۔ ڈینی (‏Denney)‏ ایسے آدمی سے خبردار کرتا ہے:‏

«… جس کی روحانی دلچسپیاں کثیر ہیں۔ جو سرگرم،‏ دعاگو،‏ شفیق،‏ کلیسیا میں کلام پیش کرنے پر قادر ہے،‏ لیکن روپیہ پیسہ ہاتھ سے نہیں دے سکتا۔ »

۸:‏ ۸پولس سخت لہجے یا شرعی اعتبار سے اِس بات کا حکم نہیں دے رہا،‏ بلکہ وہ اُن کی سرگرمی اور محبت کی سچائی کو آزمانا چاہتا ہے،‏ اور خصوصاً مکدنیہ کے مسیحیوں کی سرگرمی اور اِشتیاق کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ جب پولس بیان کرتا ہے کہ مَیں حکم کے طور پر نہیں کہتا تو ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ بات الہامی نہیں۔ اِس کا مطلب صرف اِتنا ہے کہ خیرات کا دینا دل سے اُٹھنا چاہئے،‏ اِس لئے کہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔

۸:‏ ۹ یہ مقام ہے جہاں پولس اِس شاندار خط میں ایک عظیم ترین آیت متعارف کراتا ہے۔ مکدنیہ اور کرنتھس میں ناموافق حالات زبوں حال زندگی کے پس منظر میں وہ تمام زمانوں میں سب سے زیادہ سخی ہستی کی تصویر پیش کرتا ہے۔

«فضل» کا لفظ نئے عہدنامے میں کئی مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے،‏ مگر یہاں بلاشبہ مطلب سخاوت یا فیاضی ہے۔ خداوند یسوع مسیح کیسا سخی اور فیاض تھا! وہ اِتنا فیاض تھا کہ اُس نے ہماری خاطر اپنا سب کچھ دے دیا تاکہ ہم اُس کی غریبی کے سبب سے دولت مند ہو جائیں۔

یہ آیت تعلیم دیتی ہے کہ خداوند یسوع ازلی ہستی ہے۔ وہ کب دولت مند تھا؟ یقینا اُس وقت نہیں تھا جب ایک بچے کی شکل میں بیت لحم میں آیا تھا اور نہ اُن تیس سالوں میں تھا جو اُس نے اِس دُنیا میں گزارے۔ وہ تو بے گھر پردیسی کی طرح اِس دُنیا میں پھرتا رہا جس کو اُس کے ہاتھوں نے بنایا تھا۔ وہ ازل سے دولت مند تھا اور باپ کے ساتھ آسمانی مقاموں میں سکونت رکھتا تھا۔ مگر وہ غریب بن گیا۔ یہ اِشارہ صرف بیت لحم کے لئے نہیں بلکہ ناصرت،‏ گتسمنی اور گلگتا میں بھی غریب تھا۔ اور یہ سب کچھ ہماری خاطر ہوا،‏ تاکہ ہم اُس کی غریبی کے سبب سے دولت مند ہو جائیں۔

اگر یہ سچ ہے __ اور یقینا سچ ہے __ تو پھر ہم پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ نہایت خوشی سے اپنا سب کچھ اُس کو دے دیں۔ خیرات کے موضوع پر بحث کے دوران پولس اِس سے زیادہ بڑی اور کڑی دلیل نہیں دے سکتا تھا۔

ب۔ چندہ جمع کرنے کے کام کو پورا کرنے کا نیک مشورہ (‏ ۸:‏ ۱۰،‏۱۱)‏

۸:‏ ۱۰اب پولس پھر کرنتھیوں سے مخاطب ہوتا ہے۔ اُنہوں نے مکدنیوں کے فیصلہ کرنے سے پہلے ارادہ ظاہر کیا تھا کہ غریب مقدسین کے لئے چندہ جمع کریں اور مکدنیوں سے پہلے یہ کام شروع بھی کر دیا تھا۔ قول و فعل میں مطابقت تبھی ہو گی جب پچھلے سال شروع کئے ہوئے کام کو پورا کریں گے۔ اِس میں اُنہی کا فائدہ ہے،‏ کیونکہ اُن کا اخلاق اور ثابت قدمی ثابت ہو جائے گی۔

۸:‏ ۱۱ اِس نیک کام میں تاخیر کی وجہ کچھ بھی ہو،‏ پولس کہتا ہے کہ اِس کا خیال نہ کریں،‏ بلکہ تکمیل کریں۔ اِس لئے کہ وہ ارادہ کرنے میں مستعد تھے۔ پولس نصیحت کرتا ہے کہ اِس کام کو اپنے موجودہ مقدور کے موافق پورا کرو اور یہ نہ سوچتے رہو کہ مستقبل میں ہمارے پاس زیادہ دولت ہو گی تو ہم زیادہ چندہ دیں گے۔

ج۔ فراخ دلی سے دینے کے تین عمدہ اُصول (‏ ۸:‏ ۱۲-‏۱۵)‏

۸:‏ ۱۲ایسے لگتا ہے کہ کرنتھس کی کلیسیا نے یروشلیم کے ضرورت مند مقدسین کے لئے مالی مدد جمع کرنے میں دیر کر دی تھی،‏ اِس اُمید پر کہ وہ کچھ دیر بعد زیادہ مدد بھیج سکیں گے۔ یہاں اُنہیںیاد دِلایا جاتا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ اُنہوں نے کتنی مدد بھیجی۔ اگر اُن کے دل میں بھلائی کرنے کی حقیقی خواہش موجود ہے تو خدا اُن کے ہدیوں کو قبول کرتا ہے خواہ وہ کتنی ہی کم مقدار میں ہوں۔ اہمیت اِس بات کو حاصل ہے کہ ہم کس نیت سے دیتے ہیں۔

۸:‏ ۱۳پولس کا مقصد کرنتھیوں پر مالی بوجھ ڈالنا نہیں۔ اُس کی ہرگز مرضی نہیں کہ یروشلیم کی کلیسیا کو آرام ملے،‏ جب کہ کرنتھس کی کلیسیا کو تکلیف ہو یا اُن کی مالی حالت بُری ہو جائے۔

۸:‏۱۴ اِس آیت میں خداوند یسوع مسیح کی کلیسیا کی ضرورت کے وقت میں امداد کا وہ پروگرام دیا گیا ہے جو خدا کی طرف سے ہے۔ خداوند کا مقصد یہ ہے کہ جب بھی مسیحیوں کے کسی علاقے یا گروہ میں کوئی ضرورت یا احتیاج آ پڑے تو دوسرے علاقوں یا گروہوں کی طرف سے چندے وہاں بھیجے جائیں۔ سارے علاقے امدادِ باہمی کے اصول کو اپنائیں۔ اِس طرح دُنیا بھر کی کلیسیائوں میں برابری ہو گی۔

چنانچہ جن دنوں پولس یہ سطور لکھ رہا تھا،‏ کرنتھس،‏ مکدنیہ اور دوسری جگہوں سے چندے یروشلیم کو آئیں گے۔ اور ممکن ہے کہ مستقبل میں یروشلیم کے مقدسین کے حالات اچھے ہو جائیں اور کرنتھس میں کمی آ جائے۔ ایسی صورت میں چندوں کا رُخ کرنتھس کی طرف ہو جائے گا۔ اِس وقت ضرورت یروشلیم میں تھی،‏ مستقبل میں کسی وقت ایسی ہی ضرورت کرنتھس میں ہو سکتی ہے۔ اور پھر دوسرے اُن کی مدد کریں گے۔

۸:‏ ۱۵ برابری کے اِس اُصول پر زور دینے کے لئے پولس خروج ۱۶:‏ ۱۸ کا حوالہ دیتا ہے۔ جب بنی اِسرائیل مَن جمع کرنے جاتے تھے تو بعض دوسروں سے زیادہ جمع کر لیتے تھے۔ جب مَن تقسیم کیا جاتا تھا تو ہر ایک کو برابر یعنی ایک اومر ملتا تھا۔ چنانچہ «جس نے بہت جمع کیا اُس کا کچھ زیادہ نہ نکلا اور جس نے تھوڑا جمع کیا اُس کا کچھ کم نہ نکلا»۔ اگر کوئی مَن کو ذخیرہ کرتا تھا تو اُس میں کیڑے پڑ جاتے تھے۔

یہ برابری کسی جادو یا معجزے سے نہیں ہوتی تھی،‏ بلکہ اِس لئے کہ جن کے پاس زیادہ ہوتا تھا وہ اُن کو حصہ دے دیتے تھے جن کے پاس تھوڑا ہوتا تھا۔ ہوج (‏Hodge)‏ تبصرہ کرتا ہے:‏

«خروج کی کتاب اور یہاں پولس یہ سبق سکھاتا ہے کہ خدا کے لوگوں میں افراط دوسروں کی احتیاجوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے استعمال ہونی چاہئے۔ اور اگر اِس قاعدے کو پس پشت ڈال دیا جائے تو نتیجہ نقصان اور شرمندگی ہوتا ہے۔ مال و زَر بھی من کی طرح ہے۔ ذخیرہ نہیں رہ سکتا۔»

ایک اَور جگہ بھی اِن ہی سطور پر یوں کہا گیا ہے:‏

«خدا چاہتا ہے کہ زندگی کی اچھی چیزوں میں سے ہر اِنسان کو حصہ ملے۔ لیکن کچھ لوگ زیادہ جمع کرتے ہیں اور کچھ لوگ کم جن کے پاس زیادہ ہے،‏ چاہئے کہ وہ اُن کو بھی شریک کریں جن کے پاس کم ہے۔ خدا تمام مال و دولت کی غیر مساوی تقسیم کی اِجازت دیتا ہے مگر اِس لئے نہیں کہ امیر خود غرضی سے مزے اُڑائیں،‏ بلکہ اِس لئے کہ وہ غریبوں کو بھی حصہ دیں۔»

د۔ چندہ اور خیرات کا اِنتظام کرنے کے لئے تین نیک نام بھائی (‏ ۸:‏ ۱۶-‏۲۴)‏

۸:‏ ۱۶ اِن دو آیات میں پولس ططس کی تعریف کرتا ہے کہ زیرِ نظر معاملے میں اُس کا رویے بہت ہی اعلیٰ اور اچھا تھا۔ پہلے تو پولس خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اُس نے ططس کے دل میں تمہارے (‏کرنتھیوں کے)‏ واسطے ویسی ہی سرگرمی پیدا کی۔ پولس کو اپنے ہم خدمت کے دل میں ویسی ہی سرگرمی نظر آتی ہے،‏ جیسی خود پولس کے دل میں تھی۔ ططس کے دل پر بھی کرنتھیوں کے لئے پولس جیسا بوجھ تھا۔

۸:‏ ۱۷ پولس نے ططس کو نصیحت کی تھی کہ یہ خط لے کر کرنتھس جائے۔ لیکن ایسی نصیحت کی ضرورت نہ تھی،‏ کیونکہ اُس کی اپنی خوشی بھی کرنتھس جانے میں تھی۔

«روانہ ہوا۔» غالباً اِس کا مطلب ہے کہ روانہ ہو رہا ہے۔ یہ خطوط میں استعمال ہونے والے مخصوص فعل ماضی کی مثال ہے کہ اِس کام کو پولس کے خط لکھنے کے وقت کے لحاظ سے نہیں بلکہ اُس وقت کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے جب کرنتھی اِس خط کوپڑھیں گے۔ اِس حقیقت میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ ططس ہی یہ خط لے کر کرنتھس گیا۔ اور وہ اُس وقت تک کرنتھس کے لئے روانہ نہیں ہوا جب تک پولس نے خط پورا نہیں کر لیا۔

۸:‏ ۱۸ آیات ۱۸ تا ۲۲ میں دو اَور بھائیوں کا ذکر ہے جو چندے کے کام کے لئے ططس کے ہمراہ گئے تھے۔ پہلے کا ذکر آیات ۱۸ تا ۲۱ میں اور دوسرے کا ذکر آیت ۲۲ میں ہے،‏ لیکن نام کسی کا نہیں دیا گیا۔

پاک کلام کے اِس حصے میں اُس احتیاط کا بیان ہے جو چندوں کے معاملے میں پولس رسول لازمی طور پر استعمال کرتا تھا مبادا اُس پر غلط طور پر استعمال کرنے یا چندہ اِدھر اُدھر کرنے کا الزام لگے۔

پہلا «بھائی» اِس لئے اِس کام کے لائق تھا کہ خوش خبری کے سبب سے تمام کلیسیائوں میں اُس کی تعریف ہوتی ہے۔ مفسرین میں بہت اِختلافِ رائے ہے کہ پولس کا اِشارہ کس شخص کی طرف ہے۔ بعض کہتے ہیں لوقا،‏ بعض سیلاس اور بعض ترفمس کا نام لیتے ہیں۔ لیکن اندازے لگانے سے ہم کلام کے اِس حصے کی روح کو بھول جاتے ہیں۔ پولس نے اُس شخص کو بلا اِرادہ گمنام نہیں رکھا۔ حقیقی شاگردیت میں اکثر بے نامی غالب رہتی ہے۔ اُس چھوٹی لونڈی کو بھی بے نام ہی رکھا گیا ہے جس کو نعمان کی زندگی میں استعمال کیا گیا۔ اور جس لڑکے نے اپنی روٹیاں اور مچھلیاں خداوند یسوع کے حوالے کر دیں اُس کا نام بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا گیا۔

۸:‏ ۱۹ اُس گمنام بھائی کو «کلیسیائوں کی طرف سے … مقرر کیا گیا تھا» کہ اِس خیرات کے سلسلے میں ضروری سفر کرے۔ دوسرے لفظوں میں اُسے اُن ایلچیوں میں شامل کیا گیا تھا جو اِس چندے کو مطلوبہ جگہ پہنچائیں گے۔ پولس اُن کو اِس نیک کام کے خادم یا منتظم سمجھتا ہے۔ وہ یہ ساری خدمت خداوند کے جلال کے لئے کرتے ہیں۔ اور یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم یروشلیم کے غریب مقدسین کی خدمت کرنے اور اُن کے کسی کام آنے کے بے حد مشتاق ہیں۔

۸:‏ ۲۰ پولس رسول بہت دانائی سے کام لیتا ہے کہ چندے کے کام کو نہ تو خود اکیلا سر انجام دیتا ہے،‏ نہ کسی دوسرے اکیلے شخص کے سپرد کرتا ہے۔ وہ اِصرار کرتا ہے کہ اِس معاملے کے لئے دو یا تین یا زیادہ شخص مقرر کئے جائیں۔ یہاں آیت ۲۰ میں اُس کا یہی مطلب اور مقصد ہے تاکہ اِس بڑی خیرات کے بارے میں کسی پر حرف نہ آئے،‏ کسی کی بدنامی کا اِمکان نہ رہے۔

۸:‏ ۲۱«ایسی چیزوں کی تدبیر … جو …بھلی ہیں» یعنی سارے اِنتظام میں دیانت داری ہو۔ پولس فکر مند اور محتاط تھا کہ میرے کام «نہ صرف خداوند کے نزدیک … بلکہ آدمیوں کے نزدیک بھی» درست اور صحیح پائے جائیں۔ مورگن متوجہ کرتا ہے کہ مسیحی جماعت کا فرض ہے کہ اپنا کام اِس طرح سے کرے کہ اِس دُنیا کے لوگوں کو شک و شبہ کرنے کی گنجائش نظر نہ آئے،‏ بلکہ اُنہیں ہر قدم پر راستی نظر آئے۔ اتفاق سے یہ آیت پرانے عہدنامے میں اَمثال ۳:‏ ۳،‏۴ سے گہری مماثلت رکھتی ہے۔

۸:‏ ۲۲ یہاں ایک اَور نامعلوم بھائی کا ذکر ہے جس کو پولس نے اِس اہم کام میں مدد کے لئے مقرر کیا تھا۔ یہ بھائی بہت سی باتوں میں بارہا آزمایا گیا اور سرگرم پایا گیا تھا۔ اور اب موجودہ کام میں وہ خاص طور پر زیادہ سرگرم تھا،‏ اِس لئے کہ اُس کو کرنتھیوں پر بڑا بھروسا تھا۔ پولس رسول اِس بھائی کی تعریف صرف اُس کی ماضی کی سرگرمی کے لئے نہیں کرتا بلکہ اِس لئے بھی کہ اُسے کرنتھیوں پر بڑا بھروسا ہے جن کے پاس وہ جا رہا ہے۔

۸:‏ ۲۳ اِس لئے پولس کہتا ہے کہ اگر کوئی اِن تینوں بھائیوں کی بابت پوچھے تو کرنتھی بتا سکتے ہیں کہ ططس اِس کام میں پولس کا «شریک … اور…ہم خدمت ہے» اور دوسرے دونوں بھائی «کلیسیائوں کے قاصد اور مسیح کا جلال ہیں»۔ غور کریں کہ مسیح کا جلال اِن آدمیوں کے لئے کیسے شاندار تعریفی الفاظ ہیں۔ یہ اِس لئے کہ وہ کلیسیائوں کے نمائندے ہیں۔ اُن کے وسیلے سے خداوند کا کام لوگوں کے سامنے روشن ہوتا ہے۔ وہ خداوند کے لئے نیک نامی کا باعث ہیں۔ اُن سے اُسی کا جلال منعکس ہوتا ہے۔

۸:‏ ۲۴اِن ساری باتوں کے پیشِ نظر کرنتھیوں کا فرض ہے کہ اُن بھائیوں کا پُرتپاک خیر مقدم کریں اور یروشلیم کے مقدسین کے لئے فراخ دلانہ خیرات اُن کے سپرد کر کے پولس کے فخر کو قائم رکھیں۔ یہ آس پاس کی کلیسیائوں کے لئے ثبوت ہو گا کہ کرنتھی مسیحی محبت سے سرشار ہیں۔ نیز پولس نے اُن کے بارے میں جو اِتنی بے شمار اچھی باتیں کہی ہیں اُن کی تصدیق ہو جائے گی۔

ہ۔ اپیل کہ کرنتھیوں پر پولس کے فخر کی تصدیق ہو (‏ ۹:‏ ۱-‏۵)‏

۹:‏ ۱ جہاں تک کرنتھیوں کا تعلق ہے پولس کو لکھنے کی ضرورت نہ تھی کہ حاجت مند مقدسوں کی مالی مدد کے لئے کچھ بھیجیں مگر تو بھی اُس نے لکھا۔ اِس آیت میں طنز کا کچھ رنگ جھلکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض باتوں میں اُسے ان کو لکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ یروشلیم کے لئے چندہ اکٹھا کرنے میں اُنہوں نے شروع ہی سے آمادگی بلکہ مستعدی (‏۸:‏۱۱)‏کا اِظہار کیا تھا اور پولس اِس معاملے میں اُن کی تعریف کرتا ہے۔ لیکن اُنہوں نے اپنے ارادے کو عملی جامہ نہیں پہنایا تھا۔ اِس لئے اُس نے اُن کو لکھنا فضول نہیں جانا۔

۹:‏ ۲ اُن کے شوق میں تو کوئی شک نہیں تھا۔ جب یہ بات شروع ہوئی تھی،‏ اُنہوں نے اُسی وقت سے سرگرمی دِکھائی تھی۔ یہاں تک کہ پولس مکدنیہ کے مسیحیوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا تھا۔ اُس نے مکدنیوں کو بتایا تھا کہ اخیہ کے لوگ پچھلے سال سے تیار ہیں۔ اخیہ یونان کا جنوبی حصہ تھا۔ یہاں مراد ہے کہ کرنتھس کے مسیحی،‏ اِس لئے کہ کرنتھس وہاں واقع تھا۔ جب مکدنیہ کے لوگوں نے سنا کہ کرنتھس کے مسیحی سال بھر سے تیار ہیں تو اُن میں سے بھی بہتوں کو اِس نیک کام میں حصہ لینے کی تحریک ہوئی۔ اُن کو بھی مسیحی خیرات کا شوق لگ گیا اور اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم پورے دل سے اِس کام میں شامل ہوں۔

۹:‏ ۳« بھائیوں کو بھیجا۔» دراصل مطلب ہے بھیج رہا ہوں۔ فعل ماضی دراصل لکھنے والے کے نہیں بلکہ پڑھنے والے کے تناظر سے استعمال ہوا ہے۔ بھائیوں وہ تین افراد ہیں جن کا ذکر پچھلے باب میں ہو چکا ہے یعنی ططس اور دو دوسرے گمنام مسیحی بھائی۔ پولس اُن کو اِس لئے بھیج رہا ہے کہ چندے کے بارے میں کرنتھیوں پر پولس کا فخر رائیگاں یا بے اصل ثابت نہ ہو۔ اِن تین بھائیوں کے ذمہ خاص یہ کام ہے کہ پولس کے وہاں آنے تک چندہ بالکل تیار ہو۔

۹:‏ ۴جب پولس رسول مکدنیہ سے جنوب کی طرف کرنتھس کو روانہ ہو گا تو ممکن ہے مکدنیہ سے کوئی شخص اُس کے ہمراہ ہو۔ اور اگر آ کر معلوم ہو کہ یروشلیم کے لئے خیرات کے سلسلے میں کرنتھیوں نے کچھ بھی نہیں کیا تو پولس کے لئے کیسی پریشانی اور شرمساری کا موقع ہو گا کیونکہ وہ تو مکدنیہ والوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا رہا ہے۔ اِس طرح پولس کا کرنتھیوں پر اعتماد اور بھروسا شرمندگی میں بدل جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ خود کرنتھیوں کو بھی اپنی غفلت اور کوتاہی پر شرمندہ ہونا پڑے گا۔

۹:‏ ۵ یہی وجہ تھی کہ پولس نے اِن تینوں بھائیوں سے یہ درخواست کرنا ضرور سمجھا کہ اُس سے پہلے کرنتھس میں جائیں،‏ تاکہ اُن کی موعودہ بخشش کو پیشتر سے تیار کر رکھیں۔ موعودہ اِس لئے کہ اُنہوں نے یروشلیم کے مقدسین کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ نہیں کہ کرنتھس کے مسیحیوں سے یہ خیرات کسی دبائو کے تحت زبردستی وصول کی جائے گی بلکہ ایک موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ اپنی فیاضی اور دریا دلی کا مظاہرہ کر سکیں۔

و۔ فراخ دلی سے دینے کا اَجر (‏ ۹:‏ ۶-‏۱۵)‏

۹:‏ ۶ آیات ۶ سے ۱۵ میں پولس رسول مسیحی خیرات کے کچھ خوبصورت فوائد اور اَجر کا بیان کرتا ہے۔ اوّل،‏ وہ فصل کاٹنے کا اُصول بیان کرتا ہے۔ زراعت میں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بھرپور اور زیادہ فصل حاصل کرنے کے لئے زیادہ بیج بونا ضروری ہے۔ شاید کسان زمین میں بیج ڈالنے کو تیار ہے۔ وہ سوچتا ہے مَیں فراخ دلی سے بیج ڈالوں یا اگلے مہینوں میں خوراک کے طور پر استعمال کرنے کے لئے کچھ بچا لوں؟ یہاں تصور یہ ہے کہ اگر وہ بہت بوتا ہے تو اُسی نسبت سے بہت کاٹے گا۔

زراعت کے تعلق سے ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسان جتنا بوتا ہے بالکل اُتنا ہی نہیں کاٹتا بلکہ نسبتاً بہت زیادہ کاٹتا ہے۔ یہی حال مسیحی خیرات کا ہے۔ سوال جتنا دیا ہے اُتنا ہی واپس لینے کا نہیں،‏ بلکہ اِس کی نسبت کہیں زیادہ واپس ملنے کا ہے۔ بے شک جو کچھ واپس ملتا ہے روپے پیسے کی شکل میں نہیں ہوتا بلکہ روحانی برکات ہوتی ہیں۔

۹:‏ ۷ جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے۔ ہر ایک کو سوچنا ضروری ہے کہ میری فوری ضروریات کے لئے کس قدر درکار ہے۔ اُسے اُن فرائض اور ذمہ داریوں کا خیال کرنا ہو گا جو اُسے عام زندگی میں پوری کرنی ہیں۔ لیکن اِن سے بڑھ کر اُسے اپنے ساتھی مسیحیوں کی ضروریات پر دھیان دینا ہے اور سوچنا ہے کہ مسیح کی طرف سے مجھ پر کیا ذمہ داریاں عائد ہیں۔ اِن ساری باتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے وہ «نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے» خیرات دے۔ عین ممکن ہے کہ اِنسان خیرات دے تو سہی مگر خوشی سے نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اِنسان جذبات کے زیرِ اثر یا عام لوگوں کے سامنے شرمساری سے بچنے کے لئے خیرات دے۔ اِن حالات کے تحت خیرات دینے کا کچھ فائدہ نہیں «کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے»۔ جس لفظ کا ترجمہ «خوشی سے دینے والا» کیا گیا ہے،‏ لغوی طور پر اُس کا مطلب زندہ دل ہے۔

کیا خدا کو واقعی ہمارے روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے؟ قطعاً نہیں۔ دُنیا کے سارے خزانے اُسی کے ہیں۔ اور اگر اُسے ضرورت ہو بھی تو ہمیں نہیں بتائے گا (‏زبور ۵۰:‏ ۱۰-‏۱۲)‏۔ لیکن ہمارے دل کا رویہ اُس کے نزدیک اہم ہے۔ وہ ایسے مسیحی کو دیکھ کر مسرور ہوتا ہے جو خداوند کی خوشی سے اِس قدر معمور ہے کہ وہ اپنی ہر چیز میں دوسروں کو حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔

خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔ اِس سلسلے میں جُووٹ (‏Jowett)‏ کہتا ہے:‏

«خوشی سے دینا محبت سے پیدا ہوتا ہے۔ اِس لئے یہ ایسا ہے جیسے ایک محبت کرنے والا محبت کرنے والے سے محبت کرتا ہے اور رفاقت و شراکت سے خوش ہوتا ہے۔ دینا محبت کی زبان ہے۔ اِس کی کوئی اَور زبان ہے نہیں۔ خدا نے ایسی محبت رکھی کہ دے دیا۔ محبت اپنے آپ کو نثار کرنے میں زندگی پاتی ہے۔ اِسے اپنے قبضے میں کچھ رکھنے پر فخر ہے تو اِس خوشی پر کہ مَیں اپنا آپ دے دوں گا۔ اگرچہ محبت کے پاس سب کچھ ہوتا ہے تاہم کچھ بھی اپنے پاس نہیں رکھتی۔»

۹:‏ ۸ یہاں ایک وعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص دریا دلی سے دینا چاہتا ہے تو خدا اُسے ضرور موقع دے گا۔ یہاں فضل وسائل کے مترادف ہے۔ خدا ہمیں وسائل مہیا کر سکتا ہے،‏ تاکہ ہمارے پاس خود اپنے لئے ہی کافی نہ ہو،‏ بلکہ ہم دوسروں کو بھی دے سکیں۔ اور اِس طرح ہر نیک کام کے لئے ہمارے پاس بہت کچھ موجود رہا کرے۔

اِس آیت میں لفظ «ہر» پر غور کریں۔ ہر طرح کا فضل۔ ہمیشہ (‏ہر وقت)‏،‏ ہر چیز اور ہر نیک کام۔

۹:‏۹ اب رسول زبور ۱۱۲:‏۹ سے اِقتباس کرتا ہے:‏ «اُس نے بکھیرا ہے۔» یہ الفاظ بیج بونے کے عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک ایسے آدمی کا بیان ہوا جو بیج بونے میں فراخ دل ہے۔ مراد ہے کہ مہربانی اور ہمدردی کے کام کرنے میں دریا دل ہے۔ اور مہربانی کا خاص کام یہ ہے کہ «اُس نے کنگالوں کو دیا ہے»۔ کیا اِس کام سے اُسے نقصان ہوا؟ نہیں! «اُس کی راست بازی ابد تک باقی رہے گی۔» اِس سے نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ اگر ہم مہربانی کو اِس طرح بکھیریں جس طرح بیج بونے والا بیج بکھیرتا ہے تو ہم اپنے لئے آسمان پر خزانہ جمع کرتے ہیں۔ ہماری مہربانی (‏خیرات)‏ کا نتیجہ ابد تک باقی رہے گا۔

۹:‏ ۱۰ بیج بونے والے کی مثال جاری ہے۔ وہی خدا «جو بونے والے کے لئے بیج اور کھانے کے لئے روٹی بہم پہنچاتا ہے» وہ اِس بات کا خیال رکھتا ہے کہ جو دوسروں پر احسان کرتے ہیں اُن کو یقینی اَجر ملیں گے۔ اِن میں سے بعض اَجروں کی فہرست دی گئی ہے۔ اوّل،‏ خدا بیج کو ترقی دے گا یعنی اُس کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے نتیجے میں وہ زیادہ بڑے مواقع فراہم کرے گا اور کثرت سے نتیجہ سامنے آئے گا۔ دوم،‏ وہ «تمہاری راست بازی کے پھلوں کو بڑھائے گا»۔ کرنتھیوں نے یروشلیم کے مقدسین کے لئے دیا۔ یہ اُن کی راست بازی تھی۔ نتیجے میں اُن کو ابدی اَجر ملے گا۔ خدا نے اُن کے دینے کی توفیق کو بڑھایا،‏ اُنہوں نے اپنی خیرات بڑھائی،‏ اِسی طرح اُن کے اَجر بڑھیں گے۔

۹:‏ ۱۱اِس آیت سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ خداوند کو دینے کے نتیجے میں کبھی کوئی شخص غریب نہیں ہو جاتا۔ اور اَجر خیرات سے بے حد زیادہ ہوتا ہے۔ چنانچہ پولس کہتا ہے کہ اپنی خیرات کے باعث مسیحی ہر چیز افراط سے پائیں گے اور پھر اُن کی خیرات یا سخاوت اَور زیادہ ہو گی۔ رسول دیکھتے ہیں کہ کرنتھی سخاوت کرنے کے فضل یا توفیق میں بڑھ رہے ہیں تو وہ خدا کی شکر گزاری کرتے ہیں۔

۹:‏ ۱۲جب کرنتھیوں کی خیرات یروشلیم میں کام میں لائی جائے گی تو نہ صرف مقدسوں کی احتیاجیں رفع ہوں گی،‏ بلکہ اِس کے نتیجے میں بہت سے لوگ خدا کی بڑی شکرگزاری بھی کریں گے۔ ہم نے بار بار دیکھا ہے کہ پولس شکرگزاری پر کس قدر زور دیتا ہے۔ ہر وہ کام یا چیز جس سے خداوند کی شکرگزاری ہو،‏ وہ پولس کی نظروں میں بے حد اہمیت اور قدر رکھتی تھی۔

۹:‏ ۱۳ کرنتھیوں کی خیرات سے کئی اَور فائدے بھی ہوں گے۔ ایک تو یہودیہ کے مسیحیوں پر ثابت ہو جائے گا کہ غیر قوموں میں سے اِن ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں واقعی مسیح نے کام کیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ یہودی مسیحی کرنتھیوں جیسے نومریدوں کے بارے میں زبردست شک رکھتے تھے۔ وہ اُن کو حقیقی مسیحی نہیں گردانتے تھے۔ مگر یہ خیرات اور مہربانی اُن کے لئے ثبوت ہو گی کہ کرنتھیوں کا ایمان اصلی اور پکا ہے۔ اور مسیح کی خوش خبری نے اخیہ میں جو کام کیا ہے وہ خدا کی تمجید کریں گے۔ علاوہ ازیں وہ کرنتھیوں کی سخاوت کے لئے بھی خدا کی تمجید اور شکرگزاری کریں گے۔

۹:‏ ۱۴ صرف یہی نہیں! دو اَور فائدے بھی ہوں گے۔ کرنتھس سے یروشلیم کے لئے خیرات کے باعث یہودی مسیحی کرنتھیوں کے مشتاق ہوں گے اور زیادہ دل سوزی سے اُن کے لئے دعا کریں گے۔ اِس لئے کہ کرنتھیوں پر خدا کا بڑا ہی فضل ہے اور یہ فضل اُن کے عمل سے ظاہر ہے۔

۹:‏ ۱۵ اِس موقعے پر پولس کا دل لبریز ہو جاتا ہے اور وہ پکار اُٹھتا ہے،‏ «شکر خدا کا …!» بائبل مقدس کے علما کے لئے یہ آیت ایک معما بنی رہی ہے۔ وہ دیکھ نہیں پائے تھے کہ اِس کا تعلق پہلے کی ساری باتوں سے ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ بخشش جو بیان سے باہر ہے کیا ہے۔

لیکن ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب پولس کرنتھیوں کی خیرات کے بیان کے اِختتام پر پہنچتا ہے تو بے اِختیار اُسے اُس ہستی کا خیال آ جاتا ہے جو سب سے زیادہ سخی اور فیاض ہے،‏ یعنی خدا اور اُسے سب سے بڑی بخشش __ یعنی خداوند یسوع مسیح کا بھی خیال آتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے کرنتھی بھائیوں کے بیان کا اِختتام اِس شاندار راگنی پر کرتا ہے۔ وہ خدا کے فرزند اور مسیح کے پیرو ہیں۔ چنانچہ مناسب ہے کہ وہ اِن عمدہ نمونوں کی پیروی کریں!