۳۔ پولس اپنی رسالت کا دفاع کرتا ہے (ابواب ۱۰-۱۳)
اِس خط کے آخری چار ابواب میں پولس بنیادی طور پر اپنی رسالت کا دفاع کرتا ہے۔ اُس کی تحریروں کے اِس حصے کو بیان کرنے کے لئے پطرس رسول کے الفاظ خاص طور پر موزوں معلوم ہوتے ہیں کہ «ہمارے پیارے بھائی پولس نے … اُن باتوں کا ذکر کیا ہے جن میں بعض باتیں ایسی ہیں جن کا سمجھنا مشکل ہے» (۲۔پطرس ۳: ۱۵ ،۱۶)۔ صاف ظاہر ہے کہ پولس اُن اعتراضات کا جواب دے رہا ہے جو اُس کے معترضین یا نکتہ چین اُس پر کرتے تھے۔ لیکن ہم اُس کے جوابوں کے متن سے ہی کسی حد تک اخذ کر سکتے ہیں کہ یہ اعتراضات کیا تھے۔ اس سارے حصے میں رسول طنز کا بھر پور اِستعمال کرتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کہاں کہاں اُس نے ایسا کیا ہے اور کہاں کہاں نہیں کیا۔ تاہم یہ خدا کے کلام کا بہت ہی مفید حصہ ہے۔ اور اگر ہمارے پاس نہ ہوتا تو یقینا ہم بہت گھاٹے میں رہتے۔
الف۔ پولس اپنے معترضین کو جواب دیتا ہے (۱۰: ۱-۱۲)
۱۰: ۱پولس رسول کے معترضین اُس پر الزام لگاتے تھے کہ وہ دُنیاداروں کے طریقے سے کام کرتا ہے۔ آیات ۱ تا ۶ میں وہ اُن کو جواب دیتا ہے۔
پہلے تو وہ اپنا تعارُف صرف اِس طرح کراتا ہے، « مَیں پولس … خود۔» دوسرے، وہ تحکمانہ انداز میں بات نہیں کرتا بلکہ مقدسین سے التماس کرتا ہے۔ تیسرے وہ مسیح کا حکم اور نرمی اُن کو یاد دلاتا ہے اور اِسی کی بنیاد پر التماس کرتا ہے۔ بے شک وہ خداوند یسوع کی زمینی زندگی کے دوران اُس کے طرزِ عمل کو یاد کرتا ہے۔ اور اتفاق سے یہ نجات دہندہ کی دُنیاوی زندگی کے بارے میں پولس کے معدُودے چند حوالوں میں سے ایک ہے۔ عام طور سے رسول مسیح کی بات کرتا ہے تو آسمان پر جلال کو پہنچے اور خدا کے دہنے ہاتھ پر موجود ہستی کے طور پر کرتا ہے۔
اپنا مزید بیان کرتے ہوئے پولس کہتا ہے کہ « مَیں … جو تمہارے رُوبرو عاجز اور پیٹھ پیچھے تم پر دلیر ہوں۔» صاف ظاہر ہے کہ یہاں وہ طنز کر رہا ہے۔ اُس کے معترضین یہی الزام لگاتے تھے کہ وہ لوگوں کے سامنے بزدل مگر اُن کی پیٹھ پیچھے شیر کی طرح دلیر ہوتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اُس کی دلیری خطوط میں اُس کے بارُعب اور تحکمانہ انداز سے ظاہر ہوتی ہے۔
۱۰: ۲یہ آیت پہلی آیت کے پہلے حصے سے منسلک ہے۔ وہاں اُس نے التماس کرنے کا ذکر کیا تھا مگر اس کی نوعیت بیان نہیں کی تھی۔ یہاں وہ وضاحت کرتا ہے کہ «بلکہ منت کرتا ہوں کہ مجھے حاضر ہو کر اُس بیباکی کے ساتھ دلیر نہ ہونا پڑے جس سے مَیں بعض لوگوں پر دلیر ہونے کا قصد رکھتا ہوں جو ہمیں یوں سمجھتے ہیں کہ ہم جسم کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔» وہ کرنتھیوں کے ساتھ اُس طرح «دلیر نہ ہونا» چاہتا تھا جس طرح اُن افراد پر دلیر ہونے کا قصد رکھتا تھا جو اُس پر جسم کے مطابق زندگی گزارنے کا الزام لگاتے تھے۔
۱۰: ۳ یہاں تصور یہ ہے کہ اگرچہ رسول جسم میں زندگی گزارتے ہیں مگر وہ مسیحی جنگ جسم کے طور پر نہیں لڑتے تھے، یعنی اُن کی نیت یا طریقے جسم کے مطابق نہیں تھے۔
۱۰: ۴ مسیحی «لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں»۔ مثال کے طور پر مسیحی تلواریں اور بندوقیں استعمال نہیں کرتے۔ اور دُنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اِنجیل پھیلانے کے لئے جدید جنگی حکمت ِعملی اِختیار نہیں کرتے۔ مگر پولس صرف اِن ہی جسمانی ہتھیاروں کی بات نہیں کر رہا۔ ایک مسیحی اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے دولت، جاہ و حشمت، طاقت، زبان کی طراری یا کسی اَور طرح کی ہوشیاری چالاکی کو بھی استعمال نہیں کرتا بلکہ وہ ایسے طریقے استعمال کرتا ہے جو خدا کے نزدیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔ یسوع مسیح کے ہر سچے سپاہی کے موثر ہتھیار تو زندہ خدا پر ایمان، دعا اور خدا کے کلام کی فرماں برداری ہیں۔ اِن ہی سے قلعے ڈَھے جاتے ہیں۔
۱۰: ۵ یہاں بتایا گیا ہے کہ آیت ۴ کے قلعوں کا کیا مطلب ہے۔
پولس خود کو ایک سپاہی کے رُوپ میں دیکھتا ہے جو اِنسانوں کی متکبرانہ دلیل بازی کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اِنسانوں کے یہ تصورات یا دلیلیں سچائی کی مخالفت کرتی ہیں۔ اِن تصورات کی اصلیت اِن الفاظ سے واضح ہوتی ہے کہ یہ خدا کی پہچان کے برخلاف سر اُٹھائے ہوئے ہیں۔ آج کے دَور میں اِن کا اطلاق کئی باتوں پر ہو سکتا ہے مثلاً سائنس دانوں کی دلیلیں، مسئلۂ اِرتقا کے حامیوں کے خیالات، فلاسفروں کی نکتہ آفرینیاں اور مذہب پرستوں کی موشگافیاں۔ پولس اِن کے ساتھ مفاہمت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بلکہ اُسے احساس ہے کہ مجھے ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرماں بردار بنا دینا ہے۔ میری زندگی اِسی کام کے لئے وقف ہے۔ اِنسان کی تمام تعلیمات اور ہر قسم کی سوچ کا جائزہ خداوند یسوع مسیح کی تعلیم کی روشنی میں لینا ضروری ہے۔ پولس اِنسانی دلیلوں کی بلاجواز مذمت نہیں کرتا، بلکہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہم اپنی ذہانت کو خداوند کے خلاف اور اُس کی نافرمانی کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔
۱۰: ۶ مسیح کا سپاہی ہونے کے باعث رسول ہر طرح کی نافرمانی کی سزا دینے کو تیار ہے۔ اور جب کرنتھی پہلے اپنی فرماں برداری ثابت کر لیں گے تو وہ ایسا ہی کرے گا، یعنی وہ کرنتھس میں موجود جھوٹے اُستادوں کے خلاف اُس وقت تک کارروائی نہیں کرے گا جب تک اُسے یقین نہ ہو جائے کہ وہاں کے ایمان دار ساری باتوں میں فرماں بردار ہیں۔
۱۰: ۷ پہلا جملہ سوال بھی ہو سکتا ہے کہ کیا تم «اُن چیزوں پر نظر کرتے ہو جو آنکھوں کے سامنے ہیں؟» اور بیانِ واقعی بھی ہو سکتا ہے کہ تم صرف چیزوں کو سطحی طور سے دیکھ رہے ہو، بلکہ حکمیہ انداز بھی ہو سکتا ہے کہ اُن چیزوں کو دیکھو جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں، یعنی حقائق کا سامنا کرو۔
اگر ہم اِس کو بیانِ واقعی سمجھیں تو مطلب ہو گا کہ کرنتھیوں میں یہ رُجحان ہے کہ وہ کسی آدمی کا اندازہ اِس بات سے لگاتے ہیں کہ جب وہ موجود ہوتا ہے تو بارُعب اور حاکمانہ انداز رکھتا ہے، خوش تقریر ہے، لاجواب دلیلیں دے سکتا ہے یا نہیں۔ وہ باطنی حقیقت سے نہیں بلکہ خارجی اور ظاہری باتوں پر ڈانواں ڈول ہوئے۔
«اگر کسی کو اپنے آپ پر یہ بھروسا ہے کہ وہ مسیح کا ہے تو اپنے دل میں یہ بھی سوچ لے کہ جیسے وہ مسیح کا ہے ویسے ہی ہم بھی ہیں۔» یہاں پولس غالباً اُن لوگوں کی طرف اِشارہ کر رہا ہے جو کہتے تھے کہ « مَیں مسیح کا ہوں» (۱۔کرنتھیوں ۱: ۱۲)اور دوسروں کو مسیح سے خارج قرار دیتے تھے۔ پولس کا جواب ہے کہ کوئی بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ صرف مَیں مسیح کا ہوں اور دوسرے نہیں ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مَیں بھی ویسے ہی مسیح کا ہوں جیسے وہ ہیں۔
یہ دوسروں کو باہر رکھنے والے مسیحی جو بھی تھے پولس اِنکار نہیں کرتا کہ وہ بھی مسیح کے ہیں اِس لئے اِس پیرے میں وہ جھوٹے رسولوں اور دھوکے باز کارندوں کا ذکر نہیں کر رہا جو اپنے آپ کو مسیح یسوع کے رسول کہتے تھے (۱۱: ۱۴)۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِس خط میں رسول کئی طرح کے مخالفین سے نبرد آزما ہے۔ اِن میں نجات یافتہ بھی تھے اور غیر نجات یافتہ بھی۔
۱۰: ۸ پولس خداوند یسوع مسیح کا رسول تھا۔ اِس لئے جو کلیسیائیں اُس نے قائم کی تھیں اُس کو اُن پر اِختیار دیا گیا تھا اور اِس اِختیار کا مقصد اُن کو اُن کے پاک ترین ایمان میں ترقی دینا اور تعمیر کرنا تھا۔ مگر دوسری طرف جھوٹے اُستاد کرنتھیوں پر ایسا اِختیار استعمال کر رہے تھے جو اُن کو خداوند کی طرف سے نہیں ملا تھا۔ اِتنا ہی نہیں، بلکہ وہ اِس اِختیار کو تعمیر کے لئے نہیں بلکہ بگاڑنے کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ اِس لئے پولس کہتا ہے کہ «اگر مَیں اِس اِختیار پر کچھ زیادہ فخر بھی کروں جو خداوند نے … دیا ہے» تو مجھے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔ بالآخر اُس کے دعوے سچ ثابت ہوں گے۔
۱۰: ۹ پولس نے یہ باتیں اِس لئے کہی ہیں کہ اپنے خطوں سے مسیحیوں کو ڈرانے والا نہ ٹھہرے۔ دوسرے لفظوں میں رسول اگر خدا کے تفویض کردہ اِختیار پر فخر کرتا ہے تو مسیحیوں کو نہیں سوچنا چاہئے کہ ہمیں ڈرانے کے لئے کرتا ہے۔ یہ تو اپنے نکتہ چینوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گا۔ وہ کرنتھیوں کو باور کرانا چاہتا ہے کہ میرا اِختیار تمہیں بنانے کے لئے ہے اور مَیں اِسے اِسی طرح استعمال کرتا ہوں۔
۱۰: ۱۰یہاں ہمارے سامنے وہ اعتراض یا الزام پیش ہوا ہے جو پولس رسول پر لگایا گیا تھا۔ اُس کے معترضین الزام لگاتے تھے کہ وہ دھمکی آمیز خط لکھتا ہے۔ «لیکن جب خود موجود ہوتا ہے تو کمزور سا معلوم ہوتا ہے۔»
۱۰: ۱۱ ایسے الزام لگانے والے ہر شخص کو سوچ رکھنا چاہئے کہ جب پولس اُن کے درمیان موجود ہو گا تو ویسا ہی ہو گا جیسا اُن کے بقول اپنے خطوں میں ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ پولس تسلیم کرتا ہے کہ مَیں خطوں میں رُعب ڈالتا ہوں۔ یہ تو اُن لوگوں کا کہنا تھا، بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ جب اُن سے رُوبرو ملوں گا تو اُن سے سختی سے نمٹوں گا۔ مجھ میں کوئی بزدلی نہیں ہو گی۔
۱۰: ۱۲ صاف نظر آتا ہے کہ جھوٹے اُستادوں کی عادت تھی کہ دوسروں کے ساتھ اپنا مقابلہ کرتے تھے۔ وہ پولس کو کرنتھیوں کے سامنے کچھ اِس طرح پیش کرتے تھے کہ مضحکہ خیز معلوم ہو۔ وہ اپنے آپ کو اندرونی حلقہ سمجھتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ و بلند تر گردانتے تھے۔ اُن کے مطابق کوئی بھی اُن کے سامنے کھڑا ہو مقبول اور پسندیدہ نظر نہیں آ سکتا تھا۔ چنانچہ پولس بھرپور طنز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ «ہماری یہ جرأت نہیں کہ اپنے آپ کو اِن چند شخصوں میں شمار کریں یا اُن سے کچھ نسبت دیں جو اپنی نیک نامی جتاتے ہیں، لیکن وہ خود اپنے آپ کو آپس میں وزن کر کے اور اپنے آپ کو ایک دوسرے سے نسبت دے کر نادان ٹھہرتے ہیں۔» وہ الزام لگاتے تھے کہ پولس اپنے خطوں میں دلیر ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ یہاں کہتا ہے کہ مَیں اِتنا دلیر نہیں کہ خود کو اُن میں شمار کروں جو اپنی نیک نامی جتاتے ہیں۔ یا اُن سے نسبت دوں جن کا واحد معیار خود اپنی زندگی ہے۔
یہ تو صاف ظاہر ہے کہ جس شخص کا واحد معیار خود اپنا آپ ہو گا وہ ہمیشہ اپنے آپ کو درست اور راست قرار دے گا! اُس میں ترقی کی کوئی گنجائش نہ ہو گی۔ جو ایسا کرتے ہیں وہ نادان ٹھہرتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تمام جتھوں اور ٹولیوں کو یہی مرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے باہر کسی خوبی یا فضیلت کو مانتے ہی نہیں۔
ب۔ پولس کا اُصول: مسیح کے لئے نئی زمین تیار کرنا (۱۰: ۱۳-۱۶)
۱۰: ۱۳ آیات ۱۳ تا ۱۶ میں پولس اِس ارادے کا اِظہار کرتا ہے کہ مَیں خدمت کے صرف اُسی علاقے پر فخر کروں گا جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ جب وہ فخر کرتا تھا تو کسی دوسرے کے کام میں نہیں گھستا تھا۔ یہ واضح اِشارہ ہے اُن افراد کی طرف جو یہودی رسم و رواج کے حامی تھے۔ یہ اُن کا طریقہ تھا کہ جو کلیسیائیں پولس رسول نے یا کسی دوسرے مسیحی نے قائم کی ہوتی تھیں، اُن میں گھس آتے تھے اور دوسرے شخص کی نیو پر عمارت اُٹھاتے تھے۔ چنانچہ جب وہ فخر کرتے تھے تو درحقیقت اُس کام پر فخر کرتے تھے جو کسی دوسرے نے کیا ہوتا تھا۔
پولس کہتا ہے کہ مَیں اُن باتوں پر فخر نہیں کروں گا جو مسیح کے لئے میری خدمت کے علاقے سے باہر ہیں۔ بلکہ مَیں اُن جگہوں اور شخصوں پر فخر کروں گا جہاں خدا نے میری خدمت کی تصدیق کی ہے۔ اِن میں کرنتھس شامل ہے، کیونکہ وہ خوش خبری لے کر وہاں گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کلیسیا قائم ہوئی تھی۔
درحقیقت پولس کو خداوند نے غیر قوموں میں خوش خبری سنانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور اِس تقرر میں کرنتھس یقینا شامل تھا۔ یروشلیم میں رسولوں نے اِس سے اتفاق کیا تھا۔ لیکن اب یروشلیم سے جھوٹے رسول آ کر اُن علاقوں پر یلغار کر رہے تھے جو خدا نے پولس رسول کو دیئے تھے۔
۱۰: ۱۴ پولس کوئی بے جا فخر نہیں کر رہا تھا۔ خدا نے اُس کی خدمت کا ایک علاقہ مقرر کر دیا تھا۔ اِس علاقے میںکرنتھس شامل تھا۔ وہ کرنتھس میں آیا، خوش خبری کی منادی کی اور ایک کلیسیا کی داغ بیل ڈالی۔ اگر وہ کرنتھس میں نہ آتا تو اُس پر الزام لگ سکتا تھا کہ اپنی حد سے بڑھ کر فخر کر رہا ہے۔
اُسے کرنتھیوں تک پہنچنے کے لئے آزمائشوں، اِمتحانوں، مصیبتوں اور مشکلوں میں سے گزرنا پڑا تھا۔ اب دوسرے لوگ اُس علاقے میں یلغار کر رہے تھے جہاں اُس نے ہراول دستہ کے طور پر کام کیا تھا۔ اور وہ اپنی کامیابیوں پر بلند آواز سے فخر کر رہے تھے۔
۱۰: ۱۵ رسول نے مصمم ارادہ کر رکھا ہے کہ اُن معاملات پر فخر نہیں کرے گا جو براہِ راست اُس کی اپنی محنت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ اور یہی بات ہے جس میں یہودیت نواز (وہ افراد جو مسیحیوں کو یہودی رسم و رواج کا پابند کرنا چاہتے تھے) افراد قصوروار تھے۔ وہ دوسروں کی محنتوں پر فخر کرتے تھے۔ وہ پولس کی بھیڑیں چرانے، اُس کی کردار کشی کرنے، اُس کی تعلیم کی مخالفت کرنے اور اُسے غلط ثابت کرنے اور جھوٹا اِختیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
پولس کو اُمید تھی کہ جب کرنتھیوں کی ایمان میں ترقی ہو گی اور وہ آگے کسی اَور علاقے کی طرف بڑھ سکے گا، تو اُن کا ایمان عملی مدد کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ یوں وہ خدا کے رسول کی حیثیت سے اگلے علاقوں میں جا سکے گا۔ اپنی خدمت کو اِس طرح وسعت دینے میں وہ اپنے اصول پر مستقل مزاجی سے عمل پیرا رہے گا۔
کرنتھس کے مسائل اور مشکلات پولس کا اِتنا وقت لے رہی تھیں کہ وہ اِن سے آگے کے علاقوں میں اپنے مشن کو پورا کرنے میں رکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔
۱۰: ۱۶ قاعدہ یہ تھا کہ کرنتھیوں کی «سرحد سے پرے خوش خبری» پہنچائی جائے (غالباً مراد مغربی یونان، اطالیہ اور سپین ہے) اور «غیر کے علاقے میں بنی بنائی چیزوں پر فخر» نہ کیا جائے۔ پولس رسول کا ہرگز ارادہ نہ تھا کہ دوسروں کی محنت کے میدان پر ہاتھ مارے یا اُس کے پہنچنے سے پہلے کسی علاقے میں دوسروں نے کام کیا ہو اور وہ اُس پر فخر کرے۔
ج۔ پولس کا عظیم نصب العین:خداوند کی خوشنودی (۱۰: ۱۷،۱۸)
۱۰: ۱۷«غرض جو فخر کرے وہ خداوند پر فخر کرے۔» مطلب صاف ہے کہ اُس کام پر فخر کرے جو خداوند نے اُس کے وسیلے سے پورا کیا ہے۔ رسول کی دلیل کا عام رُخ یہی ہے۔
۱۰: ۱۸ آخر خدا اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے کو پسند نہیں کرتا۔ جس سوال کا سامنا پولس کے نکتہ چینوں کو کرنا چاہئے یہ ہے __ کیا خدا نے تم کو نیک نام ٹھہرایا ہے، تمہاری خدمت پر برکت دی ہے اور لوگوں نے نجات پائی ہے، کیا مقدسین کی ایمان میں ترقی اور مضبوطی ہوئی ہے اور کلیسیائیں قائم ہوئی ہیں؟ کیا تم خداوند کی طرف سے اپنی مقبولیت ثابت کرنے کے لئے وہ افراد دکھا سکتے ہو جنہوں نے تمہاری منادی کے نتیجے میں نجات پائی ہے؟ اہم بات تو یہ ہے۔ پولس دکھا سکتا ہے کہ خداوند نے میری خدمت کو قبول کیا ہے اور مجھے نیک نام ٹھہرایا ہے۔
اِس باب میں اور اگلے باب میں پولس اُس بات میں لگ جاتا ہے جسے وہ بے وقوفی کہتا ہے، یعنی اپنی تعریف کرنا۔ وہ ہرگز ایسا نہیں چاہتا۔ وہ اِسے سخت ناپسند کرتا تھا۔ لیکن وہ کرنتھیوں سے کہتا ہے کہ تم میری بے وقوفی کی برداشت کر لو۔
معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹے اُستاد بہت ڈینگیں مارتے اور فخر کا مظاہرہ کرتے تھے۔ بے شک وہ اپنی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے اور اپنی خدمت کے بارے میں شاندار رپورٹیں دیتے ہوں گے۔ پولس نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنی نہیں صرف مسیح کی منادی کرتا تھا۔
لگتا ہے کہ کرنتھی ایسی فخریہ قسم کی خدمت کو پسند کرتے تھے۔ اِس لئے پولس اُن سے کہتا ہے کہ اب مجھے بھی تھوڑا سا فخر کر لینے دو۔
د۔ پولس اپنی رسالت کا دعویٰ کرتا ہے (۱۱: ۱-۱۵)
۱۱: ۱ «کاش کہ تم میری تھوڑی سی بے وقوفی کو برداشت کر سکتے! ہاں تم میری برداشت کرتے تو ہو۔» پولس خواہش کرتا ہے کہ اب جب کہ مَیں شیخی مارنے لگا ہوں تو کرنتھی میری برداشت کریں۔ لیکن اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ تو پہلے ہی برداشت کر رہے ہیں، اِس لئے یہ درخواست غیر ضروری ہے۔
۱۱: ۲ پولس یہ درخواست کرنے کی تین وجوہات پیش کرتا ہے: اوّل، «مجھے تمہاری بابت خدا کی سی غیرت ہے۔» پولس نے «ایک ہی شوہر کے ساتھ» کرنتھیوں کی نسبت کی تھی تاکہ اُن کو پاک دامن کنواری کی مانند مسیح کے پاس حاضر کرے۔ وہ کرنتھیوں کی روحانی فلاح اور ترقی کو اپنی شخصی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ اُس کو دلی آرزو تھی کہ آنے والے دن یعنی فضائی استقبال کے دن وہ کرنتھیوں کو اِس طور سے مسیح کے حضور میں پیش کرے کہ وہ ہر قسم کی غلط تعلیم کے اثر اور بگاڑ سے پاک ہوں۔ اور چونکہ وہ اُن کے بارے میں اِس طرح کی غیرت رکھتا تھا اِس لئے وہ کام کرنے پر بھی تیار تھا جو بے وقوفی نظر آتا ہے۔
۱۱: ۳ اُس کے بے وقوفی کا مظاہرہ کرنے کی دوسری وجہ اُس کا ڈر تھا کہ کہیں یہ مقدسین دھوکا نہ کھا جائیں اور مسیح کے ساتھ جاں نثاری میں خلوص اور پاک دامنی سے اُن کے خیالات بگڑ نہ جائیں۔ خلوص کا مطلب ہے دل صرف ایک طرف یا ایک شخص سے لگانا۔ پولس چاہتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صرف خداوند یسوع کے لئے وقف کر دیں۔ اُن کا دل کسی دوسرے کی طرف مائل نہ ہو۔ مزید برآں وہ چاہتا ہے کہ اِس خلوص میں کوئی داغ، کوئی عیب نہ ہو۔
پولس یاد کرتا ہے کہ کس طرح سانپ نے اپنی مکاری سے حوا کو بہکایا تھا۔ اُس نے حوا کی عقل یا خیالات کو ورغلایا تھا۔ اور بالکل یہی طریقہ جھوٹے اُستاد کرنتھس میں استعمال کر رہے تھے۔ پولس چاہتا ہے کہ کرنتھیوں کے خیالات کنواری کی مانند ہوں جو منتشر نہیں ہوتے، بلکہ ایک طرف لگے ہوتے ہیں اور بے داغ ہوتے ہیں۔
غور کریں کہ پولس حوا اور سانپ کے بیان کو ایک واقعے کے طور پر پیش کرتا ہے، خیالی کہانی کے طور پر نہیں۔
۱۱: ۴ رسول کے بے وقوفی کا مظاہرہ کرنے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ کرنتھی جھوٹے اُستادوں کی باتیں سننے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ جب کوئی کرنتھس میں آ کر دراصل کسی دوسرے یسوع کی منادی کرتا تھا اور روح القدس کے علاوہ کوئی اَور روح دینے کا دعویٰ کرتا تھا تو کرنتھی بڑے آرام سے اُس کی برداشت کرتے تھے۔ وہ اُن کے نظریات کو بڑے پیار سے برداشت کرتے تھے۔ پولس طنزاً کہتا ہے، «تم دوسروں کے ساتھ ایسا کرتے ہو تو میرے ساتھ کیوں نہیں کرتے؟»
آخری الفاظ «تو تمہارا برداشت کرنا بجا ہے» بھرپور طنز ہیں۔ پولس اُن کے بدعت کو قبول کر لینے کی تائید نہیں کر رہا بلکہ اُن میں اِمتیاز کے فقدان اور فریب میں آ جانے کا مذاق اُڑا رہا ہے۔
۱۱: ۵ اُنہیں چاہئے کہ پولس کو قبول کریں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُن افضل رسولوں سے کچھ کم نہیں سمجھتا۔
افضل رسولوں کی ترکیب میں زبردست طنز ہے، یعنی وہ جھوٹے اُستادوں کو طنزاً افضل کہہ رہا ہے۔
کلیسیا کے اِصلاح کار یعنی ریفارمر اِس آیت کو پاپائی نظریے کی تردید کے لئے استعمال کرتے تھے کہ پطرس سب سے بڑا رسول ہے اور پوپِ اعظم ہونے کا منصب اُسی سے وراثت میں چلا آتا ہے۔
۱۱: ۶ پولس کہتا ہے کہ مان لیا مَیں تقریر میں بے شعور ہوں، مگر بلاشبہ علم کے اعتبار سے کم نہیں ہوں۔ کرنتھیوں کو یہ حقیقت صاف نظر آنی چاہئے تھی، کیونکہ اُنہوں نے مسیحی ایمان کا علم پولس رسول ہی سے حاصل کیا تھا۔ جہاں تک خوش تقریری کا تعلق ہے، پولس میں کچھ بھی کمی ہوتی، لیکن اُس نے اپنی بات کرنتھی مقدسین کو سمجھا تو دی تھی۔ وہ خود اِس کے گواہ تھے۔
۱۱: ۷ کرنتھیوں نے پولس کے لئے منفی رویہ اِختیار کر لیا تھا۔ اگر اِس رویے کی وجہ اُس کی سخت باتیں یا اُلجھا ہوا اندازِ تقریر نہ تھا تو شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ اُس نے اپنے آپ کو پست کیا تاکہ وہ بلند ہو جائیں۔ آیت کا باقی حصہ اِس کے مفہوم کی وضاحت کرتا ہے۔ جب رسول اُن کے پاس تھا تو اُس نے اُن سے کسی قسم کی مالی مدد نہیں لی تھی۔ شاید وہ سوچتے تھے کہ پولس رسول نے ایسی پستی اِختیار کر کے اور ہمیں بلندی دے کر کوئی خطا کی ہے۔
۱۱: ۸ « مَیں نے اَور کلیسیائوں کو لوٹا۔» یہ ایک ادبی صنعت ہے جس کو مبالغہ کہا جاتا ہے۔ جس میں بھرپور تاثر پیدا کرنے کے لئے بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پولس کا یہ مطلب نہیں کہ اُس نے دوسری کلیسیائوں کو واقعی لوٹا تھا۔ مطلب صرف یہ ہے کہ کرنتھس میں خدمت کرنے کے دوران وہ دوسری کلیسیائوں سے مالی مدد حاصل کر رہا تھا، تاکہ وہ کرنتھیوں سے کچھ لئے بغیر اُن کی خدمت کر سکے۔
۱۱: ۹ کرنتھس میں قیام کے دوران ایسے وقت بھی آئے جب پولس واقعی حاجت مند ہو جاتا تھا۔ کیا وہ کرنتھیوں کو اپنی حاجت بتاتا اور اُن سے کسی قسم کی مدد کا طلب گار ہوتا تھا؟ ہرگز نہیں۔ بعض بھائیوں نے مکدنیہ سے آ کر اُس کی حاجت کو رفع کر دیا تھا۔
رسول نے کبھی بھی کسی طرح کسی پر بوجھ نہیں ڈالا۔ اور اُس کا ارادہ تھا کہ آئندہ بھی اِسی رویے پر کاربند رہوں گا۔ بحیثیت رسول اُس کا حق تھا کہ کرنتھی اُس کی ضروریات کو پورا کریں، مگر وہ اپنے اِس حق پر اِصرار کرنے سے باز رہا۔
۱۱: ۱۰ پولس نے پکا اِرادہ کر رکھا تھا کہ «اخیہ کے علاقے میں کوئی شخص مجھے یہ فخر کرنے سے نہ روکے گا۔» یاد رکھیں کہ کرنتھس اخیہ کے علاقے میں واقع تھا۔ بلاشبہ یہاں اُس کا اِشارہ اپنے نکتہ چینوں کی طرف ہے جو اُس کے اِس طرح باز رہنے کو اُس کے خلاف ایک دلیل قرار دیتے تھے، کہ چونکہ اُسے احساس ہے کہ مَیں سچا رسول نہیں ہوں اِس لئے وہ کرنتھیوں سے مالی اِمداد نہیں لیتا (۱۔کرنتھیوں باب ۹)۔ نکتہ چینوں کے اِن اعتراضوں اور الزامات کے باوجود پولس اِس بات پر فخر کرتا رہے گا۔ مَیں کسی قسم کی مالی مدد لئے بغیر کرنتھیوں کی خدمت کرتا ہوں۔
۱۱: ۱۱ «وہ کس واسطے» اِس طرح فخر کرے گا؟ کیا اِس لئے کہ وہ کرنتھیوں سے محبت نہیں رکھتا؟ خدا جانتا ہے کہ یہ بات نہیں۔ اُس کا دل تو کرنتھیوں کی محبت سے لبریز تھا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول کچھ بھی کرتا اُس پر تنقید ہی ہونی تھی۔ اگر کرنتھیوں سے پیسے لیتا تو معترضین کہتے کہ وہ اِسی کی خاطر منادی کرتا ہے۔ اگر نہیں لیتا تو الزام ہے کہ اُن سے محبت نہیں رکھتا۔ لیکن حقیقت تو خدا جانتا ہے۔ اور پولس سارا معاملہ اُسی پر چھوڑنے پر مطمئن ہے۔
۱۱: ۱۲ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہودیت نواز افراد کرنتھیوں سے پیسے لینے کی نہ صرف توقع رکھتے تھے، بلکہ مطالبہ کرتے اور لیتے تھے۔ اکثر فرقہ پرستوں کی طرح جب تک مالی فائدہ نہ ہو، وہ خدمت کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ پولس اپنے ارادہ پر قائم ہے کہ کرنتھس کے ایمان داروں سے مالی فائدہ اُٹھائے بغیر اُن کی خدمت کرتا رہے گا۔ اگر جھوٹے اُستاد فخر کرنے میں اُس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہوں تو وہ بھی اُسی کی حکمت ِعملی کو اپنائیں۔ اِس طرح اُس نے فخر کرنے کے معاملے میں اُن کو بے دست و پا کر دیا۔
۱۱: ۱۳ پولس نے اِن جھوٹے اُستادوں کے متعلق جو رائے قائم کی تھی، وہ اَب تک دبی ہوئی تھی، مگر اب پورے زور سے ظاہر ہوتی ہے۔ اب وہ مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ اب وہ اِن کا پول کھولنے پر مجبور ہے کہ «یہ جھوٹے رسول … ہیں»۔ مراد یہ ہے کہ اِن کو خداوند یسوع مسیح کی طرف سے رسالت نہیں ملی۔ رسول ہونے کے لئے مقرر نہیں کیا۔ وہ خود ہی رسول بن بیٹھے ہیں یا لوگوں نے اُن کو رسول کا رتبہ دے دیا ہے۔ وہ «تو دغابازی سے کام کرنے والے ہیں»۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ اُن کا طریقۂ کار کیا تھا۔ وہ فرق فرق کلیسیائوں میں گھوم کر اپنی جھوٹی تعلیم کے پیروکار ڈھونڈتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسیح کے رسولوں کے ہم شکل بنا لیتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسیح کے نمائندے ہیں۔ پولس خود کو ایسے لوگوں کی سطح پر نہیں رکھنا چاہتا۔
جو باتیں پولس اِن یہودیت نواز اُستادوں کے بارے میں کہتا ہے، وہ آج بھی جھوٹے اُستادوں پر صادق آتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بُرائی اگر جانی پہچانی شکل میں آئے تو ہم کو پھنسا نہیں سکتی، اِسے کامیابی کے لئے بھیس بدلنا ضروری ہے۔ وہ اِنسان کو ایسے خیالات اور اُمیدوں سے راغب کرتی ہے جن کو اچھا سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے۔
۱۱: ۱۴ رسول نے ابھی ابھی کہا ہے کہ کرنتھس میں موجود اُس کے معترضین خود کو مسیح کے رسول ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُس کے اُستاد کی چالوں کو دیکھتا ہے تو اُسے اُن کی حرکتوں پر چنداں حیرت نہیں ہوتی۔ اِسی لئے وہ کہتا ہے کہ «اور کچھ عجب نہیں کیونکہ شیطان بھی اپنے آپ کو نورانی فرشتے کا ہم شکل بنا لیتا ہے۔ »
آج کل شیطان کی تصویر عام طور سے اِس طرح بنائی جاتی ہے کہ ایک کریہہ شکل جانور ہے۔ رنگت گہری سرخ، سر پر سینگ اور پیچھے ایک دُم ہے۔ لیکن اِس شکل و صورت کا اُس بھیس سے دُور کا بھی تعلق نہیں جس میں وہ اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ شیطان نورانی فرشتے کا ہم شکل بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ خود کو اِنجیل کا خادم ظاہر کرتا ہے، مذہبی لباس پہنے فیشن ایبل گرجے کے پلپٹ پر کھڑا ہوتا ہے، وہ خدا، یسوع اور بائبل جیسے لفظ استعمال کرتا ہے۔ اور سننے والوں کو جھانسا دیتا ہے کہ نجات نیک اعمال سے یا اِنسانی خوبیوں سے ہے۔ وہ یہ منادی نہیں کرتا کہ مخلصی مسیح کے خون کے وسیلے سے ہے۔
۱۱: ۱۵ جے۔ این۔ ڈاربی نے ایک دفعہ کہا کہ شیطان سب سے زیادہ شیطانی اُس وقت ہوتا ہے جب بائبل اُٹھائے ہوئے ہو۔ یہی خیال اِس آیت میں پیش کیا گیا ہے۔ اگر شیطان خود بہروپ بھر لیتا ہے، تو تعجب کیسا کہ اُس کے گماشتے بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ کیا بہروپ بھرتے ہیں؟ جھوٹے اُستاد؟ دہریے؟ بے دین؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ راست بازی کے خادموں کے ہم شکل بنتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مذہب کے خادم ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کو سچائی اور راست بازی کی راہ پر لے جا رہے ہیں۔ لیکن ہوتے ہیں وہ اُس شریر کے ایجنٹ۔
اُن کا انجام اُن کے کاموں کے موافق ہو گا۔ وہ ہلاک کرتے ہیں۔ وہ ہلاک ہوں گے۔ اُن کے کام لوگوں کو بُرے انجام کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ خود بھی فنا ہو جائیں گے۔ ابدی ہلاکت میں پڑیں گے۔
ہ۔ پولس کا مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانا اُس کی رسالت کی حمایت کرتا ہے (۱۱: ۱۶-۳۳)
۱۱: ۱۶یہ ساری باتیں کرتے ہوئے پولس کو اُمید ہے کہ کوئی اُسے بے وقوف نہ سمجھے گا کہ فخر کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ اُسے بے وقوف سمجھنے پر مُصر رہیں تو «بے وقوف ہی سمجھ کر مجھے قبول کرو کہ مَیں بھی تھوڑا سا فخر کروں»۔
آیت کے اِس حصے میں لفظ «بھی» پر غور کریں۔ یہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ جھوٹے اُستاد بہت زیادہ فخر کر رہے تھے۔ پولس کہہ رہا ہے کہ اگر تم نے مجھے بے وقوف ہی سمجھنا ہے، جو کہ مَیں نہیں ہوں، تو چلو ایسا ہی سمجھو تاکہ مَیں بھی اِن دوسرے لوگوں کی طرح تھوڑا سا فخر کر لوں۔
۱۱: ۱۷ اِس آیت کی دو تشریحات ممکن ہیں۔ بعض کے خیال کے مطابق جو کچھ پولس یہاں کہہ رہا ہے الہامی نہیں ہے __ حالانکہ اُس کا ایک ایک لفظ الہامی ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ یہ بات اُسے خداوند کے حکم سے نہیں پہنچی تھی۔
دوسری تشریح یہ ہے کہ جو کچھ پولس یہاں کر رہا ہے __ یعنی فخر کر رہا ہے __ وہ «خداوند کے طور پر نہیں»۔ اِس مفہوم میں کہ اِس طرح وہ خداوند کے نمونے کی پیروی نہیں کر رہا۔ خداوند نے کبھی فخر نہیں کیا۔
لگتا ہے کہ فلپس پہلے نقطۂ نظر کا حامی ہے۔ وہ اِس آیت کا یوں ترجمہ کرتا ہے، «مَیں یہاں خداوند کے حکم کے مطابق بات نہیں کر رہا بلکہ ایک بے وقوف کی طرح کر رہا ہوں، جو فخر کرنے پر اُدھار کھائے بیٹھا ہو۔»
ہم دوسری تشریح کو ترجیح دیتے ہیں کہ فخر کرنا «خداوند کے طور پر نہیں» تھا۔ اور لگتا ہے کہ پولس اپنے منہ میاں مٹھو بن کر بے وقوفی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ رائیل (Ryle) یوں تبصرہ کرتا ہے: «وہ کہتا ہے کہ مجھے اپنی عقل کے خلاف فخر کرنا پڑا، تاکہ کچھ اہم باتوں کی طرف تمہاری توجہ مبذول کرا سکوں۔»
۱۱: ۱۸ حال ہی میں کرنتھیوں نے اُن افراد سے بہت سی باتیں سنی تھیں جو بگڑی ہوئی اِنسانی فطرت کے مطابق خود ستائی کرتے رہتے ہیں۔ اگر کرنتھی سمجھتے ہیں کہ اُن لوگوں کے پاس اپنی بڑائی کرنے کی کافی وجوہ ہیں تو پولس کہتا ہے کہ میرے اپنے اوپر فخر کرنے پر بھی غور کریں اور دیکھیں کہ مناسب بنیاد ہے یا نہیں۔
۱۱: ۱۹ پولس پھر طنز کرتا ہے۔ جو کچھ وہ اُن کو اپنے (پولس) ساتھ کرنے کو کہہ رہا ہے، وہی وہ دوسروں کے ساتھ ہر روز کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اِتنا عقل مند سمجھتے ہیں کہ کسی بے وقوفی سے دھوکا نہیں کھا سکتے۔ مگر دراصل ایسا ہی ہو رہا تھا۔ وہ ابھی اِس کی وضاحت کرے گا۔
۱۱: ۲۰ وہ مذکورہ قسم کے شخص کی برداشت کرنے پر تیار تھے۔
جس شخص کا بیان کیا گیا ہے وہ کون تھا؟ آگے آنے والی باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہودیت نواز شخص ہے یعنی وہ جھوٹا رسول جو کرنتھیوں کو شکار کر رہا تھا۔ پہلے وہ اُن کو غلام بناتا ہے۔ بلاشبہ اِس سے مراد شریعت کی غلامی ہے (اعمال ۱۵: ۱۰)۔ وہ تعلیم دیتا ہے کہ نجات کے لئے مسیح پر ایمان لانا ہی کافی نہیں بلکہ موسیٰ کی شریعت کو بھی ماننا ضروری ہے۔
پھر وہ مقدسین کو «کھا جاتا ہے»۔ مراد یہ ہے کہ اُن سے بھاری مالی مطالبات کرتا ہے۔ وہ محبت کی رُو سے اُن کی خدمت نہیں کرتا بلکہ مالی فائدہ اُٹھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ «پھنسا لیتا» ہے۔ یہ اصطلاح مچھلی پکڑنے یا عام شکار کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔ جھوٹا اُستاد اِن لوگوں کو اپنا شکار بنا لیتا ہے اور جدھر چاہتا ہے لئے پھرتا ہے۔
اِن لوگوں کی ہمیشہ یہی خصوصیت ہوتی ہے کہ فخر کرتے اور ڈینگیں مارتے اور اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ و برتر ظاہر کرتے ہیں۔ اور دوسروں پر نکتہ چینی اور اعتراض کر کے خود کو بڑا بناتے ہیں۔
اور آخرکار وہ مقدسین کے منہ پر طمانچہ مارتاہے یعنی بہت زیادہ ذلیل کرتا ہے۔ ہمیں اِس بات کو لغوی معنوں میں سمجھنے میں بھی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ ہر زمانے میں کلیسیا کے متکبر سربراہ اکثر اوقات عام اراکینِ کلیسیا کو مارتے بھی رہے ہیں، تاکہ اپنا رُعب اور اِختیار دکھائیں۔
پولس حیرانی کا اِظہار کرتا ہے کہ کرنتھی اِن جھوٹے اُستادوں کے ہاتھوں اِس قسم کا ذلت آمیز سلوک برداشت کر لیتے ہیں۔ مگر خود اُس کی محبت بھری تنبیہ، آگاہی اور سرزنش کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔
ڈاربی کہتا ہے «حیرت کی بات ہے کہ لوگ جھوٹ اور مکاری کے ہاتھوں بہت کچھ برداشت کر لیتے ہیں، جب کہ سچائی اور حقیقت کی ایک بات بھی سہنا گوارا نہیں کرتے۔»
۱۱: ۲۱ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اِس آیت میں پولس کہہ رہا ہے کہ مَیں اپنی کم قدری کرتے ہوئے یہ کہتا ہوں گویا کہ جب مَیں شخصی طور پر تمہارے درمیان موجود تھا تو مَیں اِس اِنداز میں اپنا اِختیار منوانے سے ڈرتا اور کمزوری دکھاتا تھا جس طرح یہ (جھوٹے اُستاد) اپنا آپ منواتے ہیں۔
ایک اَور رائے یہ ہے کہ اِس طرح کہہ کر مَیں اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہوں، کیونکہ اگر یہی طاقت ہے تو مَیں کمزور ہی رہا ہوں۔
فلپس اِس رائے سے اتفاق کرتا ہے کہ «مجھے یہ کہتے ہوئے تقریباً شرم آتی ہے کہ مَیں نے تمہارے سامنے کبھی ایسی دلیری اور بہادری نہیں دکھائی۔»
پولس کہہ رہا ہے کہ جس طرح یہ جھوٹے اُستاد کرتے ہیں اگر یہی طاقت اور قوت ہے تو مَیں شرمندہ ہوں کہ مَیں نے کبھی ایسی طاقت نہیں دکھائی بلکہ کمزوری ہی دکھاتا رہا ہوں۔ لیکن وہ ساتھ ہی کہتا ہے کہ «جس کسی بات میں» یہ دوسرے لوگ دلیر ہیں تو مجھے بھی اُن کی طرح دلیر ہونے کا حق ہے۔ مافٹ (Moffatt) کیا خوب کہتا ہے کہ « مَیں اُن کے برابر ہوں (یاد رکھئے یہ کام بے وقوف کا ہے!)۔» اِس تعارف کے ساتھ ہی پولس اِس خط کے نہایت ہی خوبصورت حصے کا آغاز کرتا ہے۔ اور اپنے اس دعوے اور حق کو ثابت کرتا ہے کہ مَیں خداوند یسوع مسیح کا سچا خادم ہوں۔
آپ کو یاد ہونا چاہئے کہ کرنتھس کی کلیسیا میں یہ سوال اُٹھایا گیا تھا کہ کیا پولس واقعی سچا رسول ہے؟ وہ کیا اَسناد یا ثبوت پیش کر سکتا ہے کہ اُس کی بلاہٹ خدا کی طرف سے ہے؟ اور وہ کن ثبوتوں کے ساتھ کسی کی تسلی کرا سکتا ہے کہ وہ بارہ رسولوں کے برابر ہے؟
اُس کا جواب تیار ہے، مگر شاید ہم ایسی توقع نہیں کرتے۔ وہ کوئی ڈگری یا ڈپلومہ نہیں دِکھاتا کہ مَیں نے فلاں سیمنری سے اِمتحان پاس کیا ہے۔ نہ وہ کوئی باضابطہ خط پیش کرتا ہے جس پر یروشلیم کے بھائیوں کے دستخط تھے کہ اُسے اِس کام کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ وہ اپنی شخصی مہارت اور کامیابیوں کی بات بھی نہیں کرتا، بلکہ وہ ہمارے سامنے اُن دُکھوں اور تکلیفوں کا اثر انگیز بیان کرتا ہے جو اُس نے خوش خبری کے کام میں برداشت کی تھیں۔ ۲۔ کرنتھیوں میں درج اِن دلچسپ کوائف کی رِقت اور گذاز کو بغور دیکھیں۔ تصور کیجئے کہ بے باک اور جواں مرد پولس دریائوں، سمندروں اور خشکی پر بھاگا پھرتا ہے۔ مسیح کی محبت اُسے مجبور کرتی ہے کہ بشارتی دَوروں میں جگہ جگہ جا پہنچے۔ اور وہ بے بیان رنج و مصائب اور تکالیف برداشت کرنے کو صرف اِس لئے تیار ہے کہ لوگوں تک خوش خبری پہنچے اور وہ ہلاک نہ ہو جائیں۔ اِن آیات کو پڑھ کر ہم متاثر اور شرمسار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
۱۱: ۲۲ جھوٹے اُستاد یہودی الاصل ہونے کا بہت ڈھنڈورا پیٹتے تھے۔ وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اصلاً اور نسلاً «عبرانی» ہیں۔ اسرائیل کی پشت اور ابرہام کی نسل سے ہیں۔ وہ ابھی تک اِس غلط اعتقادی میں مبتلا تھے کہ وہ خاندانی شجرے کے باعث خدا کی نظر میں مقبول ہیں۔ اُن کو احساس نہیں تھا کہ خدا نے اپنی قوم کو اب برطرف کر دیا ہے، کیونکہ اُس نے مسیحِ موعود کو ردّ کیا ہے۔ اُن کو احساس تک نہ تھا کہ اب خدا کے نزدیک یہودی اور غیر قوم میں کچھ فرق نہیں رہا۔ سب کے سب گنہگار ہیں اور سب مسیح پر ایمان کے وسیلے سے ہی نجات پا سکتے ہیں۔
اِس لحاظ سے فخر کرنا اُن کے لئے بے کار تھا۔ اُن کا شجرہ کسی طرح بھی اُنہیں پولس سے اعلیٰ و ارفع ثابت نہیں کرتا، کیونکہ پولس خود عبرانی اور اسرائیلی ہے اور ابرہام کی نسل سے ہے۔ مگر یہ حقیقت اُس کو مسیح کا رسول ثابت نہیں کرتی۔ چنانچہ وہ جلدی سے اپنی دلیل کا بڑا حصہ پیش کرتا ہے __ ایک بات میں وہ پولس سے بازی نہیں لے جا سکتے۔ اور وہ رنج ہے اور دُکھ اور تکالیف کا برداشت کرنا۔
۱۱: ۲۳ وہ تو صرف اپنے دعوے کے مطابق مسیح کے خادم ہیں، مگر پولس اپنی محنتوں، قید اور دُکھوں کے باعث مسیح کا خادم ہے۔ پولس رسول کبھی نہیں بھولتا کہ مَیں اُس نجات دہندہ کا پیرو ہوں جو مردِ غم ناک اور دُکھوں کا آشنا ہے۔ اُس کو احساس ہے کہ خادم اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ اور خادم تو توقع نہیں کر سکتا کہ دُنیا میرے مالک کی نسبت مجھ سے بہتر سلوک کرے گی۔ پولس کو معلوم ہے کہ مَیں جتنی وفاداری سے مسیح کی خدمت کروں گا، اور جس قدر اپنے خداوند یسوع مسیح کا سا کردار دکھائوں گا، اُسی قدر لوگ مجھے زیادہ ستائیں گے۔ دُکھ اور تکالیف اُس کے نزدیک مسیح کے خادم کا نشان یا طرۂ اِمتیاز ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اِس طرح فخر کرنا دیوانگی یا بے وقوفی ہے، مگر اب ضرورت آ پڑی ہے کہ سچ بولا جائے۔ اور سچ یہ ہے کہ دُکھوں اور ایذائوں کے حوالے سے اِن جھوٹے اُستادوں کا کوئی نام نہیں ہے۔ اُنہوں نے تو آسان راہ چن لی تھی۔ وہ ملامت، ایذائوں اور ذلت کی راہ سے ہٹ کر اور بچ کر چلتے تھے۔ اور اِسی وجہ سے پولس سمجھتا ہے کہ یہ لوگ مجھ پر حملہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
رسول اپنے دعویٰ رسالت کے ثبوت میں کئی ایک دُکھوں اور تکلیفوں کی فہرست پیش کرتا ہے۔ آئیے اِس فہرست پر ایک نظر ڈالیں۔
«محنتوں میں زیادہ۔» وہ اپنے بشارتی دَوروں کی حدود اور وُسعت پر نظر ڈالتا ہے۔ اُس نے بحیرۂ روم کے تقریباً سارے علاقے کا دَورہ کر لیا تھا، تاکہ وہاں مسیح کی پہچان ہو جائے۔ لوگ اُس (مسیح) کو جان لیں۔
«قید میں زیادہ۔» اِس وقت تک پولس کی قیدوں میں سے صرف ایک قید کا ذکر ملتا ہے جو اعمال ۱۶: ۳۲ میں درج ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب فلپی میں پولس اور سیلاس کو جیل میں ڈالا گیا تھا۔ اِس کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت سی قیدوں میں سے ایک قید تھی۔ قید خانے پولس کے لئے اجنبی نہ تھے۔
«کوڑے کھانے میں حد سے زیادہ۔» یہودی اور غیر یہودی دونوں ہی اُس کے دشمن تھے۔ یہاں خاصی تفصیل سے بیان ہوا ہے کہ اُس نے مسیح کی خاطر ان لوگوں سے بارہا کوڑے کھائے۔
«بارہا موت کے خطروں میں رہا ہوں۔» یہ الفاظ لکھتے ہوئے پولس کو یقینا یاد آ رہا تھا کہ لُسترہ میں کس طرح موت سے بال بال بچا تھا (اعمال ۱۴: ۱۹)۔ علاوہ ازیں اُسے وہ سارے واقعات یاد آ رہے ہوں گے جب ایذا رسانی کے نتیجے میں کئی دفعہ وہ موت کے منہ سے نکل آیا تھا۔
۱۱: ۲۴ موسیٰ کی شریعت میں کسی شخص کو ایک وقت میں چالیس سے زیادہ کوڑے لگانے کی ممانعت ہے (اِستثنا ۲۵:۳)۔ اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ہم اِس حکم کے نافرمان نہ ہو جائیں یہودی عام طور سے صرف اُنتالیس کوڑے لگاتے تھے۔ بے شک یہ سزا صرف خاص خاص خطائوں پر اور صرف اُس صورت میں دی جاتی تھی جب خطا بھاری ہو۔ یہاں پولس رسول بتاتا ہے کہ جو لوگ جسمانی لحاظ سے اُس کے اپنے (یعنی یہودی) تھے اُنہوں نے پانچ موقعوں پر اُسے پوری پوری سزا دی تھی۔
۱۱: ۲۵ تین بار بینت لگے۔ نئے عہدنامے میں صرف ایک ہی موقعے کے بارے میں درج ہے جو فلپی میں پیش آیا تھا (اعمال ۱۶:۲۲)۔ مگر دو اَور موقعوں پر بھی پولس کو یہ درد ناک اور شرم ناک سزا ملی تھی۔
«ایک بار سنگسار کیا گیا۔ »بے شک یہ لُسترہ کا واقعہ ہے۔ اِس کا حوالہ ہم پہلے بھی دے چکے ہیں (اعمال ۱۴: ۱۹)۔ یہ سنگساری اِتنی شدید تھی کہ لوگوں نے سمجھ لیا کہ وہ مر گیا ہے اور اُس کا بدن گھسیٹ کر شہر کے باہر پھینک دیا تھا۔
تین مرتبہ جہاز ٹوٹنے کی بلا میں پڑا۔ پولس کو صرف اِنسانوں ہی کے ہاتھوں مصائب اور تکالیف نہیں پہنچیں، بعض اوقات اُسے فطرت کی ہنگامہ آرائیوں نے بھی اُس کی دُرگت بنا ڈالی۔ اُس نے جہاز ٹوٹنے کے جن واقعات کا ذکر کیا ہے، اُن میں سے ہمارے لئے کوئی بھی کہیں لکھا نہیں گیا، (اعمال باب ۲۷ میں جس واقعہ کا بیان ہے وہ پولس کی بعد کی زندگی میں پیش آیا)۔
«ایک رات دن سمندر میں کاٹا۔» یہاں بھی یہی حال ہے کہ اعمال کی کتاب میں درج کوئی واقعہ بھی اِس بیان کے مطابق نہیں۔ سوال ہو سکتا ہے کہ اِس موقعے پر پولس کسی تختے پر تھا یا کھلی کشتی میں؟ صورتِ حال کچھ بھی ہو، خداوند نے براہِ راست مداخلت کر کے اُس کو سمندر کے ایسے جان لیوا حادثے سے بچایا تھا۔
۱۱: ۲۶«بارہا سفر میں۔» اکثر بائبل کے آخر میں نقشے دیئے ہوتے ہیں۔ اُن میں سے ایک پر درج ہوتا ہے، «مقدس پولس کے بشارتی دَورے»۔ اگر آپ عام شاہراہوں کو ظاہر کرنے والی لکیروں کو بغور دیکھیں اور یاد کریں کہ اُس زمانے میں سفر کے وسائل کیسے غیر ترقی یافتہ تھے تو آپ کو اِحساس ہو گا کہ پولس کے یہ الفاظ کیا معانی رکھتے ہیں۔
اِس کے بعد پولس آٹھ مختلف قسم کے خطرات گنواتا ہے جن سے وہ دوچار ہوا۔ «دریائوں کے خطروں میں»، یعنی ندی، نالوں اور دریائوں کی طغیانی اور سیلاب۔ «ڈاکوئوں کے خطروں میں۔» جن راہوں اور شاہراہوں سے اُس نے سفر کئے وہاں ڈاکو اور راہ زَن عام ہوتے تھے۔ «وہ اپنی قوم سے خطروں میں رہا»، یعنی یہودی اُس کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔ «وہ غیر قوموں سے خطروں میں رہا»، یہ وہ لوگ تھے جن تک وہ خوش خبری پہنچانے کی کوشش میں رہتا تھا۔ شہر کے خطروں میں،مثلاً اُسے لُسترہ، فلپی، کرنتھس اور اِفسس میں سخت خطروں کا سامنا ہوا۔ «بیابان کے خطروں میں۔» غالباً یہ اِشارہ ہے ایشیائے کوچک اور یورپ کے اُن علاقوں کا جہاں آبادی بہت کم تھی۔ «سمندر کے خطروں میں» __ طوفان، پوشیدہ چٹانیں اور قزاق۔ اور آخر میں وہ کہتا ہے، «جھوٹے بھائیوں کے خطروں میں۔» بلاشبہ یہ اُن یہودی شریعت نوازوں کا ذکر ہے جو مسیحی اُستادوں کا رُوپ دھارے پھرتے تھے۔
۱۱: ۲۷ «محنت اور مشقت میں۔» پولس مسلسل اور اَن تھک محنت کرتا تھا۔ ایسی محنت سے تھکن اور ماندگی پیدا ہونا فطری بات ہے۔
«بارہا بیداری کی حالت میں۔» کئی ایک سفروں کے دوران ضروری ہوتا ہو گا کہ وہ باہر کھلی جگہ میں سوئے۔ مگر چونکہ اُس کے چاروں طرف خطرے منڈلاتے رہتے تھے وہ رات آنکھوں میں کاٹ دیتا ہو گا کہ خطرہ نہ آ دبوچے۔
«بھوک اور پیاس کی مصیبت میں۔» خداوند کی خدمت کے دوران اِس عظیم رسول کو نہ معلوم کتنی دفعہ بھوک اور پیاس برداشت کرنا پڑی۔ بارہا فاقہ کشی میں۔ شاید اِس سے مراد رضاکارانہ بھوک ہے۔ لیکن اغلب یہی ہے کہ خوراک کی کمی یا نایابی کے باعث اُسے فاقہ کرنا پڑتا تھا۔
«سردی اور ننگے پن کی حالت میں۔» موسم میں اچانک تبدیلی اور یہ حقیقت کہ اُس کے پاس کپڑے اور جوتے بھی ناکافی ہوتے تھے اُس کی تکلیفوں اور دُکھوں میں اضافے کا باعث ہوتی تھی۔
ہوج (Hodge)کہتا ہے:
«یہاں عظیم ترین رسول ہمارے سامنے ہے۔ اُس کی کمر بار بار کوڑے کھانے سے زخمی ہے۔ بھوک اور فاقہ کشی سے اور سردی اور ننگے پن سے بدن لاغر ہے۔ یہودی اور غیر اقوام اُس کو دُکھ اور ایذائیں دینے کے درپے ہیں۔ کبھی یہاں، کبھی وہاں، کہیں سر چھپانے کو جگہ نہیں۔ اِس پیرے کو پڑھ کر آج کا محنتی سے محنتی مسیح کا خادم بھی شرم سے منہ چھپانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اُنہوں نے اِس رسول کے مقابلے میں کیا کِیا ہے یا کون سے دُکھ جھیلے ہیں؟ کیسی تسلی کی بات ہے کہ آج پولس جلال میں بھی ویسا ہی سرفراز ہے جیسا اِس دُنیا میں دُکھ اُٹھانے میں نمایاں تھا!»
۱۱: ۲۸«اَور باتوں کے علاوہ» یعنی وہ باتیں جو عام ڈگر سے ہٹ کر یا غیر معمولی تھیں «سب کلیسیائوں کی فکر» پولس کو ہر روز آ دباتی تھی۔ کیسی اہم بات ہے کہ یہ فکر باتی ساری مصیبتوں، دُکھوں اور تکلیفوں کا نقطۂ عروج ہے۔ پولس ایک حقیقی اور سچا چرواہا یعنی پاسٹر تھا۔ وہ خدا کے لوگوں سے محبت رکھتا اور اُن کی فکر کرتا تھا۔ وہ کوئی اُجرتی چرواہا نہیں تھا، بلکہ خداوند یسوع کا سچا نائب چرواہا تھا۔ پاک کلام کے اِس حصے میں وہ اِسی بات کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ہر معقول شخص دیکھ سکتا ہے کہ اُس نے بازی جیت لی ہے۔
۱۱: ۲۹ یہ آیت گذشتہ آیت سے گہرے طور سے منسلک ہے۔ آیت ۲۸ میں پولس کلیسیائوں کے لئے ہر روز کی فکر مندی کا بیان کرتا ہے۔ یہاں وہ اِس فکر مندی کی وضاحت کرتا ہے۔ اگر اُسے پتا چلتا ہے کہ کوئی مسیحی کمزور ہے تو وہ خود اُس کی کمزوری کو محسوس کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے دُکھوں میں بڑی ہمدردی سے شریک ہوتا اور درد مندی کے ساتھ اُن دُکھوں کو خود محسوس کرتا ہے۔ اگر اُسے خبر ملتی ہے کہ مسیح میں کوئی بھائی ایسا ہے جس کو ٹھوکر لگی ہے تو اُس کا دل دُکھتا ہے۔ جو باتیں خدا کے لوگوں پر اثر کرتی ہیں وہ اُن سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ اُن کے المیوں پر غم کھاتا اور اُن کی کامیابیوں اور کامرانیوں پر خوشی مناتا ہے۔ اور یہ ساری باتیں خدا کے خادم کی اعصابی قوت پر بار بنتی ہیں۔ صرف پولس ہی اِس تجربے کو جان سکتا ہے!
۱۱: ۳۰ وہ اپنی کامیابیوں، اپنی نعمتوں، اپنی صلاحیتوں پر نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں، اپنی ملامتوں اور اپنی تحقیر پر فخر کرتا ہے۔ عام آدمی اِن باتوں پر فخر نہیں کیا کرتے اور نہ اِن سے اُن کی شہرت اور نیک نامی ہوتی ہے۔
۱۱: ۳۱ اپنی تحقیر اور اپنی کمزوریوں پر سوچتے ہوئے فطری طور پر پولس کا ذہن اپنی زندگی کے سبب سے ذلت اَفزا لمحے کی طرف چلا جاتا ہے۔ اگر اُسے اُن باتوں پر فخر کرنا ہے جن کا تعلق اُس کی کمزوری سے ہے تو پھر وہ اپنے اُس تجربے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا جو اُسے دمشق کی راہ پر ہوا تھا۔ کسی اِنسان کا ایسے ذلت افزا تجربے پر فخر کرنا اِنسانی فطرت کے ایسا خلاف ہے کہ یہاں پولس خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے کہ مَیں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے۔
۱۱: ۳۲ اِس واقعے کی مزید تفاصیل اعمال ۹: ۱۹-۲۵ میں درج ہیں۔ پولس دمشق کے قریب تبدیل ہوا اور مسیح خداوند پر ایمان لایا تھا۔ اِس کے بعد وہ دمشق کے عبادت خانوں میں خوش خبری کی منادی کرنے لگا۔ پہلے تو لوگ متجسس ہو کر اُس کی منادی میں دلچسپی لینے لگے، لیکن چند ہی دنوں بعد یہودیوں نے اُس کو جان سے مار ڈالنے کی سازِش کر لی۔ اُنہوں نے شہر کے پھاٹکوں پر دن رات پہرہ بٹھا دیا تاکہ اُس کو پکڑ لیں۔
۱۱: ۳۳ ایک رات شاگردوں نے پولس کو ٹوکرے میں (بٹھا کر) کھڑکی کی راہ دیوار پر سے لٹکا دیا، یعنی شہر کی فصیل کے باہر زمین پر اُتار دیا۔ یوں وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
لیکن پولس اِس واقعے کا تذکرہ کیوں کرتا ہے؟ جے۔بی۔ واٹسن (Watson)کا خیال ہے کہ،
«پولس ایک ایسے واقعے کو چن لیتا ہے جس کو لوگ شرم اور تحقیر کا باعث سمجھتے ہیں اور اُس کو اِس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اُس کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت مسیح خداوند کی خدمت کرنے کو حاصل ہے۔ جس کی خاطر وہ اپنے شخصی فخر کو بالائے طاق رکھ کر وہ کام کر گزرا جس کے باعث دوسرے لوگوں کی نظروں میں بُزدل دکھائی دیا۔»
و۔ پولس کے مکاشفات اُس کی رسالت کی حمایت کرتے ہیں (۱۲: ۱- ۱۰)
۱۲: ۱ پولس کی خواہش تو یہ ہے کہ اُسے فخر کرنا ہی نہ پڑتا۔ یہ کوئی قابلِ تحسین یا مفید بات نہیں۔ مگر اُن حالات میں فخر کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ پہلے مَیں اپنی خدمت کا سب سے ہلکا اور ذلت انگیز واقعہ بیان کروں اور پھر سب سے اعلیٰ اور سرفراز کرنے والے واقعے کا ذکر کروں۔ وہ خداوند کے ساتھ ذاتی ملاقات کا بیان کرتا ہے۔
۱۲: ۲ پولس ایک شخص کو جانتا تھا جس کو چودہ برس پہلے یہ تجربہ ہوا تھا۔ اگرچہ وہ اِس شخص کی شناخت نہیں کرواتا، لیکن اِس اَمر میں کوئی شک نہیں کہ وہ شخص پولس خود ہے۔ ایسا اعلیٰ و ارفع تجربہ بیان کرتے ہوئے وہ اپنی ذات کا ذکر کرنے پر تیار نہیں ہو سکتا، بلکہ عام سے انداز میں بات کرتا ہے۔ جس شخص کا وہ ذکر کرتا ہے وہ مسیح میں تھا، یعنی سچا مسیحی تھا۔
۱۲: ۳ پولس کو معلوم نہیں کہ اِس تجربے کے دوران وہ بدن سمیت تھا یا بغیر بدن کے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ پولس کو یہ تجربہ کسی ایک ایذا رسانی کے موقعے پر ہوا تھا۔ مثلاً لُسترہ میں اُس پر جو سختی بیتی تھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ واقعی مر گیا اور آسمان پر پہنچ گیا ہو۔ لیکن متن ایسی تشریح کا نہ مطالبہ کرتا ہے نہ تائید۔ دراصل اگر پولس کو خود معلوم نہ تھا کہ وہ بدن سمیت تھا یا بغیر بدن کے __ یعنی زندہ تھا یا مُردہ تو نہایت عجیب بات ہو گی کہ جدید مفسرین اِس موضوع پر مزید روشنی ڈال سکیں۔
اہم بات تو یہ ہے کہ یہ شخص تیسرے آسمان تک اُٹھا لیا گیا۔ پاک کلام میں تین آسمانوں تک ہی کا ذکر ملتا ہے۔ پہلا تو یہ فضا ہے کہ جو ہمارے اُوپر ہے، یعنی یہ نیلا آسمان۔ دوسرا سورج اور ستاروں والا آسمان ہے۔ اور تیسرا سب سے اُوپر ہے جہاں خدا کا تخت ہے۔
اگلے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پولس اُسی مبارک جگہ پر تھا جہاں خداوند یسوع اپنی موت کے بعد توبہ کرنے والے ڈاکو کو لے گیا تھا، یعنی خدا کا مسکن۔
۱۲: ۴ پولس نے فردوس کی زبان سنی اور سمجھی، لیکن اُسے اِجازت نہ تھی کہ زمین پر واپس آ کر اُن باتوں کو دُہرائے۔ وہ کہتا ہے کہ «وہ باتیں کہنے کی نہیں۔» مطلب یہ ہے کہ وہ باتیں ایسی پاک اور مقدس ہیں کہ اِس دُنیا میں اُن کا بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جی۔ کیمبل مورگن (Campbell Morgan) لکھتا ہے:
«کچھ لوگ وہ ہیں جو اپنے رویائوں اور مکاشفوں کا بیان کرنے سے تھکتے نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اُن کا شوق ثبوت نہیں ہے کہ یہ رویائیں اور مکاشفے خدا کی طرف سے نہیں؟ جب یہ دیئے جاتے ہیں (اور بلاشبہ مخصوص حالات میں خداوند کے خادموں کو عطا ہوتے ہیں) تو ایک پُراحترام اور عقیدت مندانہ مہر سکوت لگ جاتی ہے۔ یہ رویائیں اور مکاشفے اِتنے سنجیدہ، اِتنے بارُعب، اِتنے حیرت افزا ہوتے ہیں کہ انہیں عام انداز میں بیان کرنا یا اِن پر بات کرنا ممکن ہی نہیں۔ لیکن اِن کا اثر زندگی اور خدمت میں نمایاں ہوتا رہتا ہے۔»
۱۲: ۵کمزوری پر فخر کرتے ہوئے پولس اپنا ذکر کرنے میں کوئی تامل محسوس نہیں کرتا۔ لیکن جب خداوند کے رویائوں اور مکاشفوں کی بات ہو، تو وہ اِن کا براہِ راست اِطلاق اپنے اُوپر نہیں کرتا، بلکہ اِس تجربے کا بیان ایک غیر شخصی انداز میں کرتا ہے، گویا یہ تجربہ کسی دوسرے شخص کو حاصل ہوا ہے۔ وہ اِنکار نہیں کرتا کہ وہ شخص مَیں (پولس) ہی تھا۔ صرف خود کو شخصی طور پر اور براہِ راست شامل کرنے سے احتراز کرتا ہے۔
۱۲: ۶ اَور بھی کئی بڑے بڑے تجربات ہیں جن پر رسول فخر کر سکتا ہے۔ اور اگر فخر کرنا چاہے بھی تو بے وقوف نہ ٹھہرے گا کیونکہ سچ بولے گا۔ مگر وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی مجھے اُس سے زیادہ نہ سمجھے جیسا مجھے دیکھتا ہے یا مجھ سے سنتا ہے۔
۱۲: ۷ یہ حصہ خدا کے خادم کی زندگی کا صحیح صحیح بیان کرتا ہے۔ اُس کی زندگی میں پست ترین لمحات بھی آئے، مثلاً دمشق والا واقعہ۔ پھر بلند ترین لمحات بھی آئے مثلاً اُس کا مسرت بخش مکاشفہ۔ لیکن عام طور سے کسی ایسے تجربے سے گزرنے کے بعد خداوند اپنے خادم کو ایسے تجربے میں سے بھی گزرنے دیتا ہے جس کو پولس جسم میں کانٹا کہتا ہے۔ یہاں اِسی کا بیان ہے۔
اِس آیت سے ہمیں بہت سے انمول سبق حاصل ہوتے ہیں۔ اوّل، کہ خدا کے مکاشفات بھی ہمارے اندر کے جسم کو درست نہیں کر سکتے۔ رسول کے فردوس کی زبان اور باتیں سننے کے بعد بھی اُس کی فطرت وہی پرانی ہی رہی اور خطرہ رہا کہ فخر کے پھندے میں پھنس جائے۔
آر۔ جے۔ رِیڈ (Reid)کہتا ہے:
«مسیح میں ایک شخص خدا کی حضوری میں جب فردوس کی باتیں سنتا ہے تو محظوظ ہوتا ہے۔ مگر زمین پر واپسی پر اُسے جسم میں کانٹے کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ڈر تھا کہ اُس کے اندر کا جسم فردوس کے تجربے پر فخر کرنے لگے۔»
«جسم میں کانٹا» __ یہ کیا تھا؟ ہم صرف اِتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی جسمانی تکلیف تھی جو خدا نے پیدا ہونے دی۔ اِس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ اِس کانٹے کی وضاحت نہ کرنے میں بھی خداوند کا مقصد ہے۔ کہ تمام زمانوں میں جب مقدسین پر دُکھ اور آزمائشیں آئیں تو وہ پولس رسول کے ساتھ گہری قربت محسوس کریں۔ اُس کی یہ تکلیف کیا تھی؟ آنکھ کی بیماری؟ کان کا درد؟ ملیریا بخار؟ آدھے سر کا درد؟ کوئی ایسی خامی کمزوری جس کا تعلق پولس کے بولنے یا زبان کے ساتھ تھا؟ مورہیڈ بیان کرتا ہے کہ اِس (کانٹے) کی نوعیت پوشیدہ رکھی گئی ہے تاکہ پولس کے اِس گمنام مگر درد ناک تجربے سے اُن سب کی حوصلہ افزائی اور مدد ہو جو دُکھ بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہماری آزمائش اور تکالیف پولس سے بالکل مختلف ہوں، مگر اِن سے وہی عمل اور فوائد پیدا ہونے چاہئیں۔
پولس اِس جسم میں «کانٹا »کو شیطان کا قاصد کہتا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ شیطان کی کوشش تھی کہ پولس کو خداوند کا کام کرنے سے باز رکھے۔ لیکن خدا شیطان سے بڑا ہے اور اُس نے پولس کو حلیم رکھ کر اِس کانٹے کو خداوند کے کام میں افزائش کے لئے استعمال کیا۔ مسیح کی کامیاب خدمت کا اِنحصار کمزور خادم پر ہوتا ہے۔ وہ جتنا زیادہ کمزور ہو گا مسیح کی قوت اُتنی ہی زیادہ اُس کی منادی کے ساتھ ہوتی ہے۔
۱۲: ۸ اِس کے بارے میں پولس نے تین بار خداوند سے التماس کی کہ اُس کے جسم میں کانٹا دُور ہو جائے۔
۱۲: ۹ اُس کی دعا کا جواب دیا گیا۔ لیکن جواب اُس کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔ ایک لحاظ سے خدا نے پولس سے کہا، « مَیں اِس کانٹے کو دُور نہیں کروں گا، بلکہ کچھ بہتر بات کروں گا۔ مَیں تجھے اِس کو برداشت کرنے کا فضل دوں گا۔ اور پولس، یاد رکھ، کہ اگرچہ مَیں نے تجھے وہ نہیں دیا جس کی تُو نے درخواست کی تھی، مگر تجھے وہ چیز دے رہا ہوں جس کی تجھے بہت ضرورت ہے۔ تُو چاہتا ہے کہ تیری منادی میں میری قوت اور طاقت تیرے ساتھ ہو۔ خوب، تو اِس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تُو کمزور رہے۔»
پولس نے تین دفعہ یہ درخواست کی اور تینوں دفعہ خدا نے یہی جواب دیا۔ اور ساری دُنیا میں دُکھ اُٹھانے والے اپنے لوگوں کو آج بھی خدا یہی جواب دے رہا ہے۔ مصیبتوں کو دُور ہٹا لینے سے بہتر ہے کہ خدا کے بیٹے کی قربت اُن کے ساتھ ہو اور اُن کو اُس کی قوت اور توفیق کا تجربہ ہو۔
غور کریں کہ خدا کہتا ہے، «میرا فضل تیرے لئے کافی ہے۔» ہمیں یہ درخواست کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہمیں «کافی» فضل دے۔ وہ پہلے ہی «کافی ہے!»
پولس رسول خداوند کے جواب سے پورے طور پر مطمئن ہے۔ اِس لئے وہ کہتا ہے کہ «پس مَیں بڑی خوشی سے اپنی کمزوری پر فخر کروں گا تاکہ مسیح کی قدرت مجھ پر چھائی رہے۔»
جب خداوند نے اپنے عمل کی حکمت اُس کو بتائی تو پولس نے کہا کہ یہی تو حالت ہے جس میں مَیں رہنا چاہتا ہوں۔ اِس لئے وہ کانٹے کے بارے میں بڑبڑانے اور شکوہ کرنے کے بجائے اپنی کمزوری پر فخر کرنا بہتر سمجھتا ہے۔ اب وہ گھٹنوں کے بل گر کر اپنی کمزوری کے لئے خداوند کا شکر ادا کرتا ہے۔ وہ بڑی خوشی سے اِس کو برداشت کرنے پر تیار ہے «تاکہ مسیح کی قدرت مجھ پر چھائی رہے»۔ جے۔ آسولڈ سینڈرز (Oswald Sanders) اِسی بات کو نہایت عمدگی سے بیان کرتا ہے:
«دُنیا کا فلسفہ یہ ہے کہ ’مجبوری کا نام شکریہ ہے یا گلے پڑا ڈھول بجانا ہی پڑتا ہے۔‘ لیکن پولس نہایت خوش دلی سے گواہی دیتا ہے کہ’ مجبوری سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے، گلے پڑے ڈھول پر خوبصورت دُھن بجائی جا سکتی ہے۔ مَیں کمزوریوں، دُکھوں، محتاجیوں اور مشکلوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔‘ وہ ثابت کرتا ہے کہ خدا کا فضل اِتنا عجیب ہے کہ وہ اِس کی بھرپوری سے فائدہ اُٹھانے کے لئے نئے نئے موقعوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ’ مَیں اپنے کانٹے پر بڑی خوشی سے فخر کرتا ہوں … اِس سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔‘ »
۱۲: ۱۰یہ فطری بات ہے کہ جن تجربات کی فہرست یہاں دی گئی ہے، ہم اُن میں خوش نہیں ہو سکتے۔ لیکن اِس آیت کو سمجھنے کی کلید اِن الفاظ میں ہے کہ «مسیح کی خاطر»۔ ہمیں مسیح کی خاطر اور اُس کی خوش خبری کے پھیلائو کی خاطر وہ سب کچھ برداشت کرنے پر تیار ہونا چاہئے جو ہم عام حالات میں اپنی خاطر یا کسی عزیز کی خاطر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
جب ہم کو اپنی کمزوریوں اور نکمے پن کا احساس ہوتا ہے تو ہم خدا کی قدرت پر زیادہ اِنحصار کرتے ہیں۔ اور جب ہم پورے طور پر اُس پر اِنحصار کرتے ہیں تو اُس کی قدرت ہم میں ظاہر ہوتی ہے اور ہم صحیح معنوں میں «زور آور» ہوتے ہیں۔
ولیم وِلبر فورس (William Wilberforce) نے سلطنت ِبرطانیہ سے غلامی کے خاتمے کی جنگ کا آغاز کیا۔ وہ جسمانی لحاظ سے لاغر اور کمزور تھا۔ لیکن وہ خدا پر مضبوط ایمان رکھتا تھا۔ بوسویل (Boswell) اُس کے بارے میں کہتا ہے، «جو مجھے جھینگا مچھلی لگتا تھا، اُس کو مَیں نے وہیل مچھلی بنتے دیکھا۔»
اِس آیت میں پولس متی ۵: ۱۱،۱۲ میں درج خداوند کے حکم کی تعمیل کر رہا ہے۔ جب لوگ اُس کو لعن طعن کرتے اور ہر طرح سے ستاتے تھے تو وہ خوشی مناتا تھا۔
ز۔ پولس کے عجیب کام اُس کی رسالت کی حمایت کرتے ہیں (۱۲: ۱۱-۱۳)
۱۲: ۱۱یہاں معلوم ہوتا ہے کہ پولس اپنے فخر کرنے پر تنگ آ گیا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اِس طرح فخر کر کے مَیں بے وقوف بنا ہوں۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مگر دراصل کرنتھیوں نے اُسے «مجبور» کر دیا تھا۔ جب نکتہ چینیوں نے اُس پر الزام لگائے تو کرنتھیوں کو چاہئے تھا کہ اُس کی تعریف کرتے۔ اپنی ذات میں اگرچہ وہ کچھ نہیں تھا تو بھی وہ کسی بات میں «اُن افضل رسولوں سے …کم نہیں» تھا جن پر وہ فخر کرتے تھے۔
۱۲: ۱۲ وہ کرنتھیوں کو یاد دلاتا ہے کہ جب مَیں نے کرنتھس میں تمہارے پاس آ کر خوش خبری کی منادی کی تو خدا نے رسول ہونے کی علامتوں کے وسیلے سے میری منادی کی تصدیق کی۔ یہ علامتیں معجزوں کی قدرت تھی جو خدا نے رسولوں کو عطا کی تھی تاکہ اُن کے سننے والے جان لیں کہ اُن کو واقعی خداوند نے بھیجا ہے۔
«نشانوں اور عجیب کاموں اور معجزوں۔» یہ لفظ تین مختلف قسم کے معجزوں کا بیان نہیں کرتے، بلکہ معجزوں کو تین مختلف پہلوئوں سے دیکھنے کا بیان کرتے ہیں۔ «نشان» وہ معجزے تھے جو اِنسانی عقل تک کوئی مخصوص مطلب پہنچاتے تھے۔ «عجیب کام» اِتنے عجیب معجزے تھے جو اِنسانوں کے جذبات کو اُبھارتے تھے اور « معجزوں» سے مراد وہ معجزے ہیں جن سے فوق البشر قدرت کا اِظہار ہوتا تھا۔
غور کریں کہ پولس کہتا ہے کہ رسول ہونے کی علامتیں کرنتھیوں کے درمیان ظاہر ہوئیں۔ وہ فعل مضارع استعمال کرتا ہے۔ وہ اُن کے لئے اپنی بڑائی نہیں کرتا، بلکہ کہتا ہے کہ خدا نے میرے وسیلے سے یہ علامتیں دکھائیں۔
۱۲: ۱۳ جہاں تک معجزوں کے ظاہر ہونے کا تعلق ہے کرنتھس کی کلیسیا اَور کلیسیائوں سے کم نہیں تھی۔ اُنہوں نے بھی پولس کے ہاتھوں سے اُتنے ہی معجزے دیکھے تھے جتنے «اَور کلیسیائوں» نے جہاں وہ گیا تھا۔ کون سے معنوں میں وہ اَور کلیسیائوں سے کم ٹھہرے؟ پولس کو صرف ایک فرق نظر آتا ہے کہ اُس نے اُن پر مالی بوجھ نہ ڈالا تھا، یعنی اُس نے کرنتھیوں سے مالی اِمداد لینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اِس طرح ہم «اَور کلیسیائوں سے کم ٹھہرتے ہیں» تو پولس اپنی اِس بے اِنصافی کی معافی مانگتا ہے۔ رسول ہونے کی صرف ایک یہ علامت تھی جس پر اُس نے اِصرار نہیں کیا۔
ح۔ پولس کا اِلتوا میں پڑا ہوا کرنتھس کا دَورہ (۱۲: ۱۴-۱۳:۱)
۱۲: ۱۴ «دیکھو۔ یہ تیسری بار مَیں تمہارے پاس آنے کے لئے تیار ہوں۔» اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کرنتھس جانے کے لئے تین بار تیار ہوا، لیکن گیا صرف ایک دفعہ۔ دوسری دفعہ اِس لئے نہیں گیا تھا کہ ایمان داروں سے سختی سے نمٹنا نہیں چاہتا تھا۔ اب وہ تیسری بار وہاں جانے کو تیار ہے۔ اور یہ اُس کا دوسرا دَورہ ہو گا۔
یا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تیسری بار وہاں جانے والا تھا۔ پہلے دَورے کا بیان اعمال ۱۸: ۱ میں درج ہے۔ دوسرے دَورے میں وہ غمگین ہوا تھا (۲۔کرنتھیوں ۲: ۱؛ ۱۳ :۱)اور یہ تیسرا دَورہ ہو گا۔
پولس ارادہ رکھتا ہے کہ جب وہاں جائے گا تو اُن پر بوجھ نہ ڈالے گا۔ بلاشبہ مطلب یہ ہے کہ اُن سے مالی اِمداد قبول نہیں کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اُن کی مادی دولت کے پیچھے نہیں بلکہ خود اُن کے پیچھے جاتا تھا۔ اُسے چیزوں سے نہیں بلکہ اِنسانوں سے دلچسپی تھی۔
جہاں تک کرنتھیوں کا تعلق ہے وہ اُن کے لئے ماں باپ کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ لڑکوں کو ماں باپ کے لئے جمع کرنا نہیں چاہئے بلکہ ماں باپ کو لڑکوں کے لئے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ روزمرہ زندگی کا مقولہ ہے۔ عام معمولات کے مطابق ماں باپ وہ ہیں جو تندہی سے محبت کرتے ہیں تاکہ بچوں کو خوراک اور پوشاک مہیا ہو۔ بچے ماں باپ کے لئے ایسی فکر نہیں کرتے۔ اِس لئے پولس چاہتا ہے کہ مجھے ویسا ہی کرنے کی اِجازت دی جائے جیسا والدین کرتے ہیں۔
احتیاط کرنی چاہئے کہ ہم اِس جملے کے معانی و مقصد کو کھینچ تان کر دُور نہ لے جائیں۔ اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ والدین کو بچوں کے مستقبل کے لئے دولت جمع کرنی چاہئے۔ اِس کا تعلق مستقبل سے نہیں بلکہ حال کی ضروریات سے ہے۔ کرنتھس میں خدمت کرتے ہوئے پولس صرف اپنی فوری ضروریات کا سوچ رہا تھا۔ اُس نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ مَیں وہاں کے مقدسین پر اِنحصار نہیں کروں گا۔ اُس کے ذہن میں یہ خیال ہرگز نہیں تھا کہ وہ میرے بڑھاپے کے لئے پونجی جمع کریں، یا مَیں اُن کے لئے کچھ جمع کروں۔
۱۲: ۱۵ پولس کو کرنتھس میں رہنے والے خدا کے لوگوں سے بے اِنتہا محبت تھی۔ اِس آیت میں ہمیں اِس بے کراں محبت کی جھلک نظر آتی ہے۔ وہ اُن کی روحوں کی خاطر اَن تھک محنت اور خدمت میں اپنے آپ کو بھی خرچ کر ڈالنے کو تیار ہے۔ اُس کو اُن کی روحانی ترقی اِتنی عزیز ہے کہ اِس مقصد کے لئے اپنی جان تک کو دریغ نہ کرے گا۔ وہ اُن کے درمیان موجود جھوٹے اُستادوں سے کہیں بڑھ کر اُن سے محبت رکھتا ہے۔ لیکن وہ اُس سے کم محبت رکھتے تھے، لیکن اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگرچہ اُسے محبت کا جواب محبت سے ملنے کی اُمید نہ بھی ہو، وہ اُن سے محبت کرتا رہے گا۔ اِس معاملے میں وہ خداوند کی سچی پیروی کر رہا تھا۔
۱۲: ۱۶ پولس وہی الفاظ پکڑ لیتا ہے جو اُس کے معترضین اُس کے خلاف اِستعمال کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ مان لیا کہ پولس تم سے براہِ راست پیسے نہیں لیتا، لیکن وہ فریب اور دھوکے سے تم سے لے لیتا ہے۔ اُس نے تمہارے پاس نمائندے بھیجے اور وہ تم سے پیسے لے کر واپس اُس کے پاس گئے۔
۱۲: ۱۷ وہ کہتا ہے کہ اگر مَیں نے براہِ راست یعنی خود تم سے کچھ نہیں اَینٹھا تو کیا کچھ دوسرے اَفراد کو بھیجا جنہوں نے میری خاطر یا میرے واسطے دغا سے تم سے کچھ لے لیا ہو؟ پولس کرنتھیوں سے سیدھا سیدھا سوال کرتا ہے کہ یہ الزامات جو مجھ پر لگائے گئے ہیں کیا وہ درست ہیں؟
۱۲: ۱۸ وہ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتا ہے۔ « مَیں نے ططس کو سمجھا کر … بھیجا تھا۔» اور پولس نے ططس کو اکیلا بھی نہیں بھیجا تھا۔ اُس نے ایک اَور بھائی کو اُس کے ہمراہ بھیجا تھا تاکہ کسی کو اُس کی نیت پر شک کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ جب ططس کرنتھس میں آیا تو کیا ہوا تھا؟ کیا اُس نے اپنے حقوق پر اصرار کیا؟ کیا اُس نے کرنتھیوں سے کہا کہ میری کفالت کرو؟ کیا اُس نے اُن سے کچھ منفعت حاصل کرنے کی کوشش کی؟ نہیں۔ اِس پیرے سے معلوم ہوتا ہے کہ ططس اپنے گزارے کے لئے کوئی دوسرا کام بھی کرتا تھا۔ اِس کا اشارہ اِس سوال سے ملتا ہے کہ «کیا ہم دونوں کا چال چلن ایک ہی روح کی ہدایت کے مطابق نہ تھا؟ کیا ہم ایک ہی نقشِ قدم پر نہ چلے؟» دوسرے لفظوں میں پولس اور ططس ایک ہی پالیسی پر چلتے تھے کہ کام کریں گے اور کفالت کے لئے کرنتھیوں پر کوئی بوجھ نہ ڈالیں گے۔
۱۲: ۱۹ اِن باتوں سے کرنتھی سوچیں گے کہ پولس کا مقصد محض عذر پیش کرنا ہے جیسے کہ وہ اُس کے جج ہوں۔ جب کہ معاملہ برعکس ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، لکھ رہا ہے خدا کو حاضر جان کر لکھ رہا ہے تاکہ اُن کی ترقی ہو۔ وہ اُنہیں مسیحی زندگی میں مضبوط کرنا چاہتا ہے اور اُن کے سامنے جو خطرات ہیں اُن سے خبردار کرتا ہے۔ وہ اپنی شہرت اور نیک نامی کا دفاع کرنے کی نسبت اُن کی مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
«بولتے ہیں۔» یہاں «لکھتے ہیں» پڑھنا زیادہ بہتر ہو گا (دیکھئے ۲۔کرنتھیوں ۱۳: ۱۰)۔
۱۲: ۲۰ پولس چاہتا ہے کہ جب کرنتھس جائوں تو اُن کو آپس میں خوشی اور صلح سلامتی سے رہتے پائوں اور وہ جھوٹے اُستادوں کو ردّ کر کے رسولوں کے اِختیار کو تسلیم کریں۔
مزید برآں وہ چاہتا ہے کہ اُن کے پاس جائوں تو خوشی کے ساتھ نہ کہ بھاری دل کے ساتھ۔ اگر اُسے اُن کے درمیان «جھگڑا، حسد، غصہ …شیخی اور فساد» وغیرہ ملیں تو اُسے کس قدر دُکھ اور افسوس ہو گا۔
۱۲: ۲۱ آخر یہ کرنتھی پولس کی خوشی اور تاج تھے۔ وہ اُس کا فخر تھے۔ یقینا وہ نہیں چاہتا کہ اُن کے پاس جائے تو شرمندہ ہو۔ وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ «مجھے بہتوں کے لئے افسوس کرنا پڑے جنہوں نے پیشتر گناہ کئے ہیں اور اُس ناپاکی اور حرام کاری اور شہوت پرستی سے جو اُن سے سرزد ہوئی توبہ نہیں کی۔»
اِن بہتوں سے جن سے یہ گناہ سرزد ہوئے، پولس کی کیا مراد ہے؟ یہ فرض کرنا معقول معلوم ہوتا ہے کہ وہ کرنتھس کی کلیسیا ہی میں موجود تھے۔ ورنہ وہ کلیسیا کے نام خط میں اِن کا تذکرہ نہ کرتا۔ مگر یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سچے ایمان دار تھے۔ وہ خصوصیت سے کہتا ہے کہ وہ یہ گناہ کرتے تھے۔ اُنہوں نے توبہ نہیں کی تھی۔ اور ایک اَور جگہ پر پولس واضح کرتا ہے کہ جن لوگوں کی زندگی میں یہ خصوصیت ہو وہ خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے (۱۔کرنتھیوں ۶: ۹ ،۱۰)۔ پولس کو اُن پر افسوس کرنا پڑے گا کیونکہ اُنہوں نے توبہ نہیں کی لہٰذا اُنہیں کلیسیا سے خارج کرنا پڑے گا۔
ڈاربی (Darby) توجہ دلاتا ہے کہ اِس باب کا آغاز تیسرے آسمان سے اور اِختتام زمین پر گھنونے گناہوں پر ہوتا ہے۔ اور اِن دونوں کے درمیان مُداوا اور علاج ہے __ یعنی مسیح کی قدرت جو رسول پر چھائی ہوئی تھی۔
۱۳: ۱ پولس کرنتھس جانے والا تھا۔ وہاں جائے گا تو ایمان داروں کے اندر گناہ کے معاملات کی تفتیش ہو گی۔ یہ تفتیش اِستثنا ۱۹: ۱۵ میں درج خدا کے اُصول کے مطابق ہو گی کہ دو یا تین گواہوں کی زبان سے ہر ایک بات ثابت ہو جائے گی۔ پولس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ مَیں مقدمہ چلائوں گا۔ یہ کام تو مقامی کلیسیا کرے گی۔ وہ سارے معاملے میں مشیر کا کردار ادا کرے گا۔
ط۔ اہلِ کرنتھس خود پولس کی رسالت کے گواہ ہیں (۱۳: ۲-۶)
۱۳: ۲ اپنے دوسرے دَورے کے دوران (جس کا حال کہیں درج نہیں ) پولس نے کرنتھیوں کو متنبہ کیا تھا کہ مَیں قصور واروں کے ساتھ سختی سے پیش آئوں گا۔ اب غیر حاضری میں بھی اُن سب کو پہلے سے کہے دیتا ہے کہ جو لوگ گناہ کرتے رہے ہیں، اُن سے ہرگز درگزر نہ کرے گا۔
۱۳: ۳ کرنتھی جھوٹے اُستادوں کے فریب میں آ کر یقین کرنے لگے تھے کہ پولس سچا رسول نہیں ہے، بلکہ اُنہوں نے اُسے چیلنج بھی کیا تھا کہ ثبوت دے کہ خدا کا مستند نمائندہ ہے۔ اُس کے پاس کیا سند تھی، کیا ثبوت تھا کہ مسیح مجھ میں بولتا ہے؟ پولس جواب کا آغاز اُن کی گستاخانہ درخواست سے کرتا ہے کیونکہ تم اِس کی دلیل چاہتے ہو کہ مسیح مجھ میں بولتا ہے۔
پھر وہ جملۂ معترضہ میں اُن کو یاد دلاتا ہے کہ مسیح نے میرے وسیلے سے اپنے آپ کو تم پر زور آور ظاہر کیا تھا، یعنی بڑی قدرت کے ساتھ اُن پر ظاہر ہوا تھا۔ اُن کی زندگیوں میں جو زبردست مکاشفہ ہوا تھا، اُس میں کوئی بات بھی قطعاً کمزور نہ تھی یعنی جب وہ خوش خبری پر ایمان لائے تھے تو مسیح زور آور ظاہر ہوا تھا۔
۱۳: ۴ لفظ کمزور اور زور آور کے ذکر سے پولس کو کمزوری میں سے قوت کا معجزہ یاد آ جاتا ہے جو مسیح کی زندگی میں اور اَب اُس کے خادموں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ ہمارا خداوند «کمزوری کے سبب سے مصلوب ہوا لیکن خدا کی قدرت کے سبب سے زندہ ہے»۔ چنانچہ اُس کے پیرو اپنے آپ میں تو کمزور ہیں، لیکن خداوند اُن کے وسیلے سے اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ «ہم بھی … اُس کے ساتھ خدا کی اُس قدرت کے سبب سے زندہ ہوں گے جو تمہارے واسطے ہے۔» یہاں پولس قیامت کا ذکر نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ جب تمہارے پاس آئوں گا تو جو لوگ گناہ کرتے رہے ہیں، اُن کے ساتھ نمٹنے میں خدا کی قدرت ظاہر کروں گا۔ وہ کہتے تھے کہ پولس کمزور اور قابلِ تحقیر ہے۔ مگر وہ اُن کو دِکھا دے گا کہ تربیت اور تادیب کے معاملے میں وہ مضبوط اور زور آور ہے۔
۱۳: ۵ یہ آیت پیوستہ ہے آیت ۳ کے پہلے حصے سے کہ «چونکہ تم اِس کی دلیل چاہتے ہو کہ مسیح مجھ میں بولتا ہے … » اِس لئے «اپنے آپ کو آزمائو کہ ایمان پر ہو یا نہیں»۔ وہ خود اُس کی رسالت کا ثبوت تھے۔ اُسی کے وسیلے سے وہ مسیح کے پاس آئے تھے۔ اگر وہ پولس کی اَسناد دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو دیکھیں۔
آیت ۵ کی کئی دفعہ غلط تشریح کی جاتی اور یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ نجات کی تسلی کے لئے ہمیں اپنے اندر دیکھنا چاہئے، جب کہ اِس طرح حوصلہ شکنی ہوتی اور شک کی راہیں کھلتی ہیں۔ نجات کا یقین تو سب سے پہلے خدا کے کلام سے حاصل ہوتا ہے۔ جس لمحے ہم مسیح پر ایمان لاتے ہیں اُسی لمحے بائبل مقدس کے اِختیار سے ہم جان لیتے ہیں کہ ہماری نئی پیدائش ہو گئی ہے۔ اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ہمیں نئی زندگی کی اَور شہادتیں بھی ملتی جاتی ہیں، مثلاً پاکیزگی کے لئے نئی محبت، گناہ کے لئے نئی نفرت، بھائیوں کی محبت، عملی راست بازی، فرماں برداری اور دُنیا سے علیٰحدگی۔
مگر پولس کرنتھیوں کو یہ نہیں کہہ رہا کہ اپنی نجات کا ثبوت تلاش کر لو، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ اپنی نجات میں میری رسالت کا ثبوت دیکھو۔
صرف دو امکانات تھے۔ یا تو یسوع مسیح اُن میں تھا، یا وہ نامقبول تھے، جعلی تھے۔ جس لفظ کا ترجمہ نامقبول کیا گیا ہے، وہ اُن دھاتوں کے لئے استعمال ہوتا تھا جو آزمائے جانے پر جعلی یا کھوٹی ثابت ہوتی تھیں۔ چنانچہ کرنتھی بھی یا تو سچے ایمان دار تھے، یا اِمتحان میں فیل نکلنے کے باعث نامقبول تھے۔
۱۳: ۶ اگر وہ اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہم کو واقعی اور حقیقی طور پر نجات ملی ہے تو اِس سے یہی بات نکلتی ہے کہ پولس اصلی اور سچا رسول ہے اور نامقبول نہیں۔ کرنتھیوں کی زندگیوں میں جو حیرت انگیز تبدیلی آئی تھی وہ جھوٹے اُستادوں کے باعث تو ہرگز نہیں ہو سکتی تھی۔
ی۔ پولس کی خواہش کہ کرنتھیوں سے بھلائی کرے (۱۳: ۷-۱۰)
۱۳: ۷ پولس کرنتھس کی کلیسیا میں گناہ کرنے والے اراکین کی تادیب اور سرزنش کے موضوع کو جاری رکھتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ مَیں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ کرنتھی اپنے درمیان پائے جانے والے گناہ کی حمایت کر کے بدی نہ کریں، بلکہ اِس بات کی مسلسل کوشش کریں کہ گناہ کرنے والے ممبران کی تادیب اور بحالی ہو۔ وہ اِس لئے یہ دعا نہیں مانگتا کہ خود مقبول معلوم ہو، یا دوسرے اُس کو اچھا سمجھیں۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ کرنتھی یہ کام اِس لئے کریں کہ پھر وہ کہہ سکے کہ اُن کی یہ فرماں برداری میرے اِختیار کی گواہ اور ثبوت ہے۔ یہاں یہ خیال ہرگز موجود نہیں، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ کرنتھی یہ کام اِس لئے کریں کہ یہی نیکی اور دیانت داری ہے۔ وہ ہر قیمت پر چاہتا ہے کہ کرنتھی یہ کریں خواہ اِس کے نتیجے میں خود پولس نامقبول ہی معلوم ہو۔
یہاں ہمیں پھر پولس کے بے لوث اور بے غرض ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ اُس کی دعائیہ زندگی میں مقصد ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ دوسروں کی بھلائی ہو۔ وہ اپنی ناموری کا کبھی خواہاں نہیں ہوا۔ اگر پولس چھڑی لے کر کرنتھس جاتا، اور نظم و ضبط اور تربیت و تادیب کے سلسلے میں اپنی ہدایات منوا کر اپنا اِختیار منوا لیتا تو اِس بات کو جھوٹے اُستادوں کے خلاف ایک دلیل کے طور پر پیش کر سکتا تھا۔ اور کہہ سکتا تھا کہ یہ میرے جائز اِختیار کا ثبوت ہے۔ نہیں۔ بلکہ وہ چاہتا ہے کہ میری غیر حاضری میں کرنتھی خود اپنے طور پر ضروری اقدام کریں۔ خواہ اِس طرح وہ اِن شریعت پرستوں اور رسوم پرستوں کی نظر میں نامقبول ہی ٹھہرے۔
۱۳: ۸ اِس آیت میں «ہم» غالباً رسولوں کی طرف اشارہ ہے۔ پولس کہہ رہا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کریں اِس بات کو مدِنظر رکھ کر کریں کہ حق یعنی خدا کی سچائی کی ترقی ہو۔ اِس اقدام میں خود غرضی کا رنگ نہیں ہونا چاہئے، بلکہ تادیب کے معاملے میں بھی شخصی اِنتقام کا خیال تک نہیں ہونا چاہئے۔ سارے کام میں مدِنظر یہ رکھنا چاہئے کہ خدا کو جلال ہو، اور ہم ایمان مسیحیوں کا بھلا۔
۱۳: ۹ جہاں تک کرنتھیوں کا تعلق ہے پولس یہاں بھی کمال بے غرضی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اگر اُس کی کمزوری ذلت اور لعن طعن کا نتیجہ یہ ہوا کہ کرنتھی زور آور ہوئے تو وہ خوش ہے۔ اِسی طرح خوشی منانے کے ساتھ ساتھ وہ دعا بھی کرتا ہے کہ کرنتھی ایمان دار کامل بنیں۔ گناہ کرنے والے خطاکاروں کے ساتھ تادیبی کارروائی کرنے کے تعلق سے پولس دعا مانگتا ہے کہ وہ پورے اور کامل بنیں۔ اُس کی دلی آرزو تھی کہ خدا کی کامل مرضی اُن کی زندگی میں کام کرے۔ ہوج کہتا ہے کہ «پولس دعا مانگتا ہے کہ وہ اُلجھن اور اَبتری کی حالت سے نکلیں اور کامل طور پر بحال ہوں۔ اُس تفرقے، جھگڑے اور بُرائی سے نکلیں جس میں وہ پڑے ہوئے تھے۔»
۱۳: ۱۰ اِس خط کے لکھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ کرنتھی کامل بنیں۔ وہ ترجیح دیتا ہے کہ غیر حاضری میں یہ باتیں لکھے تاکہ مذکورہ نتائج حاصل ہوں۔ بجائے اِس کے کہ حاضر ہو کر «اُس کو اُس اِختیار کے موافق سختی …کرنا پڑے جو خداوند نے» اُسے دیا تھا۔ لیکن اگر حاضر ہو کر بھی اُسے سختی سے پیش آنا پڑتا تو بھی اُن کے «بنانے کے لئے» ہوتا «بگاڑنے کے لئے» نہ ہوتا۔
ک۔ خدائے ثالوث کے نام میں پولس کی پُرفضل الوداع (۱۳: ۱۱-۱۴)
۱۳: ۱۱ پولس اب اپنے طوفانی خط کو اچانک ختم کرتا ہے۔ اُن کو الوداع کہنے (یونانی سلام کا لفظی مطلب ہے خوش رہو یا خوشی منائو) کے ساتھ وہ اُن کو چار تاکیدیں یا نصیحتیں کرتا ہے۔ پہلی تاکید: «کامل بنو۔» یہ فعل وہی ہے جو متی ۴: ۲۱ میں جالوں کی مرمت کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے طور اطوار کی مرمت کرو۔ عادات کو درست کرو۔ کرنتھیوں کو لڑنا جھگڑنا اور گناہ کرنا ترک کر کے ایک دوسرے کے ساتھ صلح اور ہم آہنگی سے رہنا ہو گا۔
دوسری تاکید: «خاطر جمع رکھو» یعنی حوصلہ رکھو۔ مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نصیحت حاصل کرو۔ پولس نے اُن کو زبردست سرزنش اور تنبیہ کی تھی۔ یہاں وہ کہہ رہا ہے کہ اِن نصیحتوں کو اچھی روح میں خوش دلی سے قبول کرو اور اِن پر عمل کرو۔
تیسری تاکید: «یک دل رہو۔» مسیحیوں کے لئے یک دل رہنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ویسا ہی مزاج رکھیں جیسا مسیح یسوع کا بھی تھا۔ اُس کی طرح سوچیں۔ اپنی ساری سوچیں اور دلیلیں مسیح کے تابع اور مطیع کر دیں۔
چوتھی تاکید: «میل ملاپ رکھو۔» ۱۲: ۲۰ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے درمیان جھگڑے اور تفرقے تھے۔ جب بھی رسوم پرستی کو داخل کیا جائے گا ہمیشہ یہی نتیجہ ہو گا۔ اِس لئے پولس اُن کو کہتا ہے کہ «پہلے خطاکاروں کی سرزنش کرو۔ اُن کو مناسب سزا دو۔ اور اپنے ساتھی مسیحیوں کے ساتھ صلح اور اَمن سے رہو۔»
اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو خدا محبت اور میل ملاپ کا چشمہ اُن کے ساتھ ہو گا۔ بے شک ایک لحاظ سے خداوند ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر وہ اِن باتوں میں اُس کے فرماں بردار ہوں تو وہ خاص طور پر اپنی قربت اور محبت کا اِظہار کرتا ہے۔
۱۳: ۱۲«پاک بوسہ۔» رسولوں کے زمانے میں پاک بوسہ مسیحیوں کے سلام کا مخصوص حصہ تھا۔ اِس کو ایک پاک بوسے کا نام دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مصنوعی محبت اور اُلفت کی علامت نہیں بلکہ اخلاص اور سچائی کی علامت تھا۔ آج بھی کئی ملکوں میں مسیحیوں کے درمیان اِس کا رواج ہے۔ مگر بعض معاشروں میں پاک بوسے کے بجائے مصافحہ کرنے اور گلے ملنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہوج (Hodge)کہتا ہے:
«یہ کوئی دائمی حکم نہیں، بلکہ حکم کی روح یہ ہے کہ مسیحی اپنی باہمی محبت کا اِظہار اِس طرح کیا کریں جو اُن کے زمانے اور معاشرے کو منظور اور قبول ہو۔»
۱۳: ۱۳ «سب مقدس لوگ تم کو سلام کہتے ہیں۔» اِس سلام نے کرنتھیوں کو یاد دلا دیا ہو گا کہ وہ کتنی وسیع رفاقت میں شامل کئے گئے ہیں اور کہ دوسری کلیسیائوں کی نظریں اُن کی ترقی اور خداوند کی فرماں برداری پر لگی ہوئی ہیں۔
۱۳: ۱۴ یہ نئے عہدنامے کے نہایت ہی خوبصورت کلمات ِبرکت ہیں۔ اِس میں تثلیث کے تینوں اقانیم موجود ہیں۔
لینسکی (Lenski) یوں کہتا ہے:
«میرے سامنے عظیم رسول کی یہ تصویر اُبھرتی ہے کہ وہ کرنتھیوں کے اوپر ہاتھ بڑھائے نئے عہدنامے کی اِس گہری برکت کے الفاظ بول رہا ہے۔ اُس کی آواز خاموشی میں اُتر جاتی ہے۔ لیکن برکت ہمارے دلوں پر رہ جاتی ہے۔»
۱؎ نیلسن ڈربی (Darby۔ ۱۸۰۰ء تا ۱۸۸۲ء)پولس کی مانند ساری دُنیا میں خدمت کرتا تھا۔ اُس کی قبر کے کتبے پر درج ہے «گمناموں کی مانند ہیں تو بھی مشہور ہیں۔» اُس کی زندگی اور خدمت کی مناسبت سے یہ نہایت موزوں الفاظ ہیں۔