۔2 کُرنتِھیوں ۱

۱۔ پولس خدمت کی تشریح کرتا ہے(ابواب ۱-۷)

الف۔ سلام(۱:۱،۲)

۱:‏ ۱ خط کے شروع میں پولس اپنا تعارُف کراتا ہے کہ وہ خدا کی مرضی سے مسیح یسوع کا رسول ہے۔ ضروری ہے کہ وہ شروع ہی میں یہ بات واضح کر دے کیونکہ کرنتھس میں ایسے لوگ موجود تھے جو اعتراض کرتے تھے کہ کیا خداوند نے پولس کو رسول مقرر کیا ہے؟ اُس کا جواب ہے کہ مَیں نے یہ خدمت اپنی مرضی سے نہیں چنی، نہ مجھے آدمیوں نے مقرر اور مخصوص کیا ہے، بلکہ خدا کی مرضی سے یسوع مسیح نے مجھے اِس خدمت میں ڈالا ہے۔ رسالت کے لئے اُس کی بلاہٹ دمشق کی راہ پر ہوئی تھی۔ یہ اُس کی زندگی کا ایک نہ بھولنے والا تجربہ تھا۔ اِس اِلٰہی بلاہٹ کا شعور ہی اُسے مصیبت اور دُکھوں کی بے شمار گھڑیوں میں قائم اور ثابت قدم رکھتا تھا۔ مسیح کی خدمت کے دوران بعض اوقات اُس پر دبائو حد سے بڑھ جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ کہہ سکتا تھا کہ مَیں سب کچھ چھوڑ کر گھر جا بیٹھتا ہوں۔ مگر اُسے یقین تھا کہ یہ بلاہٹ خدا کی طرف سے ہے، اِس لئے وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا تھا۔

پہلی ہی آیت میں تیمتھیس کے ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ اُس نے یہ خط مرتب کرنے یالکھنے لکھانے میں مدد کی۔ صرف اِتنا ظاہر ہوتا ہے کہ جب خط لکھا گیا تو وہ پولس کے پاس تھا۔ اِس مذکورہ حقیقت کے سوا اُن دنوں میں تیمتھیسکی نقل و حرکت کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اِس خط میں خدا کی اُس کلیسیا کو جو کرنتھس میں ہے اور تمام اخیہ کے سب مقدسوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔

«خدا کی … کلیسیا۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے اُن ایمان داروں کی جماعت جو خدا کے ہیں۔ یہ بت پرستوں یا بے دینوں کی جماعت نہ تھی اور نہ لوگوں کا کوئی غیر مذہبی اِجتماع تھا، بلکہ اُن مسیحیوں کی رفاقت اور جماعت تھی جو نئے سرے سے پیدا ہوئے تھے اور دُنیا میں سے بلائے گئے تھے کہ خداوند کے ہو جائیں۔ جب پولس یہ الفاظ لکھ رہا تھا تو یقین ہے کہ اُسے یاد آ رہا تھا کہ مَیں نے پہلی دفعہ کرنتھس میں جا کر کس طرح بشارت دی تھی۔ بت پرستی اور شہوت پرستی میں غلطاں مرد و زَن نے یسوع مسیح کو خداوند قبول کیا تھا، اور اُس کے حیرت انگیز فضل سے نجات پائی تھی۔ اگرچہ بعد میں کرنتھس کی جماعت میں کئی مشکلات اور مسائل پیدا ہو گئے تھے تو بھی رسول کا دل یہ سوچ کر خوشی سے بھر جاتا تھا کہ اُن پیارے لوگوں کی زندگیوں میں زبردست تبدیلی آئی تھی۔ اِس خط میں صرف کرنتھس کے ایمان داروں کو نہیں بلکہ تمام اخیہ کے سب مقدسوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اخیہ یونان کے جنوبی حصے کی اور مکدنیہ شمالی حصے کی نمائندگی کرتا تھا۔ اِس خط میں ہم مکدنیہ کے بارے میں کافی کچھ پڑھیں گے۔

۱:‏ ۲ «فضل اور اِطمینان …» یہ بہت پیارا سلام ہے۔ اب ہم جان گئے ہیں کہ عزیز رسول پولس اِسی طرح سلام لکھتا ہے۔ جب وہ خدا کے لوگوں کے لئے اپنی زبردست خواہش کا اِظہار کرنا چاہتا ہے تو وہ اُن کے لئے سونے چاندی جیسی مادی چیزوں کی تمنا نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ یہ چیزیں بہت جلد جاتی رہتی ہیں، بلکہ وہ اُن کے لئے روحانی برکتوں کی تمنا کرتا ہے، جیسے فضل اور اِطمینان کیونکہ اِن میں ہر وہ اچھی چیز شامل ہے جو زمین پر ایک گنہگار حاصل کر سکتا ہے۔ فضل خوش خبری کا پہلا اور آخری لفظ ہے اور اِطمینان ایمان دار میں مسیح کے کام کی تکمیل ہے۔ یہ برکات ہمارے باپ خدا اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے آتی ہیں۔ ہمارا باپ خدا سر چشمہ ہے اور خداوند یسوع مسیح راستہ یا ذریعہ ہے۔ پولس خداوند یسوع مسیح کو خدا باپ کے ساتھ ساتھ رکھنے سے نہیں جھجکتا کیونکہ مسیح تثلیث کا ایک اقنوم اور باپ کے برابر ہے۔

ب۔ دُکھوں میں تسلی دینے کی خدمت ( ۱: ۳-۱۱)

۱:‏ ۳ آیات ۳-‏۱۱ میں رسول دلی طور سے شکر گزاری کرتا ہے،‏ کیونکہ اُسے مصیبتوں اور دُکھوں میں تسلی ملتی ہے۔ بلاشبہ تسلی وہ اچھی خبر تھی جو ططس نے مکدنیہ آ کر اُسے دی تھی۔ اِس کے بعد رسول ثابت کرتا ہے کہ مَیں دُکھوں میں گھرا ہوں،‏ یا آرام و سکون میں ہوں،‏ ہر حالت سے بالآخر اُن ایمان داروں کی بہتری اور بھلائی پیدا ہوتی ہے جن کی مَیں خدمت کرتا ہوں۔ شکرگزاری میں ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ نئے عہدنامے میں یہ خدا کا مکمل لقب ہے۔ اب اُس کو ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا کہہ کر مخاطب نہیں کیا جاتا۔ اب وہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا اور باپ ہے۔ اِس لقب سے اِس حقیقت کا بھی اِظہار ہے کہ خداوند یسوع،‏ خدا اور اِنسان دونوں ہے۔ خدا تو ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا ہے۔ اِس سے یسوع کے ابنِ آدم ہونے کا بیان ہوتا ہے۔ لیکن خدا ہمارے خداوند یسوع مسیح کا باپ بھی ہے۔ اِس سے مسیح کا ابنِ خدا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ خدا کو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلی کا خدا بھی کہا گیا ہے۔ اُس سے تمام رحمت اور تمام تسلی صادر ہوتی ہے۔

۱:‏ ۴ اپنی تمام مصیبتوں اور دُکھوں کے دوران پولس کو خدا کی تسلی بخش حضوری کا احساس رہا۔ یہاں وہ بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ بتاتا ہے کہ خدا اُسے کیوں تسلی دیتا تھا۔ تاکہ وہ (‏پولس)‏ دوسرے مصیبت زَدہ لوگوں کو تسلی دے سکے۔ اور یہ وہی تسلی ہے جس سے خدا خود اُسے تسلی دیتا ہے۔ لفظ تسلی سے ہم اکثر یہ مطلب لیتے ہیں کہ رنج و غم کے موقع پر دلاسا دینا۔ مگر نئے عہدنامہ میں اِس کا مطلب بہت وسیع تر ہے۔ اِس سے مراد وہ حوصلہ افزائی اور نصیحت ہے جو ضرورت کے وقت ہمارا ساتھ دینے والے سے ہم کو ملتی ہے۔ اِس آیت میں ہم سب کے لئے ایک عملی سبق پایا جاتا ہے۔ جب ہمیں تسلی ملتی ہے،‏ تو یاد رکھیں کہ ہمیں یہ تسلی دوسروں کو بھی پہنچانی ہے۔ ہمیں بیماری والے یا موت والے گھر سے پہلو بچا کر نہیں نکل جانا،‏ بلکہ جتنی جلدی ممکن ہو اُن کے پاس پہنچنا چاہئے جن کو تسلی اور دلاسے اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ہمیں تسلی اِس لئے نہیں ملتی کہ سکون اور دل جمعی کے ساتھ بیٹھے رہیں،‏ بلکہ اِس لئے کہ خود تسلی دینے والے بنیں۔

۱:‏ ۵پولس دوسروں کو کیوں تسلی دے سکتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جس قدر مصیبتیں ہوتی ہیں مسیح کے وسیلے سے اُسی قدر تسلی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں مسیح کے دُکھ سے مراد نجات دہندہ کے وہ دُکھ نہیں جو اُس نے ہمارے کفارے کے لئے سہے۔ وہ تو یکتا اور بے مثال تھے،‏ اور کوئی اِنسان اُن میں شریک نہیں ہو سکتا۔ لیکن مسیحی خداوند یسوع کے ساتھ تعلق کے باعث دُکھ سہہ سکتے ہیں اور سہتے بھی ہیں۔ اُن کو ملامت،‏ ردّ کئے جانے،‏ عداوت،‏ نفرت،‏ بے وفائی اور لاتعلقی وغیرہ متعدد قسم کے دُکھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِن کو مسیح کے دُکھ کہا گیا ہے،‏ کیونکہ جب وہ دُنیا میں تھا تو اُس نے بھی یہ سارے دُکھ سہے۔ اور اب بھی جب اُس کے بدن کے اعضا پر یہ دُکھ آتے ہیں تو وہ بھی یہ دُکھ محسوس کرتا اور برداشت کرتا ہے۔ ہماری تمام مصیبتوں میں وہ مصیبت زدہ ہوتا ہے (‏دیکھئے یسعیاہ ۶۳:‏۹)‏۔ لیکن یہاں پولس یہ نکتہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اِن سارے دُکھوں کا معاوضہ گراں قدر ہے،‏ کہ اِسی نسبت سے مسیح کی تسلی بھی زیادہ ملتی ہے۔

۱:‏ ۶ پولس رسول دیکھتا ہے کہ میرے دُکھوں اور میری تسلی دونوں سے بھلائی اور بہتری پیدا ہوتی ہے۔ صلیب دونوں کی تقدیس کرتی ہے۔ «اگر ہم مصیبت اُٹھاتے ہیں تو تمہاری (‏مقدسین کی)‏ تسلی اور نجات کے واسطے۔» مراد اُن کی روحوں کی نجات نہیں،‏ بلکہ وہ قوت اور برداشت ہے جو اِن آزمائشوں اور اِمتحانوں میں سے اُن کو کامیاب نکالے گی۔ پولس کی برداشت سے اُن کی تقویت ہو گی اور اُن کے لئے چیلنج ہو گا۔ اور وہ یہ منطقی نتیجہ اخذ کریں گے کہ اگر خدا پولس کو مصیبت برداشت کرنے کا فضل دے سکتا ہے تو ہمیں بھی دے گا۔

وہ تسلی جو پولس رسول کو ملی،‏ وہ کرنتھیوں میں بھی پوری پوری تاثیر دِکھائے گی تاکہ جب وہ بھی اُن مصیبتوں میں سے گزریں جو رسول بھی سہتا تھا تو « صبر کے ساتھ … برداشت» کر سکیں۔ جو لوگ کڑی آزمائشوں میں سے گزرے ہیں وہی جانتے ہیں کہ دوسرے مصیبت زدوں کی تسلی کے لئے موزوں اور مناسب الفاظ کیسے بولنے ہیں۔ جو ماں اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کا غم سہہ چکی ہو،‏ صرف وہی اُس دوسری ماں کو صحیح تسلی دے سکتی ہے جس کا دل اُسی طور ٹوٹا ہو۔ مگر بہترین مثال اُس (‏آسمانی)‏ باپ کی ہے جس کا اپنا اِکلوتا بیٹا مر گیا۔ وہی اُن سب کو تسلی اور دلاسا دیتا ہے جن کے عزیز و اقارب جاتے رہے ہیں۔

۱:‏ ۷ اب رسول اِس اعتماد کا اِظہار کرتا ہے کہ جس طرح کرنتھی جانتے ہیں کہ مسیح کی خاطر دُکھ سہنے کا کیا مطلب ہے،‏ اُسی طرح اُن کو مسیح کی تسلی اور مدد بھی ملے گی۔ مسیحیوں پر دُکھ کبھی اکیلے نہیں آتے بلکہ ساتھ ساتھ مسیح کی تسلی بھی آتی ہے۔ پولس کی طرح ہمیں بھی یہ اِعتماد ہونا چاہئے۔

آیات ۳-۷ کا سلیس ترجمہ(لِوِنگ بائبل سے ماخوذ)یوں بھی ہو سکتا ہے:

«ہمارا خدا کیسا عجیب خدا ہے __ وہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا باپ ہے۔ وہ ہر قسم کی رحمت کا سرچشمہ ہے،‏ اور ہماری مصیبتوں اور آزمائشوں میں عجیب طور پر ہمیں تسلی اور تقویت دیتا ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ تاکہ جب دوسرے مصیبت میں ہوں،‏ جب اُن کو ہماری ہمدردی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہو،‏ تو جو تسلی اور مدد خدا نے ہمیں دی ہے،‏ وہ ہم اُن تک بھی پہنچا سکیں … ہماری مصیبتوں میں خدا نے ہمیں تسلی دی ہے … اِس لئے بھی کہ تمہاری مدد ہو۔ اور ہمارے ذاتی تجربے سے تم کو دِکھایا جائے کہ جب تم اِسی قسم کے دُکھوں سے گزرو گے تو خدا بڑی شفقت سے تم کو بھی اِسی طرح تسلی دے گا۔ وہ تم کو برداشت کرنے کی قوت دے گا۔»

۱:‏ ۸ دُکھوں اور تسلی کے بارے میں عام بات کرنے کے بعد پولس اُس شدید آزمائش کا ذکر کرتا ہے جس میں سے خود اُس کو حال ہی میں گزرنا پڑا تھا۔ «اے بھائیو! ہم نہیں چاہتے کہ تم اُس مصیبت سے ناواقف رہو جو آسیہ میں ہم پر پڑی» (‏آسیہ اُس علاقے کا ایک صوبہ تھا جو آج کل ایشیائے کوچک کا مغربی حصہ ہے)‏۔ کون سی مصیبت تھی جس کا ذکر رسول یہاں کر رہا ہے؟ شاید وہ خطرناک ہنگامہ اور فساد ہو جو اِفسس میں برپا ہوا تھا (‏اعمال ۱۹:‏۲۳-‏۴۱)‏۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کوئی مہلک بیماری تھی،‏ جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پولس کا اِشارہ کرنتھس سے ملنے والی حوصلہ شکن خبر کی طرف ہے۔ خوش قسمتی کی بات ہے کہ اِس حوالے کی قدر و قیمت اور لطف کا اِنحصار صحیح تفاصیل پر نہیں ہے۔

البتہ مصیبت اِتنی کڑی تھی کہ پولس «حد سے زیادہ پست» ہو گیا تھا،‏ یعنی قوتِ برداشت سے اِتنی باہر تھی کہ وہ کہتا ہے کہ «یہاں تک کہ ہم نے زندگی سے بھی ہاتھ دھو لئے۔»

ایک مفسر نے اِس آیت کو سلیس زبان میں یوں پیش کیا ہے کہ «اُس وقت ہم پر ایسا شدید دبائو تھا کہ برداشت سے باہر تھا،‏ بلکہ ہم کہتے تھے کہ بس حشر ہو گیا ہے۔»

۱:‏ ۹ رسول کے حالات ایسے ہولناک نظر آ رہے تھے کہ اپنے اوپر موت کے حکم کا یقین کر چکا تھا۔ اگر کوئی اُس سے پوچھتا کہ موت ہو گی یا زندگی؟ تو وہ ضرور یہی جواب دیتا کہ موت۔ خدا نے اپنے خادم کو اِس اِنتہائی حالت تک اِس لئے پہنچنے دیا تاکہ اپنا بھروسا نہ رکھے بلکہ خدا کا جو مُردوں کو جلاتا ہے۔ بلاشبہ یہاں خدا جو مُردوں کو جلاتا ہے اِن معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ وہ قادرِ مطلق ہے۔ جس شخص کی موت کا فیصلہ ہو چکا اُس کی اُمید صرف وہی ہستی ہو سکتی ہے،‏ جو مُردوں کو جلا سکتی ہے۔ اور رسول خود کو موت کے حوالے ہی سمجھ رہا تھا۔

۱:‏ ۱۰ پولس رسول چھڑانے یا رہائی دلانے کے حوالے سے دونوں زمانوں کا ذکر کرتا ہے،‏ یعنی ماضی «چھڑایا» اور مستقبل «چھڑائے گا» اور «چھڑاتا رہے گا»۔ اگر یہاں اِفسس کا ہنگامہ پیشِ نظر ہے تو پولس اِشارہ دے رہا ہے کہ ہنگامہ کیسے اچانک موقوف ہو گیا اور وہ بچ گیا تھا (‏اعمال ۲۰:‏۱)‏۔ پولس رسول جانتا ہے کہ جس خدا نے اُسے ماضی میں چھڑایا،‏ وہ اُسے ہر روز چھڑانے پر بھی قادر ہے،‏ اور اُس آخری اور شاندار لمحے تک چھڑاتا رہے گا جب وہ اِس دُنیا کے دُکھوں،‏ مصیبتوں اور ایذارسانیوں سے پورے طورپر آزاد ہو جائے گا۔

۱:‏ ۱۱ یہ رسول بڑی فراخ دلی سے فرض کر لیتا ہے کہ میری کڑی آزمائش کے دِنوں میں کرنتھس کے مسیحی میرے لئے دعائیں مانگتے رہے ہیں،‏ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ایمان دار اُس پر اعتراض اور نکتہ چینی کرنے لگے تھے۔ بہت سنجیدہ سوال ہے کہ کیا وہ رسول کو فضل کے تخت کے سامنے یاد بھی کرتے تھے کہ نہیں؟ تو بھی وہ اُن سے اچھی بات کی توقع رکھتا ہے۔ «جو نعمت ہم کو بہت سے لوگوں کے وسیلے سے ملی۔» یہاں نعمت سے مراد پولس کی رہائی ہے جو بہت سے لوگوں کی دعائوں کا نتیجہ تھی۔ وہ اپنی رہائی کو مقدسین کی براہِ راست شفاعت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ چونکہ بہت سے لوگوں نے دعائیں مانگیں اِس لئے «اُس کا شکر بھی بہت سے لوگ ہماری طرف سے کریں» کہ اُن دعائوں کا جواب ملا۔

ج۔ پولس کے منصوبوں میں تبدیلی کی وضاحت(‏۱:‏ ۱۲-‏۲:‏۱۷)‏

۱:‏ ۱۲ پولس محسوس کرتا ہے کہ وہ ایمان داروں کی دعائوں پر اِنحصار کر سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اُن کے ساتھ ہمیشہ صاف دلی سے پیش آتا رہا ہے۔ وہ اُن کے ساتھ اپنی دیانت پر فخر کر سکتا ہے۔ اور اُس کا ضمیر اِس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ میرے کردار کی خصوصیت پاکیزگی اور صفائی ہے۔ مراد ہے چال چلن ایسا پاکیزہ اور شفاف ہے جو خدا کے فضل ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ وہ جسمانی حکمت کے آگے نہیں جھکا،‏ بلکہ سب کے سامنے ایسے کھلے طور سے دن گزارے جو صرف خدا کے فضل سے ملنے والی طاقت اور توفیق ہی سے ہو سکتا ہے۔ اور کرنتھیوں پر یہ سب کچھ خاص طور سے واضح ہونا چاہئے۔

۱:‏ ۱۳جس دیانت سے وہ ماضی میں کرنتھیوں کے ساتھ پیش آتا رہا،‏ وہ اِس خط کی خصوصیت بھی ہے۔ وہ اپنے دل کی بات پوری دیانت داری سے لکھ رہا ہے۔ مطلب بالکل صاف،‏ سادہ اور واضح ہے،‏ یعنی بالکل وہی ہے جو وہ پڑھتے ہیں۔ اور رسول اُمید کرتا ہے کہ وہ آخر تک یعنی جب تک جیتے رہیں گے اِس بات کو مانتے رہیں گے۔

۱:‏ ۱۴ کرنتھس کی جماعت میں سے کتنوں ہی نے مان بھی لیا تھا،‏ یعنی سب نے نہیں،‏ لیکن بہت سے ایمان داروں نے پولس کو مان لیا تھا۔ یہ وفادار ایمان دار دو حقیقتوں کو سمجھتے تھے کہ خداوند یسوع کے دن ہم اِس پر فخر کریں گے اور وہ ہم پر فخر کرے گا۔ خداوند یسوع کے دن سے مراد مسیح کے تخت ِعدالت کا دن ہے جب ایمان داروں کی خدمت کا جائزہ لیا جائے گا اور اَجر دیا جائے گا۔ جب پولس اُس تخت ِعدالت پر نظر ڈالتا ہے تو اُس کو اُن سب کے چہرے دِکھائی دیتے ہیں جو اُس کی خدمت کے وسیلے سے نجات میں شامل ہوئے۔ وہ اُس کی خوشی اور شادمانی کا تاج ہیں اور بدلے میں وہ بھی خوش ہوں گے کہ پولس ہمیں مسیح کے قدموں میں لانے کا وسیلہ ہوا۔

۱:‏ ۱۵ اِسی بھروسے پر پولس کو اِعتماد ہے کہ کرنتھس کے مقدسین خوشی مناتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کا سچا رسول ہے اور اُس کی سچائی اور اخلاص شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ وہ یہ تسلی لے کر اُن کے پاس آنا چاہتا تھا کہ وہ اُس پر بھروسا کرتے،‏ اُس کی عزت کرتے اور اُس سے پیار کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ مَیں نے یہ اِرادہ کیا تھا کہ پہلے تمہارے پاس آئوں یعنی وہ مکدنیہ جانے سے پہلے،‏ اور پھر مکدنیہ سے واپسی پر بھی اُن کے پاس جانے کا اِرادہ رکھتا تھا۔ اِس طرح اُن کو ایک اَور نعمت ملتی،‏ یعنی پولس ایک کی بجائے دو دفعہ اُن کے پاس جاتا۔

۱:‏ ۱۶ اِس آیت میں ایک اَور نعمت کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ جیسا پہلے ذکر ہوا،‏ منصوبہ یہ تھا کہ پولس اِفسس سے روانہ ہو گا تو اخیہ آئے گا جہاں کرنتھس واقع تھا۔ پھر شمال کو سفر کرتے ہوئے مکدنیہ چلا جائے گا۔ وہاں بشارت دینے کے بعد واپس کرنتھس آئے گا۔ اُسے اُمید تھی کہ اِس موقعے پر کرنتھس کے مقدسین اُس کی مدد کر کے اُسے یہودیہ کی طرف روانہ کر دیں گے __ یہ مدد غالباً اُن کی مہمان نوازی اور دعائوں تک محدود ہو گی۔ اِس میں مالی مدد شامل نہیں ہو گی،‏ کیونکہ آگے چل کر (‏۱۱:‏ ۷-‏۱۰ میں)‏ پولس اِس مصمم ارادے کا بیان کرتا ہے کہ وہ کسی سے مالی امداد نہیں لے گا۔

۱:‏ ۱۷ پولس کے اصل منصوبے پر کبھی عمل نہ ہو سکا۔ وہ اِفسس سے روانہ ہو کر تروآس میں آیا۔ اور جب وہاں ططس اُسے نہ ملا تو سیدھا مکدنیہ چلا گیا اور کرنتھس کو اپنے اِس دَورے میں سے نکال دیا۔ اِس لئے یہاں وہ پوچھتا ہے پس مَیں نے جو یہ ارادہ کیا تھا تو کیا متلوّن مزاجی سے کیا تھا؟ غالباً اُسے بدنام کرنے والے بالکل یہی بات کہہ رہے تھے۔ «متلوّن مزاج،‏ بدل جانے والا پولس! کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے۔ کیا ایسا شخص سچا رسول ہوتا ہے؟» پولس کرنتھیوں کو چیلنج کرتا ہے کہ کیا مَیں غیر معتبر ہوں۔ جب مَیں منصوبہ بناتا ہوں تو کیا جسمانی طور پر کرتا ہوں؟ جس کے نتیجے میں ایک لمحہ «ہاں» ہوتی ہے اور دوسرے لمحے «نہیں نہیں» ہوتی ہے؟ کیا مَیں منصوبہ بندی صرف سہولت اور مصلحت کی بنا پر کرتا ہوں؟ سلیس زبان میں یہ یوں ادا ہو سکتا ہے:‏ چونکہ ہم کو یہ منصوبہ بدلنا پڑا تو کیا اِس کا مطلب ہے ہم متلون مزاج ہیں؟ کیا آپ کا خیال ہے کہ مَیں منصوبہ بندی کرتے ہوئے کچھ باتیں چھپا کر رکھتا ہوں کہ «کہتا ہاں ہوں اور مطلب نہیں ہوتا ہے؟»

۱:‏ ۱۸پولس اپنے سفر کے منصوبوں کو چھوڑ کر اپنے منادی کے منصوبوں کے بارے میں کلام کرتا ہے۔ شاید اُس کے نکتہ چین کہتے تھے کہ اگر وہ عام گفتگو میں قابلِ اعتبار نہیں تو اُس کی منادی پر بھی اِعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

۱:‏ ۱۹ پولس دلیل دیتا ہے کہ میرے اعمال و کردار ناقابلِ اعتبار نہیں،‏ کیونکہ جس نجات دہندہ کی مَیں منادی کرتا ہوں وہ الٰہی اور لاتبدیل ہستی ہے۔ وہ شش و پنج میں نہیں رہتا۔ اُس میں تبدیلی ہے ہی نہیں۔ جب وہ (‏پولس)‏ سلوانس اور تیمتھیس کے ساتھ پہلی دفعہ کرنتھس آیا تھا (‏اعمال ۱۸:‏ ۵)‏تو اُنہوں نے خدا کے بیٹے یسوع کی منادی کی تھی جو کامل طور سے قابلِ اِعتبار ہے۔ اُن کا پیغام غیر محکم نہیں تھا،‏ کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کے بارے میں تھا جو محکم اور لاتبدیل ہے۔ دلیل یہ ہے کہ جو شخص روح میں خداوند یسوع کی منادی کرتا ہے اُس کے لئے ایسی حرکت کرنا ممکن ہی نہیں جس کا الزام اُس کے معترضین اُس پر لگا رہے تھے۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ منادی تو ایک وفادار خدا کی کرے اور خود اپنی باتوں میں بے وفا ہو!

۱:‏ ۲۰«خدا کے جتنے وعدے ہیں۔» یہ وعدے تعداد میں کتنے بھی ہوں وہ مسیح میں پورے ہوتے ہیں۔ اور جتنے لوگ دیکھتے ہیں کہ خدا کے وعدے اُس میں پورے ہوئے ہیں،‏ وہ اِس پر آمین کہتے ہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا کہ

«ہم اپنی بائبل کھول کر کوئی وعدہ نکالتے ہیں اور خدا کی طرف اُمید بھری نظر سے دیکھتے ہیں تو خدا کہتا ہے مسیح کے وسیلے سے تم یہ سب کچھ لے سکتے ہو۔ مسیح پر یقین رکھتے ہوئے ہم خدا سے کہتے ہیں ’آمین‘۔ خدا مسیح کے وسیلے سے کلام کرتا ہے اور ہم مسیح پر ایمان رکھتے ہیں۔ مسیح نیچے کو ہاتھ بڑھاتا ہے اور ایمان اُوپر کو ہاتھ بڑھاتا ہے،‏ اور خدا کا ہر ایک وعدہ یسوع مسیح میں پورا ہوتا ہے۔ مسیح میں اور اُس کے وسیلے سے ہم اُن وعدوں کے حق دار بنتے ہیں اور کہتے ہیں ہاں خداوند،‏ مَیں تیرا یقین کرتا ہوں۔ یہ ایمان کی ہاں ہے۔»

یہ سب کچھ اِس لئے ہے تاکہ ہمارے وسیلے سے خدا کا جلال ظاہر ہو۔ جب کسی اِنسان پر یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ خدا نے یہ ساری باتیں جو ہمارے تصور میں بھی نہیں آ سکتی تھیں،‏ ہماری بھلائی کے لئے کہی ہیں،‏ اور جب یہ بھلائی اُس کے بیٹوں میں یقینی اور محفوظ نظر آتی ہے،‏ تو اُس کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔

«ہمارے وسیلے سے۔» یہ الفاظ کرنتھیوں کو یاد دلاتے ہیں کہ سلوانس،‏ تیمتھیس اور پولس جیسے آدمیوں کی منادی کے وسیلے سے وہ مسیح میں خدا کے وعدوں کے وارث بنے۔ اگر پولس اُس کے مخالفین کے الزام کے مطابق دھوکے باز ہوتا،‏ تو کیا خدا نے ایسے حیرت افزا نتائج پیدا کرنے کے لئے ایک فریبی اور جھوٹے شخص کو استعمال کیا تھا؟ اِس کا جواب بے شک نہیں ہے۔

۱:‏ ۲۱اب پولس ثابت کرتا ہے کہ وہ اور کرنتھی زندگی کے ایک ہی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ خدا نے اُن کو ایمان میں اور اپنے کلام کے وسیلے سے «مسیح میں» قائم کیا تھا۔ اُس نے اپنے روح القدس سے مَسح کر کے اُن کو توفیق اور تعلیم دی تھی۔

۱:‏ ۲۲ خدا ہی نے اُن پر مُہر بھی کی اور بیعانہ میں روح بھی اُن کے دلوں میں دیا۔ یہاں ہم کو روح القدس کی دو اَور خدمات نظر آتی ہیں۔ مُہر ملکیت اور محافظت کی علامت ہے۔ ایمان دار کے اندر سکونت کرنے والا «روح» نشان ہے کہ اب ایمان دار خدا کی ملکیت ہے اور ابد تک محفوظ ہے۔ بے شک یہ مُہر نادیدنی ہے۔ لوگوں کو کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہم مسیحی ہیں؟ کیا کسی بِلّے یا ظاہری نشان سے جو ہم لگائے پھرتے ہیں؟ نہیں،‏ بلکہ ہماری روح سے معمور زندگی اِس کی گواہی دیتی ہے۔ خدا نے بیعانہ میں روح ہمارے دلوں میں دیا ہے۔ یہ اِس وعدے کا بیعانہ ہے کہ پوری میراث ہم کو ملے گی۔ جب خدا کسی آدمی کو نجات دیتا ہے تو اُسے روح القدس بھی دیتا ہے جو اُس کے اندر سکونت کرتا ہے۔ روح کا ملنا اِس بات کی ضمانت ہے کہ خدا کی پوری میراث بھی ملے گی۔ جس قسم کی برکات روح القدس یہاں ہماری زندگی میں بخشتا ہے،‏ وہ دن آتا ہے کہ وہی برکات پوری پوری ہماری ہوں گی۔

۱:‏ ۲۳ پولس نے پہلے کرنتھس آنے کا منصوبہ بدل دیا تھا۔ اِس وجہ سے اُس پر متلون مزاجی کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ اب ۱ :‏۲۳ سے ۲:‏۴ تک پولس اِس کا دو ٹوک جواب دیتا ہے۔ چونکہ کوئی اِنسان بھی پولس کی باطنی نیت کو نہیں پہچان سکتا،‏ وہ خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے۔ اگر رسول منصوبے کے مطابق کرنتھس آتا تو وہ حالات سے پوری سختی سے نمٹتا۔ وہ مقدسین کو شخصی طور پر جھڑکتا،‏ کیونکہ وہ جماعت میں گناہ کو برداشت کر رہے تھے۔ یہ اُن کی کوتاہی تھی۔ اُن کو اِس رنج اور دُکھ سے بچانے کے لئے پولس نے کرنتھس میں آنے میں تاخیر کی۔

۱:‏ ۲۴مگر پولس یہ بھی نہیں چاہتا کہ میری اِس بات سے لوگ سمجھنے لگیں کہ مَیں کرنتھیوں پر اپنا حکم چلاتا ہوں۔ اِس لئے وہ کہتا ہے «یہ نہیں کہ ہم ایمان کے بارے میں تم پر حکومت جتاتے ہیں بلکہ خوشی میں تمہارے مددگار ہیں کیونکہ تم ایمان ہی سے قائم رہتے ہو۔» پولس اُن کے مسیحی ایمان کے بارے میں اُن پر حکم نہیں چلانا چاہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کرنتھی ایمان دار مجھے ظالم اور جابر سمجھیں،‏ بلکہ وہ اور اُس کے ہم خدمت اُن کی خوشی میں صرف مددگار تھے۔ مراد یہ ہے کہ وہ صرف وہی کچھ کرنا چاہتا تھا جس سے مسیحی راہ پر چلنے میں اُن کی مدد اور اُن کی خوشی میں اضافہ ہو۔

آیت کے آخری حصے کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم ایمان ہی میں قائم رہتے ہو،‏ یعنی جہاں تک اُن کے ایمان کا تعلق ہے کسی تصحیح یا درستی کی حاجت نہ تھی،‏ کیونکہ اِس سلسلے میں وہ بہت مضبوط تھے۔ جن باتوں کی وہ درستی کرنا چاہتا تھا،‏ اُن کا تعلق ایمان یا عقیدے سے نہیں بلکہ کلیسیا کے اندر عملی کردار سے تھا۔

۲:‏ ۱ یہ آیت گذشتہ باب کی آخری دو آیات کے خیال کو آگے بڑھاتی ہے۔ پولس مزید وضاحت کرتا ہے کہ منصوبے کے مطابق اُس کے کرنتھس نہ آنے کی وجہ یہ تھی کہ تمہارے پاس غمگین ہو کر نہ آئوں۔ یہ الفاظ قابلِ غور ہیں کہ مَیں نے اپنے دل میں یہ قصد کیا تھا کہ پھر تمہارے پاس غمگین ہو کر نہ آئوں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے پہلے دَورے (‏جس کا ذکر اعمال ۱۸:‏ ۱-‏۱۷ میں ہے)‏ کے بعد بھی کرنتھس گیا تھا،‏ مگر اُس موقعے پر اُسے بہت غم اور رنج سہنا پڑا تھا۔ ۲۔کرنتھیوں ۱۲:‏ ۱۴ اور ۱۳:‏۱ میں بھی اِشارہ ملتا ہے کہ وہ درمیانی عرصے میں کرنتھس گیا تھا۔ غمگین ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پولس کو اُن پر خفا ہونا اور اُن کو جھڑکنا پڑا تھا۔

۲:‏ ۲اگر رسول کرنتھس آئے اور وہاں کے مسیحیوں کو رُوبرو جھڑکے تو یقینا وہ غمگین ہوں گے اور وہ خود بھی غمگین ہو گا،‏ کیونکہ وہ تو اُن سے خوشی کی توقع رکھتا ہے۔

۲:‏ ۳شخصی ملاقات سے اِس طرح باہم غمگین ہونے کے بجائے،‏ پولس نے خط لکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اُسے اُمید تھی کہ خط سے متوقع نتائج حاصل ہو جائیں گے،‏ کرنتھی قصوروار بھائی کی تادیب اور سرزنش کریں گے اور پولس کو اگلے دَورے کے دوران بھائیوں میں کشیدگی کا غم نہیں دیکھنا پڑے گا،‏ کیونکہ وہ اُن سے دلی محبت رکھتا ہے۔

اِس آیت کے پہلے حصے میں ایک خط (‏وہی بات لکھی تھی)‏ کا ذکر ہے۔ کیا اِس سے مراد کرنتھیوں کے نام پولس کا پہلا خط ہے،‏ یا کوئی اَور خط جو اَب موجود نہیں؟ بہت سے علما یقین رکھتے ہیں کہ یہ ۱۔کرنتھیوں نہیں ہو سکتا کیونکہ آیت ۴ میں بیان ہوا ہے کہ یہ خط «بڑی مصیبت اور دلگیری کی حالت میں بہت آنسو بہا بہا کر … لکھا گیا تھا»۔ مگر بعض علما محسوس کرتے ہیں کہ یہ بیان ۱۔کرنتھیوں سے پوری پوری مطابقت رکھتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ پولس نے کرنتھیوں کو کوئی بہت سخت خط لکھا ہو،‏ مگر اُسے محفوظ نہ کیا گیا ہو۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ خط اُس نے اپنے پہلے غم ناک دَورے (‏۲۔کرنتھیوں ۲:‏۱)‏کے بعد لکھا تھا اور اِسے پہنچانے کی ذمہ داری ططس کے سپرد کی تھی۔ خیال ہے کہ ۲:‏۴،‏۹ اور ۷:‏ ۸،‏۱۲ میں اِسی خط کی طرف اِشارہ ہے۔

کوئی بھی نظریہ درست ہو،‏ آیت ۳ میں خیال یہ ہے کہ پولس نے اُن کو یہ خط اِس لئے لکھا تھا «تاکہ ایسا نہ ہو کہ مجھے آ کر جن سے خوش ہونا چاہئے تھا مَیں اُن کے سبب سے غمگین ہوں»،‏ یعنی جن سے خوشی سے ملنے کی توقع ہے اُن کے باعث غم ملے۔ اُس کو اِعتماد تھا کہ جن باتوں سے مجھے خوشی ہوتی ہے اُنہی باتوں سے اُن سب کو بھی خوشی ہو گی۔ مراد یہ ہے کہ نظم و ضبط اور تادیب کے معاملے کو خدا خوفی کے ساتھ حل کرنے سے سب کو شادمان ہونے کا موقع ملے گا۔

۲:‏ ۴ یہ آیت ہمیں ایک عظیم پاسبان کے دل کے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ پولس کو اِس بات کا دلی رنج تھا کہ کرنتھس کی کلیسیا میں گناہ کو برداشت کِیا گیا تھا۔ اُس کے لئے یہ بڑی مصیبت اور دلگیری کی بات تھی اور وہ اِس پر بہت سے آنسو بہاتا تھا۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کرنتھس میں گناہ پر خود کرنتھیوں کی نسبت رسول زیادہ دلگیر اور افسردہ تھا۔ اُن کو اِس خط کا یہ مطلب نہیں نکالنا چاہئے کہ پولس اُن کے جذبات کو مجروح کرنا چاہتا ہے،‏ بلکہ اِسے اُس کی محبت کا ثبوت سمجھنا چاہئے۔ اُسے اُمید تھی کہ میرے خط لکھنے سے اُن کو حالات درست کرنے کو کافی وقت مل جائے گا۔ اور نتیجے میں اُس کا دَورہ خوشگوار اور سب کے لئے باعث ِمسرت ہو گا۔ جو زخم دوست کے ہاتھ سے لگیں پُروفا ہیں (‏اَمثال ۲۷:‏ ۶)‏۔ اگر ہماری خدا خوفی کے ساتھ تنبیہ کی جائے یا صلاح دی جائے تو ہمیں بُرا نہیں ماننا چاہئے،‏ بلکہ سوچنا چاہئے کہ ایسا کرنے والا شخص ہمارا خیر خواہ ہے۔ راست جھڑکی کو خداوند کی طرف سے سمجھنا چاہئے اور اِس کے لئے شکر گزار ہونا چاہئے۔

۲:‏ ۵ آیت ۵ سے ۱۱ تک رسول براہِ راست اُس واقعے کا بیان کرتا ہے جس سے ساری مشکل پیدا ہوئی تھی۔ غور کریں کہ پولس مسیحی فکر مندی اور خوش اسلوبی کا کیسا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ نہ تو جرم کا نہ جرم کرنے والے کا نام لیتا ہے۔ «اگر کوئی شخص غم کا باعث ہوا ہے …۔» یہ الفاظ ۱۔کرنتھیوں ۵:‏۱ میں مذکور اُس شخص کی طرف بھی اِشارہ کر سکتے ہیں جس نے اپنے باپ کی بیوی کو رکھا ہوا تھا اور کسی دوسرے شخص کی طرف بھی جس نے کلیسیا میں مشکل پیدا کی ہوئی تھی۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہاں اوّل الذکر شخص مراد ہے۔ پولس اِس گناہ کو اپنے خلاف جرم نہیں سمجھتا،‏ بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ شخص «کسی قدر … سب (‏ایمان داروں)‏ کے غم کا باعث ہوا» ہے۔

۲:‏ ۶ کرنتھس کے ایمان دار متفق تھے کہ مجرم کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔ لگتا ہے کہ اُنہوں نے اُس کو کلیسیا سے خارج کر دیا تھا۔ نتیجے میں وہ سچے دل سے تائب ہو گیا تھا اور خداوند میں بحال کر دیا گیا تھا۔ اِس لئے پولس کہتا ہے کہ «یہی سزا … کافی ہے»۔ اب وہ اِسے بلا ضرورت طول نہ دیں۔ آیت کے آخری حصے میں لکھا ہے «… اُس نے اکثروں کی طرف سے پائی۔» بعض علما کو یقین ہے کہ اکثروں کا مطلب اکثریت ہے،‏ جب کہ دوسرے اِصرار کرتے ہیں کہ مراد سب اراکین ہیں سوائے مجرم کے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کلیسیائی معاملات میں اکثریتی فیصلہ کافی نہیں ہوتا کیونکہ جہاں خدا کے روح کی راہنمائی حاصل کی جاتی ہے وہاں ہر فیصلہ اور کارروائی متفقہ ہونی چاہئے۔

۲:‏ ۷،‏ ۸ اب چونکہ متعلقہ شخص پورے دل سے تائب ہو چکا ہے اِس لئے کرنتھیوں کو چاہئے کہ اُس کو معاف کریں اور رفاقت میں دوبارہ شامل کر لیں۔ ورنہ خطرہ ہے کہ «وہ غم کی کثرت سے تباہ … ہو» جائے،‏ یعنی وہ اپنی معافی کی حقیقت سے مایوس ہو جائے اور مستقل غم اور بے دلی میں پڑا رہے۔

کرنتھی کھلے بازُوئوں کے ساتھ اُس کے لئے اپنی محبت پر تصدیق کی مُہر لگا سکتے تھے،‏ اور خوشی اور شفقت کے ساتھ اُسے بحال کر سکتے تھے۔ یہی اُن کی محبت کا فتویٰ ہے۔

۲:‏ ۹ اپنے پہلے خط سے رسول نے کرنتھیوں کو آزمایا تھا۔ اُن کو موقع دیا تھا کہ ثابت کریں کہ وہ خداوند کے کلام کے فرماں بردار ہیں جو اُن کو پولس کی معرفت پہنچا تھا۔ اُس خط میں رسول نے مشورہ دیا تھا کہ اُس شخص کو کلیسیا سے خارج کیا جائے۔ اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا تھا اور ثابت کر دیا تھا کہ ہم فرماں بردار ہیں۔ اب پولس چاہتا ہے کہ وہ ایک قدم اَور آگے بڑھیں اور اُس آدمی کو کلیسیا میں دوبارہ شامل کر لیں۔

۲:‏ ۱۰ پولس چاہتا ہے کہ وہ جان لیں کہ تائب گنہگار کو معاف کرنے میں وہ پورے طور پر اُن کے ساتھ ہے۔ اگر پولس کو کچھ معاف کرنا تھا تو وہ کرنتھیوں کی خاطر اُسے معاف کرتا ہے۔ اور وہ مسیح کا قائم مقام ہو کر معاف کرتا ہے۔

اِس خط میں کلیسیائی نظم و ضبط (‏اور تادیبی کارروائی)‏ پر زور اِس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر آج کی اِنجیلی کلیسیائوں میں اِس موضوع کو بُری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک اَور مثال ہے کہ ہم دعوے تو کرتے ہیں کہ پاک نوشتے الہامی ہیں،‏ مگر اِن پر عمل صرف اُس وقت کرتے ہیں جب ہمارا اپنا مطلب نکلتا ہو۔

۲:‏ ۱۱ جب ضرورت کے باوجود کوئی جماعت اِنضباطی کارروائی نہ کرے تو اُس کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح جب سچی توبہ کے باعث معافی دینے کی ضرورت ہے اور نہ دی جائے تو اُس وقت بھی خطرہ ہوتا ہے۔ شیطان تو ہر قسم کی صورتِ حال میں اپنی عیاری اور مکاری کے ہتھ کنڈوں سمیت آ موجود ہوتا ہے۔ پہلی صورت میں وہ گناہ کو برداشت کرنے (‏اور نظر انداز کرنے)‏ کے باعث کلیسیا کی گواہی کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ دوسری صورت میں وہ تائب شخص کو غم کے بوجھ تلے دبا کر تباہ کر دیتا ہے۔ اُسے غم یہ ہوتا ہے کہ توبہ کے باوجود کلیسیا نے مجھے بحال نہیں کیا۔ اگر شیطان حرام کاری سے تباہ نہیں کر سکتا تو وہ توبہ کے بعد اِنتہائی غم کو استعمال کرتا ہے۔

«ہم اُس کے حیلوں سے ناواقف نہیں۔» اِس آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے جے۔ سڈلو بیکسٹر(‏ Sidlow Baxter)‏ کہتا ہے:‏

«روحوں کو سچائی سے بھٹکانے کے لئے شیطان ہر حیلہ،‏ بہانہ اور دائو استعمال کرتا ہے۔ پھٹکنے کے لئے چھاج (‏لوقا ۲۲:‏۳۱)‏۔ دائو لگانے کے لئے حیلے (‏زیرِ نظر آیت)‏۔ دبانے کے لئے جھاڑیاں (‏متی ۱۳:‏ ۲۲)‏۔ پھنسانے کے لئے منصوبے (‏افسیوں ۶:‏ ۱۱)‏۔ ڈرانے کے لئے شیر ببر کی گرج (‏۱۔پطرس ۵:‏۸)‏۔ فریب دینے کے لئے فرشتے کا بھیس (‏۲۔کرنتھیوں ۱۱:‏ ۱۴)‏۔ اسیر کرنے کے لئے پھندے (‏۲۔تیمتھیس ۲:‏ ۲۶)‏۔ »

۲:‏ ۱۲آیت ۴ کے بعد پولس نے اپنے منصوبوں میں تبدیلی کا موضوع چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ دوبارہ اِسی موضوع پر بات کرتا ہے۔ پہلے اُس نے اعلان کیا تھا کہ مَیں کرنتھس آئوں گا،‏ مگر پھر گیا نہیں۔ گذشتہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ وہ جھڑکنے اور سرزنش کرنے کی سخت روح میں وہاں نہیں جانا چاہتا تھا۔ آیات ۱۲ سے ۱۷ میں وہ بتاتا ہے کہ میری خدمت کے اِس مرحلے پر دراصل ہوا کیا تھا۔ پہلے بیان ہوا ہے کہ پولس اِفسس سے روانہ ہو کر تروآس میں آیا تھا۔ اُسے اُمید تھی کہ وہاں ططس سے ملاقات ہو گی اور وہ کرنتھس کی خبریں دے گا۔ جب وہ تروآس میں آیا تو خداوند میں اُس کے لئے دروازہ کھل گیا یعنی خداوند نے عجیب طور سے موقع پیدا کر دیا کہ وہ مسیح کی خوش خبری کی منادی کر سکے۔

۲:‏ ۱۳ اِس سنہری موقع کے باوجود پولس کی روح کو آرام نہ ملا،‏ اِس لئے کہ وہاں ططس سے اُس کی ملاقات نہ ہوئی۔ کرنتھس کی کلیسیا کے بارے میں رسول کے دل پر بڑا بوجھ تھا۔ کیا وہ تروآس میں ٹھہرا رہے اور مسیح کی اِنجیل کی منادی کرے؟ یا مکدنیہ جانے کو کمر باندھ لے؟ اُس نے مکدنیہ جانے کا فیصلہ کر لیا،‏ اور وہاں چلا گیا۔ معلوم نہیں جب کرنتھیوں نے یہ خبر پڑھی تو اُن کا ردِعمل کیا تھا۔ کیا اُن کو احساس ہوا اور شرم آئی کہ ہمارے برتائو اور رویے کے نتیجے میں رسول کی زندگی میں اِس قدر بے چینی پیدا ہوئی کہ اُس نے خوش خبری کی منادی کا ایسا عمدہ موقع چھوڑ دیا کہ ہماری روحانی حالت کے بارے میں معلوم کر سکے؟

۲:‏ ۱۴ پولس ناکام نہیں رہا۔ وہ مسیح کی خدمت میں جہاں بھی گیا کامیابی اور فتح نے اُس کے قدم چومے۔ چنانچہ وہ شکرگزاری کرتے ہوئے کہتا ہے کہ «مگر خدا کا شکر ہے جو مسیح میں ہم کو ہمیشہ اسیروں کی طرح گشت کراتا ہے۔» اے۔ٹی۔رابرٹسن (‏Robertson)‏کہتا ہے:‏

«وضاحت کا ایک لفظ کہے بغیر پولس مایوسی اور بے دلی کی دلدل سے چھلانگ لگا کر باہر آتا ہے،‏ اور پرندے کی طرح خوشی و شادمانی کی بلندیوں پر اُڑنے لگتا ہے۔ وہ شاہین کی طرح بلند پروازی کرتا اور بڑے فخر سے نیچے کی وادی کو تضحیکی نظروں سے دیکھتا ہے۔»

یہاں پولس رومی فاتحین کے فتح کے جلوس کی مثال مستعار لیتا ہے۔ شاندار فتوحات کے بعد رومی فاتح جب وطن واپس آتا تھا تو دارالحکومت کی گلیوں میں سے گزرتا تھا۔ اُس کے جنگی قیدی جلوس کی شکل میں اُس کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ بخور دان اُٹھائے ہوئے غلام دونوں طرف جلوس کے ساتھ چلتے تھے اور پورا منظر لُوبان کی خوش بو سے مہک جاتا تھا۔ اِسی طرح پولس خداوند کی تصویر پیش کرتا ہے کہ وہ تروآس سے مکدنیہ تک ایک فاتح کی طرح جلوس کے آگے آگے جا رہا ہے،‏ اور رسول اُس کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے۔ جہاں کہیں خداوند جاتا ہے اُس کے خادموں کے وسیلے سے فتح ہی فتح ہوتی ہے۔ اور مسیح کے علم کی خوشبو اُس کے رسول کے وسیلے سے ہر جگہ پھیلتی چلی جاتی ہے۔ ایف۔ بی۔ مائیر (‏Meyer )‏ لکھتا ہے:‏

«وہ جہاں کہیں جاتے تھے،‏ لوگ یسوع کو بہتر طور پر جان لیتے تھے۔ مالک کے کردار کی خوبصورتی اَور زیادہ نمایاں ہو جاتی تھی۔ لوگوں کو احساس ہونے لگتا تھا کہ ایک انجانی سی خوشبو ہوا میں چاروں طرف بس گئی ہے۔ یہ خوشبو اُن کو ناصری کی طرف کھینچتی تھی۔»

چنانچہ پولس محسوس نہیں کرتا کہ اُسے شیطان سے جنگ میں شکست ہوئی ہے،‏ بلکہ خداوند کو فتح ہوئی ہے اور پولس اِس فتح میں شریک ہے۔

۲:‏ ۱۵ فتح کے جن جلوسوں کا حوالہ پولس نے دیا ہے،‏ اُن میں لُوبان کی خوشبو فاتحین کی شاندار فتح کا اعلان کرتی تھی،‏ لیکن اسیروں کے لئے موت کا پیغام ہوتی تھی۔ اِس لئے رسول متوجہ کرتا ہے کہ اِنجیل کی خوش خبری دُہرا اثر رکھتی ہے۔ نجات پانے والوں کے لئے اِس کی ایک اہمیت ہے،‏ جب کہ ہلاک ہونے والوں کے لئے اِس کی اہمیت بالکل مختلف ہے۔ جو اِسے قبول کرتے ہیں اُن کے لئے تو یہ ایک شاندار مستقبل کی ضمانت ہے جب کہ دوسروں کے لئے ہلاکت کا نشان ہے۔ مگر ہر دو صورتوں میں خدا کو جلال حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک صورت میں یہ اُس کے فضل کی خوشبو ہے۔ دوسری صورت میں عدل کی خوشبو ہے۔ ایف۔ بی۔ مائیر (‏Meyer )‏ کیا خوب بیان کرتا ہے:‏

«چنانچہ جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم خدا کے نزدیک مسیح کی دل پسندخوشبو ہیں تو اِس کا مطلب لازماً یہ ہے کہ ہم اِس طرح زندگی گزاریں کہ خدا کو اُسی خوشبو کی یاد آئے جو یسوع کی دُنیاوی زندگی سے اُٹھتی تھی۔ مراد یہ ہے کہ جب خدا روز بروز ہم پر نظر کرے اُسے ہم میں یسوع دِکھائی دے۔ اور اُسے وہ مبارک زندگی یاد آئے جو خدا کو ہدیہ اور راحت انگیز خوشبو کی قربانی کے طور پر پیش کی گئی تھی۔»

۲:‏ ۱۶ نجات یافتہ لوگوں کے لئے تو مسیحی «جینے کے لئے زندگی کی بو» ہیں لیکن «ہلاک ہونے والوں کے لئے وہ موت کی بو» ہیں۔ ہم وہ ہیں جن کو فلپس خود زندگی کی تازگی بخش خوشبو کہتا ہے کہ ایمان لانے والوں کے لئے زندگی لاتے ہیں اور جو ایمان لانے سے اِنکار کرتے ہیں اُن کے لئے موت کی بدبو ہیں۔ یہ دُہرا اثر پرانے عہدنامے کے ایک واقعہ میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ جب فلستی عہد کے صندوق کو چھین کر لے گئے تو جب تک یہ صندوق اُن کے درمیان رہا موت اور تباہی کا باعث بنا رہا (‏۱۔سموئیل باب ۵)‏۔ لیکن جب اُس کو واپس لا کر عوبید ادوم کے گھر میں رکھا تو اُس کے خاندان کے لئے برکت اور خوش حالی کا باعث بنا (‏۲۔سموئیل ۶:‏۱۱)‏۔ جب پولس پیغام کی منادی کرنے کے زبردست اِمکان پر غور کر کے دیکھتا ہے کہ اُس کے نتائج اِتنے دُور رس ہیں تو پکار اُٹھتا ہے کہ کون اِن باتوں کے لائق ہے؟

۲:‏ ۱۷ آیت ۱۶ اور ۱۷ کے درمیان تعلق اور تسلسل کو واضح کرنے کے لئے ہمیں «ہم ہیں» کے الفاظ کا اضافہ کرنا پڑے گا۔ کون اِن باتوں کے لائق ہے؟ ہم ہیں۔ «کیونکہ ہم اُن بہت لوگوں کی مانند نہیں جو خدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں» (‏مگر اس بات کو بھی ۳:‏۵ کی روشنی میں جاننا اور سمجھنا چاہئے جہاں پولس کہتا ہے کہ ہماری لیاقت خدا کی طرف سے ہے)‏۔ بہت لوگوں سے مراد وہ اُستاد ہیں جو مسیحیوں کو یہودی رسم و رواج کا پابند بننے کی تعلیم دیتے تھے اور اِس کوشش میں تھے کہ کرنتھس کے ایمان دار پولس رسول سے دُور ہٹ جائیں۔ یہ لوگ کس کی مانند تھے؟ پولس کہتا ہے کہ وہ خدا کے کلام کو پھیری والوں کی طرح بیچتے پھرتے ہیں۔ اِس کو مالِ تجارت بنا لیتے ہیں۔ وہ اُجرت وصول کرنے کی نیت سے کلام میں آمیزش کرتے ہیں۔ وہ خدمت کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی لفظ اُن لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا جو شراب میں آمیزش کرتے تھے۔ اِس میں کچھ ملا دیتے تھے۔ اُسی طرح یہ جھوٹے اُستاد خدا کے کلام میں اپنی تعلیمات (‏اپنے عقائد)‏ ملا کر اُس میں آمیزش کرتے تھے۔ مثال کے طور پر وہ شریعت اور فضل کو باہم ملانے کی کوشش کرتے تھے۔

پولس اُن میں سے نہیں تھا جو خدا کے کلام میں آمیزش کرتے یا اُسے منافع بخش مالِ تجارت بنا لیتے تھے بلکہ وہ اپنی خدمت کا بیان چار اہم تراکیب سے کرتا ہے۔ اوّل،‏ «دل کی صفائی۔» مطلب ہے کہ ہمارا اخلاص صاف شفاف نظر آتا ہے۔ اُس کی خدمت بادیانت خدمت تھی۔ اِس میں کوئی دائو فریب یا حیلہ نہیں تھا،‏ ہر بات کھلی اور سب کے سامنے تھی۔

دوم،‏ وہ اپنی خدمت کو خدا کی طرف سے کہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ جو کچھ بولتا تھا خدا کی طرف سے بولتا تھا۔ خدا ہی اُس کے پیغام کا منبع تھا۔ اور اِس خدمت کو کرنے کے لئے قوت اور توفیق بھی خدا کی طرف سے ملتی تھی۔ اِس کا مطلب ہے کہ پولس اِس شعور کے ساتھ خداوند کی خدمت کرتا تھا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ میری نگرانی کر رہا ہے۔ اُس کو پورا پورا احساس تھا کہ مَیں خدا کے سامنے جواب دہ ہوں اور اُس کی نظروں سے کچھ بھی چھپا نہیں سکتا۔

سوم،‏ وہ کہتا ہے کہ «ہم …مسیح میں بولتے ہیں»۔ مطلب ہے کہ وہ مسیح کے نام میں کلام سناتا تھا یعنی مسیح کے اِختیار سے،‏ گویا مسیح کا نمائندہ ہو کر بولتا تھا۔

د۔ خدمت کے لئے پولس کی اَسناد(‏ ۳:‏ ۱-‏۵)‏

۳:‏ ۱دوسرے باب کی ۱۷ آیت کے آخری حصے میں پولس نے اپنی خدمت کے حق میں چار نمایاں تراکیب استعمال کی ہیں۔ اُس کو احساس ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو اور خصوصاً میرے معترضین کو محسوس ہو گا کہ مَیں اپنے منہ میاں مٹھو بن رہا ہوں۔ چنانچہ وہ اِس باب کا آغاز اِس سوال سے کرتا ہے «کیا ہم پھر اپنی نیک نامی جتانا شروع کرتے ہیں؟» یہاں « پھر» میں یہ معانی مضمر نہیں کہ اُس نے پہلے بھی اپنی تعریف کی تھی۔ مطلب صرف اِتنا ہے کہ اُس پر ایسا کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اب اُسے توقع ہے کہ اُس پر یہ الزام پھر لگایا جائے گا۔

«یا ہم کو بعض کی طرح نیک نامی کے خط تمہارے پاس لانے یا تم سے لینے کی حاجت ہے؟» جن بعض کی طرف پولس نے یہاں اِشارہ کیا ہے وہ ۲:‏۱۷ کے جھوٹے اُستاد ہیں۔ غالباً وہ یروشلیم سے نیک نامی کے خط لے کر کرنتھس میں آئے تھے،‏ اور جب کرنتھس سے گئے تو شاید وہاں کی کلیسیا سے بھی ایسے ہی خط لیتے گئے۔ ابتدائی کلیسیا کے زمانے میں جب مسیحی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے تو نیک نامی کے خط لے کر جاتے تھے۔ اِس آیت میں رسول اِس رسم کی ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا،‏ بلکہ ایک لحاظ سے یہ کہہ رہا ہے کہ اُن جھوٹے اُستادوں میں اگر کوئی نیک نامی کی بات تھی تو صرف وہ خط تھے جن کو وہ اُٹھائے پھرتے تھے! ورنہ اُن کے پاس کوئی سند نہ تھی۔

۳:‏ ۲ یہودی رسم و رواج کے حامی جو کرنتھس میں آ گئے تھے وہ پولس کی رسالت کے اِختیار پر اعتراض کرتے تھے۔ وہ اُس کے مسیح کے سچے اور حقیقی خادم ہونے کا اِنکار کرتے تھے۔ وہ کرنتھیوں کے دلوں میں ایسے شک شاید اِس لئے ڈالتے تھے کہ جب پولس اگلی دفعہ اُن کے پاس آئے تو وہ اُس سے نیک نامی کے خط کا مطالبہ کریں۔ وہ پہلے ہی پوچھ چکا ہے کہ کیا مجھے ایسے خط کی حاجت ہے؟ کیا وہ اُن کے پاس اُس وقت نہیں آیا تھا جب وہ بے دین بت پرست تھے؟ کیا وہ اُن کو مسیح کے پاس نہیں لایا؟ کیا خداوند نے کرنتھس میں قیمتی روحیں رسول کو دے کر اُس کی خدمت پر اپنی مُہر نہیں لگائی؟ یہ ہے جواب۔ کرنتھی خود پولس کے لئے مسیح کا خط تھے جو اُس کے دل کی تختی پر لکھا ہوا تھا اور اُسے سب آدمی جانتے اور پڑھتے ہیں۔ اُس کو قلم اور سیاہی سے لکھے ہوئے خط کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ وہ خود اُس کی خدمت کا پھل تھے اور عزیزوں اور مقدسوں کی طرح اُس کے دل میں بستے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اُن کو سب آدمی جانتے اور پڑھتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ اُس علاقے میں سارے لوگ اُن کے ایمان لانے سے بخوبی واقف ہو گئے تھے۔ سارے لوگ دیکھتے تھے کہ اِن کرنتھیوں میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے،‏ کہ اب وہ بتوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع ہو گئے ہیں اور مقدس زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ خود ثبوت تھے کہ پولس کی خدمت خدا کی طرف سے ہے۔

۳:‏۳ پہلی نظر میں آیت ۳ آیت ۲ کی تردید معلوم ہوتی ہے۔ پہلے اُس نے کرنتھیوں کو اپنا خط قرار دیا،‏ اور اب کہتا ہے کہ وہ مسیح کا خط ہیں۔ آیت ۲ میں وہ کہتا ہے کہ یہ خط ہمارے دلوں پر لکھا ہوا ہے،‏ جب کہ آیت ۳ کے آخری حصے میں کہتا ہے یہ خط کرنتھیوں کے دلوں پر لکھا گیا ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ اِسے مسیح نے لکھا ہے۔ اِن تضادات کی کیا وضاحت ہو سکتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ آیت ۲ میں پولس بیان کرتا ہے ہے کہ اہلِ کرنتھس میری نیک نامی کے خط ہیں اور آیت ۳ میں اِس کی تشریح ہے۔ اگر ہم یوں کہیں تو بات صاف ہو جاتی ہے تم ہمارا خط ہو …کیونکہ ظاہر ہے کہ تم مسیح کا وہ خط ہو۔ دوسرے لفظوں میں کرنتھی اِس لئے پولس کی نیک نامی کا خط ہیں کیونکہ سب پر صاف ظاہر تھا کہ خداوند نے اُن کی زندگی میں فضل کا کام کیا ہے۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ مسیحی ہیں۔ چونکہ اُن کو خداوند کے پاس لانے میں پولس اِنسانی وسیلہ بنا تھا اِس لئے وہ اُس کی سند تھے۔ «ہم نے خادموں کے طور پر …» کے الفاظ میں یہی خیال پایا جاتا ہے۔ خداوند یسوع وہ ہستی ہے جس نے اُن کی زندگی میں کام کیا،‏ لیکن پولس کی خدمت کے وسیلے سے۔

نیک نامی کے جو خط پولس کے مخالفین استعمال کرتے تھے وہ سیاہی سے لکھے ہوئے تھے،‏ مگر پولس کا خط زندہ خدا کے روح سے لکھا گیا تھا،‏ اِس لئے خدا کی طرف سے تھا۔ سیاہی یقینا مدھم پڑ جاتی ہے،‏ مٹائی جا سکتی ہے اور نابود ہو سکتی ہے۔ مگر جب خدا کا روح اِنسانی دلوں پر لکھتا ہے تو اس کا لکھا ہوا اَبد تک قائم رہتا ہے۔ پولس رسول مزید کہتا ہے کہ یہ خط پتھر کی تختیوں پر نہیں بلکہ گوشت کی یعنی دل کی تختیوں پر لکھا گیا ہے۔ کرنتھس میں آنے والے لوگ مسیح کے اِس خط کو کسی بڑے چوراہے میں کسی یادگار ستون پر کھدا ہوا نہیں دیکھتے تھے بلکہ یہ خط وہاں کے مسیحیوں کے دلوں اور زندگیوں میں لکھا ہوا تھا۔

پولس نے پتھر کی تختیوں اور گوشت کی یعنی دل کی تختیوں میں تقابل پیش کیا ہے۔ اور یقینا اُس کے ذہن میں شریعت اور اِنجیل کا تقابل بھی موجود تھا۔ شریعت کوہِ سینا پر پتھر کی تختیوں پر کھود کر لکھی گئی تھی،‏ لیکن اِنجیل کے ماتحت خدا فضل اور محبت کے اُس پیغام سے فرماں برداری حاصل کرتا ہے جو اِنسانی دلوں پر لکھا گیا ہے۔ آگے چل کر پولس اِس موضوع پر تفصیلی بات کرے گا۔ یہاں صرف ایک اِشارہ دیتا ہے۔

۳:‏ ۴ پولس اپنی رسالت اور خداوند کی طرف سے سونپی گئی اپنی خدمت کے بارے میں پورے اِعتماد کے ساتھ بات کرتا ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ پولس! آپ اِس معاملے میں اِتنے اعتماد سے بات کرنے کی جرأت کیسے کر سکتے ہیں؟ جواب یہاں آیت ۴ میں دیا گیا ہے۔ اپنی رسالت کا دفاع تو خود اپنی تعریف معلوم ہوتا ہے،‏ لیکن یہاں وہ اِس کا اِنکار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرا یہ بھروسا اور اعتماد خدا پر ہے،‏ یعنی ایسا اعتماد ہے جو خدا کی طرف سے جانچ پڑتال پر پورا اُتر سکتا ہے۔ بھروسا اور اعتماد اپنی ذات پر نہیں،‏ نہ اپنی لیاقت پر ہے،‏ بلکہ مسیح کی معرفت ہے اور اُس کام پر ہے جو مسیح نے کرنتھیوں کی زندگیوں میں کیا ہے،‏ اور یہ میری خدمت کی حقیقت اور سچائی کا ثبوت ہے۔

۳:‏ ۵یہاں بھی پولس اپنی ذات اور لیاقت سے اِنکار کرتا ہے کہ مجھ میں کوئی ایسی خوبی یا لائق بات نہیں جس کی بنا پر مَیں اپنے آپ کو یسوع مسیح کا رسول سمجھوں۔ میری خدمت کے لئے طاقت میرے اندر سے نہیں بلکہ اُوپر سے آتی ہے۔ رسول اپنی تعریف کا ہرگز خواہاں نہیں۔ اُسے احساس اور شعور ہے کہ ہماری لیاقت خدا کی طرف سے ہے۔ اپنے آپ میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

ہ۔ پرانے عہد اور نئے عہد کا مقابلہ (‏ ۳:‏ ۶-‏۱۸)‏

۳:‏ ۶خدمت کے لئے اپنی اہلیت اور اپنی اَسناد پر بات کرنے کے بعد اب پولس خود خدمت کا تفصیلی بیان شروع کرتا ہے۔ اگلی چند آیات میں وہ پرانے عہد (‏شریعت)‏ اور نئے عہد (‏اِنجیل/ خوش خبری)‏ کا تقابل پیش کرتا ہے۔ اور اس مرحلے پر ایسا کرنے کی خاص وجہ ہے۔ جو لوگ کرنتھس میں اُس پر کڑی تنقید کر رہے تھے،‏ وہ لوگ تھے جو مسیحیوں کو یہودی رسم و رواج کا پابند کرنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ شریعت اور فضل کو آپس میں ملانے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ تعلیم دیتے تھے کہ خدا کے حضور پورے طور سے مقبول ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مسیحی بھی موسیٰ کی شریعت کے خاص خاص حصوں کی پابندی کریں۔ چنانچہ یہاں رسول ثابت کرتا ہے کہ نیا عہد پرانے عہد سے افضل ہے۔ وہ بات کا آغاز اِن الفاظ سے کرتا ہے کہ خدا نے ہم کو نئے عہد کے خادم ہونے کے لائق بھی کیا۔ سب جانتے ہیں کہ عہد ایک وعدہ ہوتا ہے۔ پرانا عہد قوانین یا رسومات کا وہ نظام ہے جو خدا نے موسیٰ کو دیا تھا۔ اِس کے تحت برکت فرماں برداری کے ساتھ مشروط تھی۔ یہ اعمال (‏نیک کاموں)‏ کا عہد تھا۔ یہ خدا اور اِنسان کے درمیان ایک سمجھوتا تھا کہ اگر اِنسان اپنا حصہ ادا کرے گا تو خدا بھی اپنا حصہ ادا کرے گا۔ لیکن چونکہ اِس کا اِنحصار اِنسان پر تھا اِس لئے راست بازی پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ نیا عہد خوش خبری ہے۔ اِس عہد کے تحت خدا وعدہ کرتا ہے کہ مَیں اپنے مفت فضل سے مسیح یسوع کے مخلصی کے کام کے وسیلے سے اِنسان کو برکت دوں گا۔ نئے عہد کے تحت کسی بات کا بھی اِنحصار اِنسان پر نہیں،‏ بلکہ ساری باتوں کا اِنحصار خدا پر ہے،‏ اِس لئے نیا عہد وہ کام پورا کر سکتا ہے جو پرانا عہد نہیں کر سکتا ہے۔

پولس شریعت اور خوش خبری کے درمیان کئی زبردست تقابل پیش کرتا ہے۔ یہاں آیت ۶ میں وہ پہلا تقابل اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ «لفظوں کے خادم نہیں بلکہ روح کے کیونکہ لفظ مار ڈالتے ہیں مگر روح زندہ کرتی ہے۔» اِس کی عام تشریح یہ کی جاتی ہے کہ اگر آپ پاک نوشتوں کے خارجی اور لغوی لفظوں پر جائیں اور اُن کی فرماں برداری کرنے کی کوشش کریں اور پیغام کی روح کی فرماں برداری کرنے کی خواہش نہ ہو،‏ تو آپ کو فائدے کے بجائے نقصان ہو گا۔ فریسی اِس دلیل کی عمدہ مثال ہیں۔ وہ دہ یکی دینے میں چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کا بھی بڑی احتیاط سے خیال رکھتے تھے،‏ مگر دوسروں سے محبت اور رحم کے ساتھ پیش نہیں آتے تھے (‏متی ۲۳:‏ ۲۳)‏۔ یہ کلام کے اِس حصے کا صحیح اطلاق تو ہے،‏ مگر اِس کی تفسیر نہیں۔ اِس آیت میں لفظ موسوی شریعت کے نمائندے ہیں جب کہ روح خدا کے فضل کی خوش خبری کا اِشارہ ہے۔ جب پولس کہتا ہے کہ لفظ مار ڈالتے ہیں تو وہ شریعت کی خدمت کی بات کرتا ہے۔ جتنے لوگ شریعت کے پاک احکام کی تعمیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں،‏ شریعت اُن سب کو ملزم ٹھہراتی ہے۔ شریعت کے وسیلے سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے (‏رومیوں ۳:‏ ۲۰)‏۔ جو کوئی اُن سب باتوں کے کرنے پر قائم نہیں رہتا جو شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ لعنتی ہے (‏۳:‏ ۱۰)‏۔ خدا کا کبھی اِرادہ نہ تھا کہ شریعت زندگی دینے کا وسیلہ ہو،‏ بلکہ اِس کا مقصد گناہ کی پہچان کرانا اور گناہ کے بارے میں ملزم ٹھہرانا تھا۔ یہاں نئے عہد کو روح کہا گیا ہے۔ یہ پرانے عہد کے عکسوں اور مثیلوں کی روحانی تکمیل کی نمائندگی کرتی ہے۔ جو کچھ شریعت مطالبہ کرتی تھی،‏ مگر پیدا نہیں کر سکتی تھی،‏ وہ اِنجیل کے وسیلے سے ہو گیا ہے۔

۳:‏ ۷ آیات ۷ اور ۸ میں پرانے عہد اور نئے عہد میں تقابل جاری ہے۔ یہاں پولس اِن دونوں کے جلال کا تقابل پیش کرتا ہے۔ شریعت کے دیتے وقت ایک جلال ساتھ تھا،‏ اور ایک جلال اِنجیل کے ساتھ منسلک ہے۔ ابواب ۳ اور ۴ میں لفظ جلال اور جلال والا سترہ دفعہ آیا ہے۔ پرانے عہد کو «موت کا وہ عہد جس کے حروف پتھروں پر کھودے گئے تھے» کہا گیا ہے۔ یہ اِشارہ صرف دس احکام کی طرف ہو سکتا ہے۔ اِن کی تعمیل نہ کرنے والوں،‏ سب کے لئے موت کا حکم تھا (‏خروج ۱۹:‏ ۱۳)‏۔ پولس یہ نہیں کہتا کہ شریعت کے دیئے جانے کے ساتھ کوئی جلال نہیں تھا۔ یقینا ایسی بات نہ تھی۔ جب خدا نے کوہِ سینا پر موسیٰ کو دس حکم دیئے تو خدا کی قدرت اور حضوری کا زبردست اِظہار ہوا (‏خروج باب ۱۹)‏۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ موسیٰ خدا کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا۔ اُس کا چہرہ چمکنے لگا تھا۔ یہ خدا کی شان و شوکت کا ایک عکس تھا۔ یہاں تک کہ «بنی اِسرائیل موسیٰ کے چہرے پر … غور سے نظر نہ کر سکے»۔ چمک اِتنی تیز تھی کہ اُن کی نظر وہاں ٹھہر نہیں سکتی تھی۔ مگر پھر پولس ایک اہم بات کہتا ہے «حالانکہ وہ (‏جلال)‏ گھٹتا جاتا تھا»۔ مطلب ہے کہ موسیٰ کے چہرے پر جو تیز نورانی چمک ظاہر ہوئی وہ مستقِل نہ تھی۔ وہ جلال عارضی اور گھٹتے گھٹتے ختم ہونے والا جلال تھا۔ اِس کا روحانی مطلب یہ ہے کہ پرانے عہد کا جلال عارضی تھا۔ شریعت کا ایک مخصوص کام تھا۔ شریعت اِس لئے دی گئی کہ گناہ کو ظاہر کرے۔ یہ خدا کے پاک تقاضوں کا اِظہار تھا اور اِس لحاظ سے جلال والا تھا۔ مگر یہ مسیح کے زمانے تک کے لئے دیا گیا تھا جو کہ «ہر ایک ایمان لانے والے کی راست بازی کے لئے … شریعت کا انجام ہے» (‏رومیوں ۱۰:‏ ۴)‏۔ وہ عہد عکس تھا،‏ مسیح حقیقت ہے۔ وہ آنے والی بہتر چیزوں کی تصویر تھا۔ اور یہ چیزیں دُنیا کے نجات دہندہ میں حقیقت بن جاتی ہیں۔

۳:‏ ۸ چنانچہ اگر شریعت (‏پرانا عہد)‏ ایسی جلال والی خصوصیت رکھتی تھی تو روح کا عہد تو ضرور ہی جلال والا ہو گا۔ «روح کا عہد» کا مطلب اِنجیل یعنی خوش خبری ہے۔ خدا کا روح اِنجیل کی منادی کے وسیلے سے کام کرتا ہے،‏ اور نتیجے میں خدا کا روح اُن کو دیا جاتا ہے جو نجات کی خوش خبری کو قبول کرتے ہیں۔ «ہو گا» مستقبل کے زمانے کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ لازمی نتیجے کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایک حقیقت یا حالت موجود ہے،‏ تو دوسری لازماً ہو گی۔

۳:‏ ۹ یہاں پرانے عہد کو مجرم ٹھہرانے والا عہد کہا گیا ہے۔ یہ اِس کا نتیجہ تھا۔ یہ عہد سارے اِنسانوں کو مجرم ٹھہراتا ہے،‏ اِس لئے کہ کوئی بھی پورے طور پر اِس کی تعمیل نہیں کر سکتا،‏ تو بھی ایک خاص جلال اِس کے ساتھ منسلک تھا۔ اپنے زمانے کے دوران اِس کا خاص مقصد اور خاص فائدہ تھا۔ تو راست بازی کا عہد تو ضرور ہی جلال والا ہو گا۔ ہوج کہتا ہے کہ راست بازی کا عہد وہ عہد ہے جو اُس راست بازی کو ظاہر کرتا ہے جس سے اِنسان راست باز ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور یوں وہ اُس جرم سے چھوٹ جاتے ہیں جو شریعت اُن پر لگاتی ہے۔ خوش خبری کا جلال ایسا نہیں جو جسمانی نظر کو اچھا لگتا ہے،‏ بلکہ یہ ایسی گہری اور دائمی فضیلت ہے جو روح کو اچھی لگتی ہے۔ کلوری کے جلال کے سامنے سینا کا جلال محض گہن ہے۔

۳:‏ ۱۰اگرچہ ایک مفہوم میں شریعت جلال والا عہد تھی مگر جب آپ اِس کا مقابلہ نئے عہد کے ساتھ کرتے ہیں تو وہ بالکل بے جلال نظر آتی ہے۔ یہ آیت ایک زبردست تقابل پیش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ جب دونوں عہدوں کو ساتھ ساتھ رکھا جاتا ہے تو ایک کی چمک یعنی نئے کی چمک دوسرے یعنی پرانے عہد کی چمک کو بالکل ماند کر دیتی ہے۔ ڈینی تبصرہ کرتا ہے کہ جب سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے،‏ تو آسمان میں اَور کوئی چمک نہیں ہوتی۔

۳:‏ ۱۱« کیونکہ جب مٹنے والی چیز جلال والی تھی (‏لغوی معانی = جلال کے ساتھ تھی)‏ تو باقی رہنے والی چیز تو ضرور ہی جلال والی ہو گی (‏لغوی معانی = جلال میں جلال والی)‏۔» اصل زبان میں دو الگ الگ حروفِ جار استعمال ہوئے ہیں۔ پرانے عہد کے لئے «کے ساتھ» اور نئے عہد کے لئے «میں»۔ یہ نہایت اہم فرق ہے۔ پہلی صورت میں جلال اُس کے ساتھ تھا۔ دوسری صورت میں جلال اُس میں یعنی اُس کی ذات کا ایک عنصر ہے۔ جب پرانا عہد دیا گیا تو جلال اُس کے ساتھ (‏یا اُس کی حضوری میں)‏ کھڑا تھا،‏ جب کہ خدا کے فضل کی خوش خبری بذاتہٖ جلال والی ہے۔

اِس کے علاوہ یہ آیت شریعت اور خوش خبری کا ایک اَور تقابل بھی پیش کرتی ہے کہ شریعت عارضی اور ناپائیدار ہے،‏ جب کہ اِنجیل کی خوش خبری مستقل اور باقی رہنے والی ہے۔ «مٹنے والی چیز۔» اِس سے مراد دس احکام ہی ہو سکتے ہیں __ موت کا وہ عہد جس کے حروف پتھروں پر کھودے گئے تھے (‏آیت ۷)‏ __ چنانچہ یہ آیت ہفتہ مشن (‏سیونتھ ڈے ایڈوینٹسٹ)‏ کے دعوئوں کی تردید کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ رسوماتی شریعت منسوخ ہو گئی ہے،‏ لیکن دس حکم منسوخ نہیں ہوئے۔ (‏دس احکام کے منسوخ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بطور راہِ نجات وہ بے اثر ہو گئے ہیں۔)‏

۳:‏ ۱۲ «ایسی اُمید۔» پولس جس اُمید کا ذکر کرتا ہے وہ ٹھوس یقین اور قائلیت ہے کہ خوش خبری کا جلال کبھی ماند یا مدھم نہیں ہونے کا۔ اِس مضبوط یقین کے باعث پولس بڑی دلیری سے بولتا ہے۔ اُس کے پاس کوئی ایسی بات نہ تھی جس کو چھپانا ضروری ہوتا۔ نقاب استعمال کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ آج دُنیا کے بہت سے مذاہب میں کئی فرضی بھید ہیں۔ نومریدوں کو یہ گہرے بھید سکھانا ضروری ہوتا ہے۔ وہ ایک درجے سے پاس ہو کر دوسرے درجے میں جاتے ہیں۔ مگر اِنجیل کی خوش خبری کے معاملے میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہر بات صاف اور کھلی ہوتی ہے۔ خوش خبری نجات،‏ تثلیث،‏ آسمان / بہشت اور دوزخ جیسے موضوعات پر صاف صاف اور پورے اعتماد کے ساتھ بات کرتی ہے۔

۳:‏ ۱۳«اور موسیٰ کی طرح نہیں ہیں جس نے اپنے چہرے پر نقاب ڈالا تاکہ بنی اِسرائیل اُس مٹنے والی چیز کے انجام کو نہ دیکھ سکیں۔» اِس آیت کا پس منظر خروج ۳۴:‏ ۲۹-‏۳۵ ہے۔ وہاں سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ خداوند کی حضوری میں رہنے کے بعد جب موسیٰ کوہِ سینا سے واپس آیا تو اُس کو خبر نہ تھی کہ اُس کا چہرہ چمک رہا ہے۔ اُس کے چہرے کے جلال کے باعث بنی اِسرائیل اُس کے نزدیک آنے سے ڈرتے تھے۔ مگر اُس نے اُن کو پاس بلایا۔ پھر اُس نے اُن کو وہ سارے احکام دیئے جو خداوند نے اُس کو بتائے تھے۔ خروج ۳۴:‏ ۳۳ میں لکھا ہے کہ اور جب موسیٰ اُن سے باتیں کر چکا تو اُس نے اپنے منہ پر نقاب ڈال لیا۔ ۲۔کرنتھیوں ۳:‏ ۱۳ میں رسول وضاحت کرتا ہے کہ موسیٰ نے ایسا کیوں کیا۔ «تاکہ بنی اِسرائیل اُس مٹنے والی چیز کا انجام نہ دیکھ سکیں۔» اُس کے چہرے کا جلال مٹنے والا جلال تھا۔ دوسرے لفظوں میں جو شریعت خدا نے اُس کو دی تھی اُس کا جلال عارضی اور ناپائیدار تھا۔ وہ اُس وقت بھی ماند پڑتا جا رہا تھا اور موسیٰ نہیں چاہتا تھا کہ وہ «اُس …کا … انجام» دیکھیں۔ یہ نہیں کہ موسیٰ جلال کو چھپانا چاہتا تھا،‏ بلکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اُسے مٹتے ہوئے دیکھیں۔ ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ بہت خوب صورت انداز میں بیان کرتا ہے کہ ضرور ہے کہ موسیٰ کے چہرے کا جلال کسی دوسری ہستی کے چہرے کے جلال کے لئے جگہ خالی کرے۔ خداوند یسوع مسیح کی آمد سے یہ بات واقع ہو چکی ہے۔ اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ نئے عہد کے خادم کو اپنا چہرہ ڈھانکنا نہیں پڑتا۔ خوش خبری کا جلال نہ کبھی مدھم پڑے گا نہ ختم ہو گا۔

۳:‏ ۱۴«لیکن اُن کے خیالات کثیف ہو گئے۔» بنی اِسرائیل موسیٰ کے اِس عمل کی حقیقت کو نہ سمجھ سکے بلکہ صدیوں سے یہودی قوم کا یہی حال رہا ہے۔ جن دنوں پولس نے یہ لکھا،‏ اُس وقت بھی بنی اِسرائیل نجات کے لئے شریعت ہی کو چمٹے ہوئے تھے اور خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے کو تیار نہ تھے۔

«کیونکہ آج تک پرانے عہدنامے کو پڑھتے وقت اُن کے دلوں پر وہی پردہ پڑا رہتا ہے۔» دوسرے لفظوں میں جس زمانے میں پولس نے لکھا،‏ تب بھی جب یہودی پرانا عہدنامہ پڑھتے تھے،‏ اُس بھید کو نہیں سمجھتے تھے جس کو موسیٰ نے اُن کے باپ دادا سے پردے میں چھپایا تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ شریعت کا جلال مٹنے والا جلال ہے اور کہ شریعت خداوند یسوع مسیح میں پوری ہو چکی ہے۔

«اور وہ (‏پردہ)‏ مسیح میں اُٹھ جاتا ہے۔» بعض علما کہتے ہیں کہ وہ سے مراد پردہ نہیں بلکہ پرانا عہد ہے جو مسیح میں منسوخ ہو گیا ہے۔ ایک اَور زیادہ قرینِ قیاس مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص مسیح کے پاس آ جاتا ہے تو پرانے عہدنامے کو سمجھنے کی مشکل دُور ہو جاتی ہے۔ ہوج (‏Hodge)‏ اِس سلسلے میں کہتا ہے:‏

«پرانے عہدنامے کے نوشتوں کو سمجھنا صرف اُسی وقت آسان ہوتا ہے جب جان لیا جائے کہ وہ مسیح کے بارے میں نبوت کرتے اور اُسی کے آنے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ مسیح کا علم … پرانے عہدنامے سے پردہ اُٹھا دیتا ہے۔»

۳:‏ ۱۵ یہاں تصویر قدرے بدل جاتی ہے۔ پرانے عہدنامے کی مثال میں پردہ موسیٰ کے چہرے پر تھا،‏ مگر اب پردہ یہودی قوم کے دلوں پر پڑا رہتا ہے۔ وہ ابھی تک اعمال کے اصول سے راست بازی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آتا کہ نجات دہندہ نے کلوری کی صلیب پر سارا کام پورا کر دیا ہے۔ وہ اپنی خوبیوں سے نجات پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور احساس نہیں کرتے کہ شریعت ہمیں قطعی طور پر مجرم ٹھہراتی ہے اور چاہئے کہ ہم رحم اور فضل کے لئے خداوند کے کھلے بازوئوں کی طرف بھاگیں۔

۳:‏ ۱۶«اُن کا دل۔» اِس سے مراد انفرادی طور پر کسی یہودی کا دل بھی ہو سکتا ہے اور اِس سے بحیثیت قوم اِسرائیل کی طرف بھی اِشارہ ہو سکتا ہے۔ ہر صورت میں جب وہ «خداوند کی طرف پھرے گا» اور یسوع کو مسیحِ موعود مانے گا «تو وہ پردہ اُٹھ جائے گا»۔ سارا ابہام دُور ہو جائے گا۔ پھر یہ صداقت طلوع ہو گی کہ شریعت کے سارے عکس اور مثالیں خدا کے پیارے بیٹے،‏ اسرائیل کے مسیحِ موعود میں پوری ہوتی ہیں۔ اگر اِسرائیلی قوم پیشِ نظر ہو تو یہ آیت اُس دن کی طرف اِشارہ کرتی ہے،‏ جب رومیوں ۱۱:‏ ۲۵،‏۲۶،‏۳۲ کی پیش گوئی کے مطابق اسرائیل کا ایمان دار بقیہ خداوند کی طرف پھرے گا۔

۳:‏ ۱۷ پولس اِس بات پر زور دیتا آ رہا ہے کہ مسیح پرانے عہدنامے کی کلید ہے۔ یہاں وہ اِسی سچائی پر دوبارہ زور دینے کے لئے کہتا ہے «اور وہ خداوند روح ہے۔» بعض مفسرین اِس سے مراد روح القدس لیتے ہیں۔ مگر سیاق و سباق سے یہی مفہوم اخذ ہوتا ہے کہ خداوند پرانے عہدنامے کی روح ہے۔ جس طرح کہ یسوع کی گواہی نبوت کی روح ہے (‏مکاشفہ ۱۹:‏ ۱۰)‏۔ «اور جہاں کہیں خداوند کا روح (‏اصل زبان کے اِملا کے مطابق مطلب خدا کا روح «روح القدس» بھی اور عام روح بھی ہو سکتا ہے۔)‏ ہے وہاں آزادی ہے۔» مطلب یہ ہے کہ جہاں کہیں یسوع مسیح کو خداوند یا یہوواہ مان لیا جاتا ہے وہاں آزادی ہے یعنی شریعت کے بندھن سے آزادی،‏ پاک نوشتوں کو پڑھتے ہوئے نہ سمجھ سکنے سے آزادی،‏ اور خداوند کے بے نقاب چہرے پر غور سے نظر کرنے کی آزادی۔

۳:‏ ۱۸ پرانے عہد میں صرف موسیٰ کو خداوند کا جلال دیکھنے کی آزادی تھی۔ نئے عہد میں ہم سب کو خداوند کا جلال دیکھنے کا اعزاز اور اِستحقاق حاصل ہے۔ لوگوں سے باتیں کرنے کے بعد موسیٰ کے چہرے کو نقاب سے ڈھانپنا پڑتا تھا۔ لیکن ہم کو بے نقاب چہرہ دست یاب ہے۔ ہم گناہ کا اِقرار کر کے اور اسے ترک کر کے اور خدا کے ساتھ اور اپنے ساتھ پورے طور پر دیانت دار رہ کر اپنے چہرے کو بے نقاب رکھ سکتے ہیں۔

«خداوند کا جلال اِس طرح منعکس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں…۔» اگلا قدم خداوند کے جلال کو آئینے میں دیکھنے کا ہے۔ «آئینہ» خدا کا کلام ہے۔ جب ہم بائبل مقدس میں دیکھتے ہیں تو خداوند یسوع اپنی پوری حشمت اور شوکت کے ساتھ جلوہ فرما نظر آتا ہے۔ ابھی ہم اُس کو رُوبرو نہیں دیکھتے بلکہ اُسے کلامِ پاک میں منعکس دیکھتے ہیں۔

غور کریں کہ یہ خداوند کا جلال ہے۔ یہاں پولس یسوع کے اخلاقی حُسن و خوبصورتی کی بات نہیں کر رہا جو اِس دُنیا میں بطور بشر اُس سے ظاہر ہوتی تھی بلکہ اُس کے موجودہ جلال کی بات کر رہا ہے جو اُس کو خدا کے دہنے ہاتھ سرفراز ہونے میں حاصل ہے۔ ڈینی (‏Denney)‏ متوجہ کرتا ہے کہ مسیح کا جلال یہ ہے:‏

«کہ وہ باپ کے ساتھ تخت نشین ہے۔ کہ وہ کلیسیا کا سر ہے،‏ اور تمام الٰہی فضل کا مالک اور دینے والا ہے،‏ کہ وہ دُنیا کا منصف ہو کر آنے والا ہے،‏ کہ وہ ہر دشمن قوت کا فاتح ہے،‏ کہ وہ اپنے لوگوں کا شافع ہے۔ مختصر یہ کہ وہ اُس تمام شوکت و حشمت کا مالک ہے جو اُس کے شاہانہ منصب کے شایان ہے۔»

چونکہ ہم جی اُٹھے،‏ آسمان پر گئے اور سرفراز کئے گئے خداوند یسوع مسیح کے جلال پر غور کرتے ہیں اِس لئے «ہم اُسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔» یہ مختصر طور پر مسیحی پاکیزگی کا بھید ہے __مسیح پر نظر کرنا،‏ اپنے پر نہیں کیونکہ اِس سے صرف شکست حاصل ہوتی ہے۔ دوسروں پر نہیں،‏ کیونکہ اِس سے صرف مایوسی حاصل ہوتی ہے بلکہ خداوند کے جلال پر نظر کرتے رہنا ہے۔ اِس طرح ہم درجہ بدرجہ اُس کی مانند بنتے جاتے ہیں۔

یہ حیرت ناک تبدیل کرنے والا عمل «درجہ بدرجہ» ہوتا ہے،‏ یعنی ہم جلال کے ایک درجے سے ترقی کر کے دوسرے درجے تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ لمحہ بھر میں تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے۔ مسیحی زندگی میں کوئی ایسا تجربہ نہیں ہے جو لمحہ بھر میں مسیح کے ساتھ مشابہت پیدا کر دے۔ یہ ایک عمل ہے،‏ اچانک نمودار ہونے والی کیفیت نہیں ہے۔ یہ شریعت کے مٹنے والے جلال کی مانند نہیں،‏ بلکہ ہر دم بڑھنے والا جلال ہے۔

اِس عجیب اور شان دار عمل کی قوت خدا کا پاک روح ہے __ «اُس خداوند کے وسیلے سے جو روح ہے …۔» جب ہم جلال کے خداوند کو دیکھتے،‏ اُس کا مطالعہ کرتے،‏ اُس پر غور و خوض کرتے اور اُس کی حمد کرتے ہوئے اُس پر نظر کرتے ہیں تو خداوند کا روح ہماری زندگی میں کام کرتا ہے اور ہمارے روز بروز مسیح کے مشابہ ہوتے جانے کا عجیب معجزہ رونما ہوتا ہے۔

ڈاربی (‏Darby)‏ متوجہ کرتا ہے کہ ستفنس کس طرح خداوند کو دیکھنے سے تبدیل ہوا تھا:‏

«ہم کو یہ عمل ستفنس میں نظر آتا ہے۔ جب اُسے سنگسار کیا جا رہا تھا وہ اُوپر نظر اُٹھاتا اور خدا اور یسوع کا جلال دیکھتا ہے۔ مسیح نے کہا تھا،‏ اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں۔ اور خدا کے جلال میں یسوع کا نظارہ ستفنس کے دل میں یہ دعا اُبھارتا ہے کہ اے خداوند! یہ گناہ اِن کے ذمے نہ لگا۔ پھر مسیح صلیب پر کہتا ہے اے باپ! مَیں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں۔ اور ستفنس کہتا ہے،‏ اے خداوند یسوع! میری روح کو قبول کر۔ وہ مسیح کی صورت پر تبدیل ہو گیا تھا۔

چنانچہ نئے عہد کے افضل ترین جلال پر غور کرو۔ پرانے عہد میں تو صرف ایک آدمی کے چہرے پر جلال آیا،‏ لیکن آج یہ خد اکے ہر ایک فرزند کا خون خریدا استحقاق ہے۔ مزید برآں صرف اپنے چہروں سے خدا کا جلال منعکس کرنے کے بجائے ہم سب جو نئے عہد میں ہیں «واقعی اُس خداوند کے وسیلے سے جو روح ہے ہم اُسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں» (‏لغوی معانی= کایا پلٹتی جاتی ہے)‏۔ موسیٰ کے چہرے سے تو جلال منعکس ہوتا ہے،‏ جب کہ ہمارے چہرے اندر سے جلال کی شعاعیں بکھیرتے ہیں۔

اِس طرح پولس نئے عہد کی عارفانہ اور گہری روحانی تشریح اور پرانے عہد کے ساتھ اِس کے تقابل کا اِختتام کرتا ہے۔

و۔ خوش خبری کی واضح منادی کرنے کا فرض (‏ ۴:‏ ۱-‏۶)‏

۴:‏ ۱ باب ۴ کی پہلی چھے آیات میں پولس اِس سنجیدہ ذمہ داری پر زور دیتا ہے کہ خدا کے ہر خادم کو اِنجیل کا پیغام نہایت وضاحت سے پیش کرنا چاہئے۔ کوئی پردہ نہیں رہنا چاہئے۔ کوئی بات پوشیدہ یا پُراسرار نہیں ہونی چاہئے۔سب کچھ واضح اور صاف ہو۔

پولس بیان کر رہا تھا کہ خدا نے کیسے عجیب طور سے اُسے نئے عہد کا موثر خادم بنا دیا۔ وہ اُسی نکتے سے پھر سلسلہ شروع کرتا ہے۔ مسیحی خدمت کی عظیم وقعت اور عظمت پولس جیسے آدمی کو ہمت نہیں ہارنے دیتی۔ بے شک مسیحی خدمت میں بے شمار باتیں مایوسی اور حوصلہ شکنی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ لیکن خداوند ضرورت کے ہر لمحے میں اپنا فضل اور رحم عطا کرتا ہے،‏ اِس لئے حالات کیسے ہی حوصلہ شکن کیوں نہ ہوں،‏ حوصلہ افزائی ملتی ہی رہتی ہے۔

پولس کہتا ہے کہ ہم ہمت نہیں ہارتے بلکہ بظاہر ناقابلِ عبور رکاوٹوں کے باوجود دلیری اور حوصلے کے ساتھ کام کئے جاتے ہیں۔

۴:‏ ۲ فلپس (‏Phillips)‏ اِس آیت کو نہایت خوبصورت انداز میں سلیس کر کے پیش کرتا ہے:‏

«ہم کوئی شعبدہ بازی،‏ کوئی بازی گری نہیں کرتے،‏ خدا کے کلام کے ساتھ ہاتھ کی صفائی نہیں دِکھاتے۔ ہم سیدھی سادی سچائی بیان کرتے ہیں۔ اور اِس طرح خدا کے رُوبرو ہر ایک آدمی کے سامنے اپنی نیک نامی ظاہر کرتے ہیں۔»

بے شک یہاں پولس پھر اُن جھوٹے اُستادوں کے بارے میں سوچ رہا ہے جو کرنتھس کی کلیسیا میں آ گئے تھے۔ اُن کا طریقۂ کار وہی تھا جو بدی کی قوتیں ہمیشہ استعمال کرتی ہیں یعنی بے شرمی کے ساتھ گناہ کی ترغیب دینا،‏ سچائی میں بڑی مہارت کے ساتھ ہیرا پھیری کرنا،‏ فلسفیانہ دلیلیں دینا اور خدا کے کلام میں ملاوٹ کرنا۔ اِس آخری بات کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ «ہم نہ خدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں۔» بلاشبہ یہاں پولس جھوٹے اُستادوں کے دل پسند شغل کی طرف اِشارہ کرتا ہے،‏ یعنی شریعت اور فضل کو باہم ملانا۔

پولس کا طریقۂ کار بالکل فرق تھا۔ اِس کا اِظہار وہ اِن الفاظ سے کرتا ہے کہ «بلکہ حق ظاہر کر کے خدا کے رُوبرو ہر ایک آدمی کے دل میں اپنی نیکی بٹھاتے ہیں۔» حق ظاہر کرنے کی بھی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ اوّل،‏ ہم سچائی کو سادہ،‏ آسان اور قابلِ فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ دوم،‏ ہم دوسروں کے سامنے اِس سچائی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تاکہ وہ ہمارے نمونے سے اِس کو دیکھ لیں۔ پولس رسول یہ دونوں طریقے استعمال کرتا تھا۔ وہ خوش خبری کی منادی کرتا تھا اور اپنی زندگی میں اِس کی فرماں برداری کرتا تھا۔ اِس طرح وہ ہر ایک آدمی کے دل میں اپنی نیکی بٹھانے کی کوشش کرتا تھا۔

۴:‏ ۳ پولس بیان کرتا ہے کہ مَیں اپنی منادی اور نمونہ دونوں سے خدا کی سچائی اِنسانوں پر واضح کرنے میں اِنتہائی احتیاط اور دیانت سے کام لیتا ہوں۔ لیکن پھر بھی اگر بعض کے لئے اِس «خوش خبری پر پردہ پڑا ہے» یعنی اُن کی سمجھ میں نہیں آتی تو اِس میں خدا کا تو کچھ قصور نہیں،‏ اور نہ ہمارا (‏پولس کا)‏ کچھ قصور ہے۔ تو بھی یہ الفاظ لکھتے ہوئے پولس کو اِحساس ہے کہ اِن ساری کوششوں کے باوجود کچھ لوگ ہیں جو خوش خبری کو قبول نہیں کرتے۔ یہ کون ہیں؟ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ اُن کی آنکھوں پر اِس طرح پردہ کیوں پڑا ہوا ہے؟ وہ کیوں اندھے ہو گئے ہیں؟ جواب اگلی آیت میں دیا گیا ہے۔

۴:‏ ۴ مجرم تو شیطان ہے۔ یہاں اُس کو «اِس جہان کا خدا» کہا گیا ہے۔ وہ ایمان نہ لانے والوں کی عقلوں پر پردہ ڈالنے میں کامیاب رہا ہے۔ وہ اُن کو دائمی تاریکی میں رکھے گا «تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اُس کے جلال کی خوش خبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔» شیطان کی پوری کوشش ہے کہ وہ نجات نہ پائیں۔

ہماری طبعی دُنیا میں سورج ہر وقت چمکتا رہتا ہے،‏ مگر ہم اِس کو ہر وقت دیکھ نہیں سکتے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی چیز سورج اور ہمارے درمیان آ جاتی ہے۔ یہی حال خوش خبری کا ہے۔ خوش خبری کی روشنی تو ہر وقت چمکتی رہتی ہے۔ خدا اِنسانوں کے دلوں میں ہر وقت چمکتے رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن شیطان خدا اور بے ایمانوں کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ رُکاوٹ غرور کا بادل ہو،‏ یا بغاوت،‏ اپنے آپ کو راست باز جاننا یا اَور سیکڑوں چیزوں میں سے کوئی ایک ہو۔ یہ سب کی سب خوش خبری کی روشنی کو روکتی ہیں۔ شیطان ہرگز نہیں چاہتا کہ اِنسان نجات پائے۔

خوش خبری کا تعلق «مسیح … کے جلال» کے ساتھ ہے۔ ناصرت کے بڑھئی کو ایمان دار کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا،‏ اور نہ ہی صرف اُس مسیح کو پیش کیا جاتا ہے جو لعنت اور ذلت کی صلیب پر کھینچا گیا ہے بلکہ اُس خداوند یسوع مسیح کو پیش کیا جاتا ہے جو مر گیا،‏ دفن ہوا اور مُردوں میں سے جی اُٹھا اور جو اِس وقت آسمان پر خدا کے دہنے ہے۔ وہی ایمان دار کے ایمان کا مرکز ہے۔ وہ خدا کا جلالی بیٹا ہے جو آسمان پر ہے۔

۴:‏ ۵ اِس آیت کا موضوع کسی مبشر کے لئے بہت اچھا موضوع بھی ہو سکتا ہے اور بہت بُرا بھی۔ بُرا موضوع اُس وقت جب منادی اپنے حق میں کی جائے اور بہترین موضوع اُس وقت جب منادی مسیح یسوع کے حق میں ہو۔

لگتا ہے کہ یہودی رسم و رواج کی طرف بلانے والوں کی عادت تھی کہ وہ اپنے حق میں منادی کرتے تھے۔ پولس اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے الگ کرتا ہے۔ وہ ایسے ناقص اور بُرے موضوع پر منادی کر کے لوگوں کا وقت ضائع کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ اُس کا موضوع ہمیشہ «مسیح یسوع … خداوند» ہے۔ وہ ہر وقت اِس کوشش میں رہتا تھا کہ مرد و زَن کو اُس مقام پر لے آئے جہاں وہ یسوع مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیکیں اور اُس کو اپنی زندگی کا خداوند مان کر اُس کی اطاعت کریں۔

رسول اپنے ساتھیوں یا اپنی ٹیم کا تعارُف اِن الفاظ سے کراتا ہے «یسوع کی خاطر تمہارے غلام»۔ اِس طرح وہ اپنے آپ کو اور اپنے ہم خدمتوں کو پس منظر میں چھپا دیتا ہے کہ ہم صرف غلام ہیں اور ہر اُس طریقے سے مدد کرنے کو تیار ہیں جس سے لوگ خداوند یسوع کے قدموں میں آ سکیں۔

۴:‏ ۶ یہاں پولس گنہگار کی تبدیلی کو کائنات کی اِبتدا میں روشنی کی آمد کے مشابہ ٹھہراتا ہے۔

اِبتدا میں خدا نے حکم دیا تھا کہ «تاریکی میں سے نور چمکے»۔ اور خدا نے کہا «روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی» (‏پیدائش ۱:‏ ۳)‏۔

یہاں پولس کہہ رہا ہے کہ وہ خدا جس نے کائنات پیدا کرتے وقت کہا تھا کہ «تاریکی میں سے نور چمکے» اب «وہی ہمارے دلوں میں چمکا»ہے۔ یہ بہت ہی خوبصورت بات ہے۔ پہلی تخلیق میں خدا نے فرمایا یا حکم دیا تھا کہ نور چمکے۔ نئی تخلیق میں وہ خود ہمارے دلوں میں چمکتا ہے۔ یہ کیسی شخصی بات ہے۔

پیدائش کی کتاب کے پہلے باب کے پہلے حصے کے واقعات اُن واقعات کی تصویر ہیں جو نئی تخلیق میں رُونما ہوتے ہیں۔ خدا نے اِنسان کو اپنی اصل حالت میں بے گناہ خلق کیا تھا۔ مگر گناہ آ گیا اور گناہ کے ساتھ گہری تاریکی آ گئی۔

اِنجیل کی خوش خبری کی منادی کی جاتی ہے تو خدا کا روح اِنسان کے دل پر جُنبش کرتا ہے جس طرح کہ پہلی تخلیق کے وقت خدا کی روح گہرائو پر جنبش کرتی تھی۔

پھر خدا اُس اِنسان کے دل میں چمکتا ہے اور اُس کو دکھاتا ہے کہ تُو خطا کار گنہگار ہے اور تجھے نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔ پیدائش کی کتاب میں مادی مخلوقات کا آغاز روشنی سے ہوا تھا۔ اُسی طرح روحانی تخلیق میں بھی ہوتا ہے۔ خدا ہمارے دلوں میں چمکا۔ یہ عمل روح القدس کے وسیلے سے ہوتا ہے۔ اِس طرح روحانی زندگی شروع ہوتی ہے۔

اِس کے ساتھ ہی یہ آیت وضاحت کرتی ہے کہ خدا کیوں «ہمارے دلوں میں چمکا» ہے۔ وضاحت یہ ہے «تاکہ خدا کے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر» ہو۔ اِس بات سے معلوم ہے کہ اُس کا مقصد ہم کو خدا کے جلال کی پہچان عطا کرنا ہے۔ خدا صرف یہ پہچان عطا کرنے کے لئے ہمارے دلوں میں نہیں چمکتا بلکہ اِس لئے کہ ہمارے وسیلے سے یہ پہچان دوسروں پر چمکے۔ ہم کو جو برکات حاصل ہیں وہ ہم ہی پر ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ ہم اِن کو آگے پہنچانے کا وسیلہ ہیں۔

پاک کلام میں اِس کی مثال خود پولس کی زندگی ہے۔ دمشق کی راہ پر خدا اُس پر چمکا۔ اُس کو معلوم ہو گیا کہ جس ہستی سے مَیں عداوت رکھتا تھا اور سمجھتا تھا کہ وہ یہودیہ کی ایک قبر میں دفن ہے،‏ دراصل وہی جلال کا خداوند ہے۔ اُسی دن سے پولس خدا کی پہچان کے نور کو پھیلانے میں لگ گیا۔ اور یہ نور وہ ہے جو « یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر» ہوتا ہے۔

ز۔ مٹی کا برتن اور آسمانی منزل (‏ ۴:‏ ۷-‏۱۸)‏

۴:‏ ۷ ہر مسیحی کا فرض ہے کہ خوش خبری کو صاف اور آسان طریقے سے پیش کرے۔ اِس موضوع پر بات کرنے کے بعد اب پولس رسول اِنسانی وسیلے (‏آلۂ کار)‏ کا بیان کرتا ہے،‏ کیونکہ خوش خبری کا گراں قدر خزانہ اِنسانوں ہی کے سپرد ہوا ہے۔

خزانہ سے مراد اِنجیل کا پُرجلال پیغام ہے۔ اور مٹی کے برتنوں سے مراد ہے کمزور اور بے ثبات اِنسانی بدن۔ اِن دونوں کے درمیان جو فرق ہے بہت زیادہ اور زبردست ہے۔ خوش خبری ایک بیش بہا ہیرے کی مانند ہے۔ اِس کو جس پہلو بھی گھمایا جائے اِس کی چمک دَمک خیرہ کئے دیتی ہے۔ ذرا غور کریں کہ ایسا بیش بہا ہیرا ایسے کمزور اور نازُک برتن میں رکھا گیا ہے!

خدا نے کیوں مقرر کیا کہ یہ خزانہ «مٹی کے برتنوں میں» رکھا جائے؟ جواب یہ ہے «تاکہ یہ حد سے زیادہ قدرت ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے معلوم ہو»۔ خدا نہیں چاہتا کہ اِنسانوں کی نظریں اِنسانی آلۂ کار پر جمی رہیں،‏ بلکہ خدا کی قدرت اور عظمت کو تسلیم کریں۔ اِس لئے وہ اِنجیل کے پیغام کو دانستہ کمزور بنی نوعِ اِنسان کے سپرد کرتا ہے۔ تمام حمدو ستائش اور جلال خالق کے لئے ہے،‏ نہ کہ مخلوق کے لئے۔

جووٹ (‏Jowett)‏ کہتا ہے:‏

«جب برتن خزانے کا جلال چھین لیتا،‏ یا زیورات کی نسبت اُن کی صندوقچی کو زیادہ توجہ ملتی ہے تو کہیں نہ کہیں غلطی ضرور ہوتی ہے۔ اگر تصویر اپنے فریم کی نسبت دوسرا درجہ پاتی ہے اور دعوت میں کھانے کا برتن خوراک کی جگہ لے لیتا ہے تو یقینا اہمیت غلط چیز کو ملتی ہے۔ اور اگر یہ حد سے زیادہ قدرت خدا کی نہیں،‏ بلکہ ہماری طرف سے معلوم ہوتی ہے،‏ تو مسیحی خدمت میں یقینا مہلک خرابی ہے۔ اِس قسم کی فضیلت لمحہ بھر میں اُڑ جاتی ہے اور اِس کا شاداب پودا تیزی سے مرجھا کر گم نامی میں چلا جاتا ہے۔»

یہ آیت لکھتے وقت پولس کے ذہن میں یقینا قضاۃ باب ۷ کا ایک واقعہ ہو گا۔ وہاں درج ہے کہ جدعون نے اپنی فوج کو نرسنگوں اور خالی گھڑوں،‏ اور گھڑوں کے اندر جلتی مشعلوں کے ساتھ مسلح کیا۔ مقررہ اِشارہ ملنے پر اُس کے آدمیوں کو گھڑے توڑنے اور نرسنگے پھونکنے تھے۔ گھڑے ٹُوٹے تو مشعلوں کی چمک اور روشنی نمایاں ہو گئی اور دشمن پر ایک ہیبت طاری ہو گئی۔ اُنہوں نے سوچا کہ ہم پر ایک بڑے لشکر نے حملہ کر دیا ہے،‏ جب کہ جدعون کے آدمیوں کی تعداد صرف تین سو تھی۔ اِس میں سبق یہ ہے کہ جس طرح اِس واقعے میں روشنی صرف اُس وقت چمکی جب گھڑے توڑے گئے اِسی طرح جب اِنسانی آلۂ کار توڑے جاتے اور خداوند کے تابع کر دیئے جاتے ہیں صرف اُسی وقت ہمارے وسیلے سے خوش خبری کا نور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے۔

۴:‏ ۸ اب رسول اِس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ چونکہ یہ خزانہ مٹی کے برتنوں میں رکھا ہے تو ایک طرف تو بظاہر شکست نظر آتی ہے،‏ جب کہ دوسری طرف دائمی فتح ہے۔ بظاہر تو کمزوری دکھائی دیتی ہے،‏ جب کہ دراصل بے مثال قوت ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ ہم ہر طرف سے مصیبت تو اُٹھاتے ہیں،‏ لیکن لاچار نہیں ہوتے تو مطلب یہ ہے کہ میرے مخالفین اور میری مشکلات مجھے ہر وقت دبائے رکھتی ہیں،‏ لیکن مجھے آزادانہ پیغام دینے سے روک نہیں سکتیں۔

حیران تو ہوتے ہیں مگر نااُمید نہیں ہوتے۔ اِنسانی نقطۂ نظر سے پولس اکثر نہیں جانتا تھا کہ اُس کی مشکلات اور مصائب کا کوئی حل بھی ہے۔ لیکن خداوند اُسے کبھی نااُمید نہیں ہونے دیتا تھا۔ وہ کبھی کسی ایسی مشکل میں نہیں پھنستا تھا جس سے بچ نکلنا ممکن نہ ہو۔

۴:‏ ۹«ستائے تو جاتے ہیں،‏ مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔» کئی دفعہ پولس کو محسوس ہوتا تھا کہ دشمن کا سخت ہاتھ اُس کی گردن پر ہے۔ مگر خداوند نے اُس کو کبھی دشمنوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا۔ «گرائے تو جاتے ہیں،‏ لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔» مطلب یہ ہے کہ میدانِ کار زار میں پولس کئی دفعہ شدید زخمی ہوا تو بھی خداوند اُسے ہر دفعہ اُٹھا کھڑا کرتا تھا کہ خوش خبری کا پُرجلال پیغام لے کر آگے بڑھے۔

ایک کتاب میں آیات ۸ اور ۹ کو سادہ زبان میں یوں بیان کیا گیا ہے:‏ «ہم گھیرے میں تو آ جاتے ہیں،‏ مگر گھائل نہیں ہوتے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں،‏ لیکن اُمید سے محروم نہیں ہوتے۔ اِنسان شکاریوں کی طرح ہمارے پیچھے تو لگے ہوتے ہیں،‏ مگر خدا ہمیں کبھی اکیلے نہیں چھوڑتا۔ گرائے تو جاتے ہیں مگر ہمارا کام تمام نہیں ہوتا۔»

ہم حیران ہوتے ہیں کہ خداوند اپنے خادم پر ایسی آزمائشیں اور اِمتحان کیوں آنے دیتا تھا۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر اُس کی راہ میں رکاوٹیں اور مشکلیں نہ ہوتیں تو وہ زیادہ موثر خدمت سرانجام دے سکتا تھا۔ مگر خدا کا کلام بالکل مختلف تعلیم دیتا ہے۔ اپنی حیرت افزا حکمت میں خدا مناسب جانتا ہے کہ میرے خادموں پر بیماری،‏ غم،‏ مصیبت،‏ ایذائیں،‏ مشکلیں اور دُکھ آئیں۔ سب کا مقصد مٹی کے برتن کو توڑنا ہے تاکہ خوش خبری کا نور زیادہ آب و تاب کے ساتھ چمکے۔

۴:‏ ۱۰ خدا کے خادم کی زندگی مستقل مرنا ہے۔ جس طرح خداوند یسوع کو زندگی بھر ظلم و تشدد اور ایذارسانی کا سامنا رہا،‏ اُس کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کو بھی ویسے ہی سلوک کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ فتح کا راستہ ہے۔ جب ہم اِس طرح ہر روز مرتے ہیں تو دوسروں کو برکت پر برکت ملتی ہے۔

صرف یہی ایک طریقہ ہے جس سے ہمارے بدن میں یسوع کی زندگی نمایاں ہو سکتی ہے۔ یسوع کی زندگی سے یہاں بنیادی طور پر اُس کی زمینی زندگی بحیثیت بشر مراد نہیں،‏ بلکہ اُس کی موجودہ زندگی جو آسمان میں سرفراز خدا کے بیٹے کی حیثیت سے ہے۔ آج وہ جسمانی یا شخصی لحاظ سے دُنیا میں موجود نہیں،‏ چنانچہ دُنیا اُس (‏مسیح)‏ کی زندگی کیونکر دیکھ سکتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ جب ہم مسیحی خداوند کی خدمت کے باعث دُکھ اور مصیبت اُٹھاتے ہیں تو اُس کی زندگی بھی ہمارے بدن میں ظاہر ہوتی ہے۔

۴:‏ ۱۱ اِس آیت میں موت سے زندگی کا تصور جاری ہے۔ یہ ہمارے وجود کا ایک گہرا اُصول ہے۔ جو گوشت ہم کھا کر زندہ رہتے ہیں وہ جانوروں کی موت سے حاصل ہوتا ہے۔ روحانی دُنیا میں بھی یہی اُصول کارفرما ہے۔ شہیدوں کا خون کلیسیا کا بیج ہے۔ کلیسیا پر جتنی مصیبت آتی اور جس قدر ظلم و ستم زیادہ ہوتا ہے اور جتنی ہی اِس کو شکار کرنے اور مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اُتنی ہی ترقی کرتی اور پھیلتی ہے۔ تو بھی ہمارے لئے اِس حقیقت / سچائی کو قبول کرنا بہت مشکل ہے۔ جب خدا کے کسی خادم پر ظلم و ستم وارد ہوتا ہے تو عام طور پر ہم اِس کو المیہ کہتے ہیں،‏ حالانکہ دراصل یہ خدا کے برتائو کا عام طریقہ ہے،‏ کوئی انوکھی صورت نہیں ہوتی۔ یسوع کی زندگی بھی ہمارے فانی جسم میں ظاہر کرنے کا الٰہی طریقہ یہی ہے کہ ہم جیتے جی یسوع کی خاطر ہمیشہ موت کے حوالے کئے جاتے ہیں۔

۴:‏ ۱۲ اب پولس اپنی پوری بات کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ اِس مقصد کے لئے وہ کرنتھیوں کو یاد دلاتا ہے کہ میرے مستقل دُکھ اُٹھانے سے تم کو زندگی ملی ہے۔ پولس کو کرنتھس میں خوش خبری پہنچانے کی خاطر بے بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ خداوند یسوع پر ایمان لائے تھے اور اب وہ ابدی زندگی کے مالک تھے۔ پولس کے جسمانی دُکھ اور نقصان دوسروں کے لئے روحانی منافع کا باعث تھے۔ رابرٹسن لکھتا ہے کہ اُس کا (‏ہر روز)‏ مرنا اُن کے لئے بھلائی پیدا کرتا تھا جو اُس کی خدمت سے مستفید ہوتے تھے۔

کئی دفعہ ہم بیمار ہوں تو خداوند کو پکارنے لگتے ہیں کہ اِس سے رہائی دے تاکہ ہم بہتر طور پر تیری خدمت کر سکیں۔ زندگی میں ایسے دُکھوں کے لئے شاید بعض اوقات ہم کو خداوند کا شکر کرنا چاہئے اور اپنی کمزوریوں میں اُس کو جلال دینا چاہئے تاکہ مسیح کی قدرت ہمارے اوپر ٹھہرے۔

۴:‏ ۱۳ پولس اِنسانی برتن کی کمزوری اور بے ثباتی کی بات کر رہا ہے کہ خوش خبری ایسے برتن کے سپرد کی گئی ہے۔ چنانچہ اِس سارے معاملے کے بارے میں اُس (‏پولس)‏ کا رویہ کیا تھا؟ کیا ہار مان گیا اور بے حوصلہ اور نااُمید ہو کر بیٹھ گیا؟ ہرگز نہیں۔ ایمان اُس کو توفیق اور طاقت دیتا ہے کہ خوش خبری کی منادی کئے جائے،‏ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس زندگی کے دُکھوں کے بعد بے بیان جلال ہے۔

زبور ۱۱۶:‏ ۱۰ میں زبور نویس کہتا ہے،‏ « مَیں ایمان لایا اور اِسی لئے بولا» (‏پرانے عہدنامے کے اُردو ترجمے میں یوں ہے:‏ « مَیں ایمان رکھتا ہوں۔ اِس لئے یہ کہوں گا۔» یہاں لفظی فرق ہے معنوی نہیں__ مترجم)‏۔ زبور نویس خداوند پر بھروسا رکھتا تھا،‏ اِس لئے جو کچھ کہتا تھا گہرے اور مضبوط ایمان کے نتیجے میں کہتا تھا۔ پولس کا بھی یہی حال ہے۔ اُس کو بھی ایمان کی وہی روح ملی تھی جو زبور نویس کو ملی تھی۔ پولس کہتا ہے «پس ہم بھی ایمان لائے اور اِسی لئے بولتے ہیں۔»

پولس کی زندگی کی مصیبتوں اور ایذائوں نے اُس کا منہ بند نہیں کر دیا۔ جہاں سچا ایمان ہوتا ہے،‏ وہاں اُس کا اِظہار بھی ضرور ہوتا ہے۔ سچا ایمان چپ نہیں رہ سکتا۔

۴:‏ ۱۴ شاید ہمیں یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہو کہ موت کے مستقل خطرے سے بھی پولس کو کیوں جنبش نہیں ہوئی؟ وہ لڑکھڑایا کیوں نہیں؟ جواب اِس آیت میں موجود ہے۔ مسیحی پیغام سنانے میں اُس کی دلیری اور بے خوفی کا راز یہ ہے:‏ وہ جانتا تھا کہ یہ دُنیاوی زندگی ہی سب کچھ نہیں۔ وہ جانتا تھا کہ ایمان دار کے لئے جی اُٹھنا یقینی ہے۔ وہ خدا «جس نے خداوند یسوع کو جِلایا» وہ مجھے (‏پولس کو)‏ بھی «یسوع کے ساتھ شامل جان کر جلائے گا اور تمہارے (‏کرنتھیوں کے)‏ ساتھ اپنے سامنے حاضر کرے گا۔»

۴:‏ ۱۵ پولس کے سامنے قیامت کی حقیقی اور یقینی اُمید ہے۔ اِس لئے وہ بڑی سے بڑی مصیبت کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اِن سارے دُکھوں کا نتیجہ دُہرا ہوتا ہے۔ اوّل،‏ یہ کرنتھیوں کے لئے کثرت سے برکت کا باعث بنتے ہیں۔ اور دوسرے «خدا کے جلال کے لئے شکرگزاری بھی» بڑھتی ہے۔ پولس جو کچھ کہتا اور کرتا تھا اُس کے پیچھے یہ دونوں مقصد کار فرما ہوتے تھے۔ اُس کو ہمیشہ خدا کے جلال اور دوسروں کے لئے برکت کی فکر ہوتی تھی۔

پولس جانتا ہے کہ مَیں جس قدر زیادہ دُکھ اُٹھاتا ہوں،‏ اُسی قدر دوسروں پر فضل زیادہ ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ نجات پاتے ہیں خدا کے جلال کی شکر گزاری اُتنی زیادہ ہوتی ہے یعنی شکرگزاری جتنی زیادہ ہوتی ہے خدا کو جلال بھی اُتنا زیادہ ملتا ہے۔

ایک مفسر نے اِس آیت کی یوں وضاحت کی:‏

«ہماری یہ مصیبتیں تمہارے فائدے کے لئے ہیں۔ اور تم میں سے جتنے زیادہ مسیح کے لئے جیتے جاتے ہیں،‏ اُس کی بڑی مہربانی اور رحمت کے لئے شکرگزاری کرنے والے بھی اُتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں اور اُسی قدر خداوند کو زیادہ جلال ملتا ہے۔»

۴:‏ ۱۶ پولس کہہ رہا تھا کہ مَیں ہر قسم کے دُکھوں اور خطروں میں سے گزرنے کو تیار ہوں کیونکہ میرے سامنے قیامت کی یقینی اُمید ہے۔ اِس لئے وہ ہمت نہیں ہارتا۔ اگرچہ ایک طرف بدنی کمزوری اور زوال کا عمل مسلسل جاری ہے،‏ مگر دوسری طرف روحانی بحالی اور نئے ہونے کا عمل بھی جاری ہے جو ہر قسم کے مخالف حالات میں بھی آگے بڑھتے رہنے کی توفیق اور ہمت دیتا ہے۔ ظاہری اِنسانیت زائل ہوتی جاتی ہے۔ اِس کی وضاحت اور تشریح کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ عمل تو ہمارے بدن میں نہایت نمایاں طور پر ظاہر ہے۔ لیکن پولس یہاں اِس حقیقت پر خوشی مناتا ہے کہ خدا ہر روز کی مسیحی خدمت کے لئے طاقت اور ہمت فراہم کرتا رہتا ہے۔

آئرن سائیڈ (‏Ironside)‏ یوں تبصرہ کرتا ہے:‏

«کہا جاتا ہے کہ ہمارا مادی بدن ہر سات سال بعد پورے طور پر بدل جاتا ہے تو بھی ہمیں شعور رہتا ہے کہ ہم وہی شخصیت ہیں۔ سالوں سال ہماری شخصیت میں کوئی ردّ و بدل نہیں ہوتا اور یہی حال اُس بڑی تبدیلی کا ہے جو ابھی آنے والی ہے۔ تتلی میں وہی زندگی ہے جو کیڑے میں تھی۔»

۴:‏ ۱۷ ہم نے پڑھا ہے کہ پولس پر کیسی کڑی مصیبتیں اور زبردست اذیتیں آئیں۔ اِن کا حال جان لینے کے بعد شاید ہمیں یہ سمجھنا مشکل ہو کہ وہ اِن کو دم بھر کی ہلکی سی مصیبت کیسے کہہ سکتا ہے۔ ایک لحاظ سے تو وہ ہرگز ہلکی نہ تھیں،‏ بلکہ نہایت تلخ اور ظالمانہ تھیں۔

لیکن وضاحت اُس تقابل میں ہے جو پولس پیش کرتا ہے۔ اگر اِن مصیبتوں اور دُکھوں پر نظر ڈالی جائے تو بے شک نہایت بھاری اور تلخ ہیں۔ مگر جب اِن کا مقابلہ اُس از حد بھاری اور اَبدی جلال کے ساتھ کیا جاتا ہے جو ملنے والا ہے تو یہ بالکل ہلکے معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ہلکی سی مصیبت دَم بھر کی ہے،‏ جب کہ جلال ابدی ہے۔ اِس دُنیا میں مصیبتوں سے ہم جو سبق سیکھتے ہیں وہ آنے والی دُنیا میں ہمارے لئے بیش قیمت پھل پیدا کرتے ہیں۔

۴:‏ ۱۸ اِس آیت میں نظر صرف اِنسانی بصارت کا بیان نہیں کرتی بلکہ کسی چیز کو اہم سمجھنے کا مفہوم رکھتی ہے۔ جہاں تک دیکھی ہوئی چیزوں کا تعلق ہے،‏ یہ ہماری زندگی کا مقصد یا نصب العین نہیں ہیں۔ بنیادی طور پر یہاں اِن سے مراد مشکلات،‏ آزمائشیں اور دُکھ ہیں جو پولس نے سہے۔ یہ پولس کی خدمت کا ایک اِتفاقی حصہ تھے۔ اُس کی خدمت کا عظیم تر مقصد وہ ہے جس کو وہ اَن دیکھی چیزوں کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اِس میں مسیح کا جلال،‏ اپنے ہم جنس اِنسانوں کی برکت اور وہ اَجر جو دیانت دار خادم کے لئے مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے منتظر ہے،‏ سب شامل ہیں۔

جووٹ (‏Jowett)‏کہتا ہے:‏

«پہلی چیزوں کو دیکھنے والی بصارت ہے،‏ دوسری چیزوں کو دیکھنے والی بصیرت ہے۔ دیکھنے کا پہلا انداز جسمانی ہے،‏ دوسرا انداز روحانی ہے۔ پہلی صورت میں اِمتیاز کا بنیادی عضو عقل ہے،‏ دوسری صورت میں اِمتیاز کا بنیادی عضو ایمان ہے۔ پاک نوشتوں میں بصارت اور بصیرت کا یہ تقابل ہمارے سامنے مسلسل پیش کیا جا رہا ہے اور ہر موقعے پر ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ایک کی کم مائیگی اور تنگ دستی کا مقابلہ دوسری وسعت،‏ کشادگی اور بھرپوری سے کرتے رہیں۔»

ح۔ مسیح کے تخت ِعدالت کی روشنی میں جینا (‏ ۵:‏ ۱-‏۱۰)‏

زیرِ نظر آیات گذشتہ آیات کے ساتھ قریبی ربط رکھتی ہیں۔ پولس اپنی دُنیاوی زندگی کے دُکھوں اور مصیبتوں کا ذکر اور آئندہ کے جلال کا جو اُس کے لئے رکھا ہوا ہے،‏ بیان کر رہا تھا۔ یہ بیان اُسے موت کے مضمون تک لے جاتا ہے۔ خدا کے پاک کلام کے اِس حصے میں موت کے بھید سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مسیحی کا موت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

۵:‏ ۱اِس آیت میں پولس رسول ہمارے موجودہ فانی بدن کو زمینی گھر «خیمہ کا گھر» کا نام دیتا ہے۔ خیمہ کوئی مستقل رہائش گاہ نہیں ہوتا بلکہ مسافروں اور زائرین کے لئے وہ گھر ہوتا ہے جس کو بآسانی ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔

موت کو اِس گھر کا گرایا جانا کہا گیا ہے۔ موت کے وقت یہ خیمہ گرایا جائے گا۔ بدن تو قبر میں چلا جائے گا جب کہ ایمان دار کی جان اور روح خداوند کے پاس چلی جائیں گی۔

پولس رسول اِس باب کا اِفتتاح اِس یقین دہانی سے کرتا ہے کہ اگر میرا خیمے کا گھر (‏گذشتہ باب میں مذکور دُکھوں کے نتیجے میں)‏ گرایا جائے گا تو مجھے معلوم ہے کہ مجھ کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ اَبدی ہے۔ آپ خیمے اور عمارت کے درمیان فرق پر غور کریں۔ عارضی خیمہ گرایا جائے گا،‏ لیکن آسمانوں سے بھی پرے ایک نیا اور مستقل گھر ایمان دار کا منتظر ہے۔ اور یہ عمارت خدا کی طرف سے ہے یعنی خدا یہ عمارت ہم کو دیتا ہے۔

مزید برآں یہ ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں۔ پولس کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ہمارے موجودہ جسم ہاتھ کے بنے ہوئے نہیں تو وہ کیوں زور دیتا ہے کہ ہمارے مستقبل کے جلالی بدن ہاتھ کے بنے ہوئے نہیں ہوں گے؟جواب یہ ہے کہ «ہاتھ کا بنا ہوا … نہیں» کا مطلب ہے اِس کائنات/تخلیق/ دُنیا کا نہیں۔ اِس کی وضاحت عبرانیوں ۹:‏۱۱ میں پائی جاتی ہے،‏ جہاں لکھا ہے کہ «لیکن جب مسیح آئندہ کی اچھی چیزوں کا سردار کاہن ہو کر آیا تو اُس بزرگ تر اور کامل تر خیمہ کی راہ سے جو ہاتھوں کا بنا ہوا،‏ یعنی اِس دُنیا (‏خلقت۔ ریفرنس بائبل کا حاشیہ)‏ کا نہیں …»۔ یہاں ۲۔کرنتھیوں ۵:‏ ۱ میں پولس یہ کہہ رہا ہے کہ ہمارے موجودہ جسم اِس دُنیا کی زندگی کے لئے موزوں ہیں،‏ مگر ہمارے آئندہ کے جلالی بدن اِس کائنات/ دُنیا یا خلقت کے نہیں ہوں گے۔ اُن کو آسمانی زندگی کے لئے خاص طور سے تیار کیا جائے گا۔

ایمان دار کے مستقبل کے بدن کو ابدی بھی کہا گیا ہے۔ یہ ایسا بدن ہے جو بیماری،‏ سڑاند اور موت سے مبرا ہو گا۔ وہ ابد تک اپنے آسمانی مکان میں سکونت پذیر ہو گا۔

اِس آیت سے یہ تاثر بھی اُبھر سکتا ہے کہ مرنے کے فوراً بعد ایمان دار کو خدا سے یہ عمارت مل جاتی ہے۔ مگر بات یہ نہیں ہے۔ ایمان دار کو جلالی بدن اُس وقت تک نہیں ملے گا جب تک مسیح اپنی کلیسیا کو لینے کے لئے نہیں آتا (‏۱۔تھسلنیکیوں ۴:‏ ۱۳-‏۱۸)‏۔ ایمان دار کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ ہے۔ موت کے وقت اُس کی جان اور روح مسیح کے پاس چلی جاتی ہیں اور وہاں ایمان دار پورے شعور (‏ہوش و حواس)‏ کے ساتھ آسمان کے جلال سے محظوظ ہوتا ہے۔ اُس کا بدن قبر میں رکھ دیا جاتا ہے۔ خداوند کی دوسری آمد پر اُس کی خاک قبر میں سے اُٹھائی جائے گی۔ خدا اِس سے ایک نیا جلالی بدن تیار کرے گا اور پھر اس کا جان اور روح کے ساتھ دوبارہ ملاپ ہو گا۔ ایمان دار کی موت اور خداوند کے اپنے مقدسین کے لئے آنے کے درمیان (‏کہہ سکتے ہیں)‏ ایمان دار بے بدنی کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُس کو شعور نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے شعور کے ساتھ آسمان کی برکت اور خوشی میں شریک ہوتا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ اَبدی ہے۔ اِس کی تین بڑی بڑی تشریحات کی جاتی ہیں۔

  1. خود آسمان۔
  2. موت اور قیامت کے درمیانی عرصے کے لئے ایک ثانوی بدن۔
  3. جلالی بدن

پہلا نظریہ،‏ اِس گھر سے مراد خود آسمان نہیں ہو سکتا کیونکہ اِس کو آسمان میں اور ابدی اور پھر آسمانی (‏۵:‏۲)‏بتایا گیا ہے۔

دوسرا نظریہ،‏ جہاں تک ثانوی یا درمیانی مدت کے لئے بدن کا تعلق ہے تو پاک کلام میں اِس کا کہیں بھی کوئی ذکر نہیں آیا۔ علاوہ ازیں یہ عمارت جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں،‏ اِس کو آسمان پر اور ابدی کہا گیا ہے۔ اور کوئی ثانوی بدن ایسا ہو نہیں سکتا۔

تیسرا نظریہ،‏ کہ یہ گھر جی اُٹھا اور جلالی بدن ہے __ یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے۔

۵:‏ ۲ چونکہ ہمارا فانی بدن ہمیں محدود کر دیتا اور ہماری روحانی زندگی میں رُکاوٹ کا باعث ہوتا ہے اِس لئے اکثر ہم اِس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے ملبس ہو جائیں۔

اِس آیت میں پولس خیمے کی مثال چھوڑ کر لباس کی مثال دیتا ہے۔ ایک مجوزہ وضاحت یہ ہے کہ پولس خیمہ دوز تھا اور جانتا تھا کہ جس قسم کا خام مال خیمہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے اُسی قسم کا لباس بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کچھ بھی ہو مطلب صاف ہے کہ اُسے جلالی بدن حاصل کرنے کی زبردست آرزُو تھی۔

۵:‏ ۳« ننگے نہ پائے جائیں۔» اِس کا مطلب کیا ہے؟ کیا مراد یہ ہے کہ ایک شخص کو نجات نہیں ملی اور وہ خدا کے حضور راست بازی سے ملبس نہیں؟ یا کیا مراد یہ ہے کہ کسی کو نجات تو مل گئی ہے مگر مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے اُس کا اَجر کوئی نہیں؟ یا مراد یہ ہے کہ ایک نجات یافتہ شخص کو موت اور قیامت کے درمیانی عرصے میں بدن میسر نہیں اور اِس مفہوم میں ننگا ہے کہ بے بدن روح ہے؟

راقم الحروف اِس سے بے بدن یا بے لباس ہونے کا مفہوم ہی سمجھتا ہے۔ پولس کہہ رہا ہے کہ میری آرزو یہ نہیں کہ موت آئے اور مجھے اِس کے ساتھ وابستہ بے بدنی کی کیفیت حاصل ہو،‏ بلکہ یہ کہ خداوند یسوع مسیح آ جائے جب سب موئے ہوئوں کو جلالی بدن ملیں گے۔

۵:‏ ۴ہم نے آیت ۳ کی جو تشریح پیش کی ہے آیت ۴ اُس کی تصدیق کرتی ہے۔ پولس رسول کہتا ہے کہ «کیونکہ ہم اِس خیمے میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اِس لئے نہیں کہ یہ لباس اُتارنا چاہتے ہیں بلکہ اِس پر اَور پہننا چاہتے ہیں تاکہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔» اِس خیمے سے مراد موجودہ دُنیاوی بدن ہے۔ دوسرے لفظوں میں پولس سمجھتا ہے کہ ایمان دار کے لئے مثالی آرزُو یہ نہیں کہ اُس کیفیت پر نظر رکھے جو موت اور فضائی استقبال کے درمیانی وقفے کے دوران ہو گی،‏ بلکہ وہ کیفیت ہے جو فضائی اِستقبال کے وقت ہو جائے گی،‏ جب ایمان دار کو وہ بدن ملے گا جو موت کے ماتحت نہیں ہو گا۔

۵:‏ ۵ « جس نے ہم کو اِسی بات کے لئے تیار کیا ہے وہ خدا ہے۔» «اِسی بات» سے مراد بدن کی مخلصی ہے۔ یہ ہمارے لئے خدا کے ارادوں اور مقاصد کا نقطۂ عروج ہو گا۔ موجودہ وقت میں ہماری مخلصی ہماری روح کے حوالے سے ہے،‏ مگر اُس وقت مخلصی میں ہمارا بدن بھی شامل ہو گا۔ ذرا غور کریں،‏ خدا نے ہمیں اِسی مقصد سے بنایا تھا __ جلالی کیفیت __ آسمان میں ایک ایسی عمارت جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں۔

ہم کو کس طرح یقین ہو سکتا ہے کہ ہمیں ایک جلالی بدن ملے گا؟ جواب یہ ہے کہ خدا نے «ہمیں روح بیعانہ میں دیا» ہے۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی ہے کہ خدا کا روح ہر ایمان دار کے اندر سکونت کرتا ہے۔ یہ روح بیعانہ یا ضمانت ہے کہ خدا کے سارے وعدے پورے ہوں گے۔ وہ آنے والی باتوں کی علامت ہے۔ خدا کا روح خود ایک بیعانہ ہے کہ خدا نے ہم کو جو کچھ جزوی طور پر دیا ہے،‏ ایک دن وہ کلی طور پر ہمارا ہو گا۔

۵:‏ ۶ اِن قیمتی حقائق کی بنا پر پولس کی خاطر جمع رہتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں،‏ خداوند کے ہاں سے جلا وطن ہیں۔ بے شک پولس اِس کو مثالی کیفیت نہیں سمجھتا۔ لیکن وہ اِس حالت میں رہنے پر اِس لئے آمادہ ہے کہ اِس طرح اِس دُنیا میں مسیح کی خدمت کر سکے اور خدا کے لوگوں کے لئے مددگار ثابت ہو۔

۵:‏ ۷ یہ حقیقت کہ «ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر» اِس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ ہم خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔ ہم نے اپنی جسمانی آنکھوں سے خداوند پر کبھی نظر نہیں کی۔ ہم نے اُس کو صرف ایمان کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں تو ایسی زندگی میں ہیں جو حقیقی طور پر دیکھنے کی زندگی سے دُور ہے۔

۵:‏ ۸اِس آیت میں آیت ۶ کے خیال کے ساتھ دوبارہ سلسلہ جوڑا گیا ہے۔ پولس کے سامنے ایک مبارک اُمید ہے جس کی بنا پر اُس کی خاطر جمع رہتی ہے اور وہ کہہ سکتا ہے کہ ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔ برنارڈ کیا خوب کہتا ہے کہ پولس آسمانی گھر سے دُور رہنے کے باعث غمگین ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ یہ آیت پولس کی پہلی بات کی تردید کرتی ہے۔ گذشتہ آیات میں وہ جلالی بدن حاصل کرنے کی شدید آرزو کرتا ہے۔ لیکن یہاں وہ کہتا ہے کہ مَیں بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا چاہتا ہوں۔ یعنی اُس بے بدنی کی کیفیت میں رہنا چاہتا ہوں جو موت اور فضائی استقبال کے درمیانی عرصے میں ہوتی ہے۔

لیکن دراصل یہاں کوئی ایسا تضاد نہیں ہے۔ ایک مسیحی کے لئے تین اِمکانات ہوتے ہیں۔ معاملہ اِن میں سے کسی ایک کو زیادہ ترجیح دینے کا ہے۔ ایک تو اِس دُنیا میں فانی بدن میں زندگی ہے۔ دوسری وہ کیفیت یا حالت ہے جو موت اور مسیح کی آمد کے درمیانی عرصے میں ہو گی،‏ یعنی بے بدنی کی حالت،‏ لیکن اِس حالت میں جان اور روح پورے شعور کے ساتھ مسیح کی حضوری سے بہرہ مند ہوتی ہیں۔ تیسرے،‏ ہماری نجات کی تکمیل ہے،‏ جب ہم مسیح کی دوسری آمد پر جلالی بدن حاصل کریں گے۔ یہاں پولس صرف یہ تعلیم دے رہا ہے کہ پہلی حالت اچھی ہے،‏ دوسری حالت بہتر ہے اور تیسری حالت بہترین ہے۔

۵:‏ ۹ ایمان دار کا نصب العین یہ ہونا چاہئے کہ مَیں خداوند کو خوش کروں۔ اگرچہ اُس کی نجات اعمال پر منحصر نہیں تو بھی آنے والے اُس دن میں اُس کا اَجر براہِ راست خداوند کے ساتھ وفاداری کے تناسب سے ہو گا۔ ایمان دار کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ نجات کا تعلق ایمان کے ساتھ اور اَجر کا تعلق اعمال کے ساتھ ہے۔ اُس کو نجات اعمال سے نہیں بلکہ ایمان کے وسیلے سے فضل سے ملتی ہے۔ لیکن جب نجات مل گئی تو چاہئے کہ وہ نیک اعمال کرنے کی آرزو رکھے۔ اِس طرح کرنے سے اُسے اَجر ملے گا۔

غور کریں کہ پولس چاہتا ہے کہ ہم وطن میں ہوں خواہ جلاوطن اُس کو خوش کریں۔ مطلب یہ ہوا کہ اِس دُنیا میں اُس کی خدمت و مقصد و مدعا خداوند کو خوش کرنا تھا۔ خواہ وہ اِس دُنیا میں ہو،‏ خواہ مسیح کے تخت ِ عدالت کے سامنے کھڑا ہو۔

۵:‏ ۱۰ مسیح کو خوش کرنے کا ایک سبب تو یہ ہے کہ ہم کو مسیح کے تخت ِعدالت کے سامنے حاضر ہونا ضرور ہے۔ دراصل مسئلہ وہاں حاضر ہونے کا نہیں بلکہ سب کا حال ظاہر ہونے کا ہے۔ «مسیح کی عدالت» میں ہماری زندگی کو کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ کسی ڈاکٹر کے سامنے حاضر ہونا ایک بات ہے،‏ لیکن وہ ہمارا ایکسرے کرے،‏ یہ بالکل دوسری بات ہے۔ مسیح کا تخت ِعدالت بالکل کھول کر دِکھا دے گا کہ مسیح کی خدمت میں ہماری زندگی کیسی رہی ہے۔ وہاں نہ صرف ہمارے کام / خدمت کی مقدار بلکہ اِس کا معیار اور مزید برآں اِس کے پیچھے نیت بھی کھول کر سامنے رکھ دی جائے گی۔

جو گناہ ہم ایمان لانے کے بعد کرتے ہیں اگرچہ اِن کا اثر ہماری خدمت پر ہو گا،‏ لیکن اُس نازک وقت میں ایمان کے گناہوں کو عدالتی فیصلے کے لئے نہیں کھولا جائے گا۔ اِن کی عدالت تو کوئی دو ہزار سال پہلے ہو چکی ہے۔ جب خداوند یسوع ہمارے گناہوں کو اپنے بدن پر لئے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا۔ اُس نے ہمارے گناہوں کا قرض پورا پورا ادا کر دیا۔ اور خدا ان گناہوں کو پھر کبھی عدالت میں نہیں لائے گا (‏یوحنا ۵:‏۲۴)‏۔ مسیح کے تخت ِعدالت کا تعلق ہماری اُس خدمت سے ہے جو ہم خداوند کے لئے کرتے ہیں۔ وہاں مسئلہ یہ نہیں ہو گا کہ ہم نجات پا چکے ہیں یا نہیں،‏ یہ تو پہلے ہی ایک مُسلَّمہ حقیقت ہے،‏ بلکہ اُس وقت جزا یا جزا سے محرومی کا مسئلہ ہو گا۔

ط۔ خدمت میں پولس کی نیک نامی (‏ ۵:‏ ۱۱-‏۶:‏ ۲)‏

۵:‏ ۱۱عام طور سے اِس آیت کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ چونکہ پولس گناہ کی ہولناک عدالت اور جہنم کی دہشت انگیزی سے واقف تھا،‏ اِس لئے وہ ہر جگہ جا کر لوگوں کو اِنجیل (‏خوش خبری)‏ کو قبول کرنے پر اُبھارتا ہے۔ اگرچہ یہ بات سچ ہے،‏ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کلام کے اِس حصے کا بنیادی اور اوّلین مطلب یہ نہیں ہے۔

پولس یہاں غیر نجات یافتہ لوگوں کے لئے خداوند کی دہشت اور ہولناکی کا بیان نہیں کر رہا،‏ بلکہ اُس عقیدت،‏ احترام اور خوف کا بیان کرتا ہے جس سے وہ خداوند کی خدمت کرتا اور اُسے خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جہاں تک خدا کا تعلق ہے پولس جانتا ہے کہ میری زندگی ایک کھلی کتاب ہے۔ لیکن وہ کرنتھیوں کو بھی خداوند کی خدمت میں اپنی دیانت اور وفاداری کا قائل کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ

«چونکہ ہم خداوند کے خوف کو جانتے ہیں اِس لئے ہم لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ بحیثیت خدا کے خادم ہم مخلص اور دیانت دار ہیں۔ لیکن ہم لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہوں،‏ یا نہ ہوں خدا ہم کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور ہمیں اُمید ہے کہ تم کرنتھیوں کے دلوں پر بھی ہمارا یہ حال ظاہر ہوا ہو گا۔»

یہ تشریح سیاق و سباق کے ساتھ بالکل مطابقت رکھتی ہے۔

۵:‏ ۱۲پولس کو فوراً اِحساس ہوتا ہے کہ جو بات مَیں نے ابھی ابھی کہی ہے اِس سے غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی تعریف آپ کر رہا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اُس کے بارے میں ایسا سوچے۔ اِس لئے وہ کہتا ہے کہ «ہم پھر اپنی نیک نامی تم پر نہیں جتاتے۔» اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُس نے پہلے اُن کے سامنے اپنی نیک نامی جتائی تھی۔ نہیں،‏ بلکہ اُس پر بار بار یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ اپنی نیک نامی جتاتا ہے۔ یہاں وہ اُن کے ذہن سے ایسا خیال نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ اپنی خدمت کا اِتنا طویل دفاع کیوں کرتا ہے؟ پولس کا جواب یہ ہے کہ ہم اپنے سبب سے تم کو فخر کرنے کا موقع دیتے ہیں تاکہ تم اُن کو جواب دے سکو جو ظاہر پر فخر کرتے ہیں اور باطن پر نہیں۔ اُس کو اپنی نیک نامی جتانے کی کوئی پروا نہ تھی بلکہ اُسے احساس تھا کہ کرنتھس کے مقدسین کے سامنے مجھ پر سخت نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ایمان دار جان لیں کہ پولس پر اِن حملوں کا جواب کیسے دینا ہے۔ اِس لئے وہ اُنہیں یہ معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ جب اُن کے سامنے اُس کی مذمت کی جائے تو وہ اُس کا دفاع کر سکیں۔

وہ اپنے نکتہ چینوں کا بیان یوں کرتا ہے کہ وہ ظاہر پر فخر کرتے ہیں اور باطن پر نہیں (‏مقابلہ کریں ۱۔سموئیل ۱۶:‏۷)‏۔ دوسرے لفظوں میں وہ ظاہری دِکھاوے میں دلچسپی رکھتے تھے،‏ دیانت داری اور ایمان داری جیسی باطنی خوبیوں پر نظر نہیں کرتے تھے۔ وہ جسمانی شکل و صورت،‏ خوش بیانی اور ظاہری جوش و خروش ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ ظاہر پرستوں کے نزدیک سطحی اور ظاہری شکل و صورت ہی سب کچھ تھی،‏ دل کا اخلاص اور سچائی کچھ حقیقت نہ رکھتی تھی۔

۵:‏ ۱۳ اِس آیت سے ایسا لگتا ہے کہ رسول پر پاگل پن،‏ کٹرپن اور دیگر ذہنی اِنتشارات کے الزام بھی لگائے گئے تھے۔ بقول ڈینی وہ ایسی حالت میں رہنے کا اِنکار نہیں کرتا جس کو روحانی تنائو یا روحانی ہیجان کا نام دیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف اِتنا کہتا ہے کہ «اگر ہم بے خود ہیں تو خدا کے واسطے ہیں۔» جو بات اُس کے نکتہ چینوں کو پاگل پن معلوم ہوتی ہے دراصل اُس کی خداوند کے لئے دلی جاں نثاری یا وارفتگی ہے۔ وہ خدا کی باتوں کے لئے ایک جوش میں جلتا رہتا ہے۔ دوسری طرف «اگر (‏ہم)‏ ہوش میں ہیں تو تمہارے واسطے ہیں»۔ تمہارے یعنی کرنتھس کے ایمان داروں کے واسطے۔ مختصراً یہ کہ یہ آیت کہتی ہے کہ پولس کے پورے چال چلن اور برتائو کی وضاحت دو طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ یا تو یہ خداوند کے لئے جوش تھا،‏ یا ہم ایمانوں کی بھلائی اور بہبود کا جذبہ۔ دونوں صورتوں میں اُس کی نیت صاف اور بے لوث تھی۔ کیا اُس کے معترضین اور نکتہ چین خود اپنے لئے یہ کہہ سکتے تھے؟

۵:‏ ۱۴جو شخص بھی رسول کی زندگی کا مطالعہ کرتا ہے حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ کس طرح ایسی اَن تھک اور بے لوث خدمت کرتا تھا! یہاں وہ اِس سوال کا جواب دیتا ہے۔ «مسیح کی محبت۔»

«مسیح کی محبت۔» اِس کا مطلب کیا ہے؟ اُس کی محبت ہمارے لئے یا ہماری محبت اُس کے لئے؟ کوئی شک نہیں کہ مراد اُس کی محبت ہمارے لئے ہے۔ ہم اُس سے صرف اِس لئے محبت رکھتے ہیں کہ پہلے اُس نے ہم سے محبت رکھی۔ یہ اُس کی محبت ہے جو ہم کو مجبور کر دیتی ہے،‏ ہم کو آگے چلاتی ہے۔ جب پولس اُس حیرت ناک محبت پر غور کرتا ہے جو مسیح نے اُس کے لئے دکھائی تو وہ اپنے اِس پیارے خداوند کی خدمت میں آگے بڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔

یسوع «سب کے واسطے موا»۔ موت میں وہ ہم سب کا نمائندہ ہوا۔ جب وہ موأ تو اُس میں ہم سب مر گئے۔ جیسے آدم کا گناہ اُس کی پوری نسل (‏آئندہ پشتوں)‏ کا گناہ بن گیا،‏ اُسی طرح مسیح کی موت اُن سب کی موت بن گئی جو اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ (‏رومیوں ۵:‏ ۱۲-‏۲۱؛ ۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏ ۲۱،‏۲۲)‏

۵:‏ ۱۵ پولس کی دلیل ناقابلِ تردید ہے۔ مسیح سب کے واسطے موأ۔ وہ کیوں سب کے واسطے موأ؟ اِس لئے کہ جو واسطے اُس پر ایمان کے وسیلے سے «جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لئے نہ جئیں بلکہ اُس (‏مسیح)‏ کے لئے» جئیں۔ نجات دہندہ ہمارے واسطے اِس لئے نہیں موأ تھا کہ ہم اپنی نکمی،‏ خود غرضانہ زندگی اُسی طرح جاری رکھیں جیسے ہم چاہتے ہیں،‏ بلکہ وہ ہمارے اِس لئے موأ کہ ہم رضامندی اور خوشی کے ساتھ اپنی زندگی اُس کے سپرد کر دیں،‏ اُس کے لئے وقف کر دیں۔ ڈینی (‏Denney)‏ اِس پر یوں رقم طراز ہے:‏

«ہماری موت مرنے کے وسیلے سے مسیح نے محبت میں ہمارے لئے اِتنا بڑا کام کیا ہے کہ اب ہمیں ہمیشہ کے لئے اُس کا اور صرف اُسی کا ہو جانا چاہئے۔ اُس کی موت کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کو اپنا بنا لے۔»

۵:‏ ۱۶ شاید پولس پیچھے آیت ۱۲ کا حوالہ دے رہا ہے جہاں وہ اپنے نکتہ چینوں کو ظاہر پر فخر کرنے والے اور باطن پر فخر نہ کرنے والے قرار دیتا ہے۔ اب وہ اِسی موضوع کو دوبارہ چھیڑتا اور تعلیم دیتا ہے کہ جب ہم مسیح کے پاس آ جاتے ہیں تو نئے مخلوق بن جاتے ہیں۔ اب سے ہم اِنسانوں کو جسمانی اور دُنیاوی طریقے سے،‏ یعنی ظاہری شکل و وصورت یا اطوار و کردار سے،‏ یا اِنسانی اَسناد سے یا قومیت سے نہیں جانیں گے۔ اب سے ہم اُن کو قیمتی روحیں جانیں گے جن کے لئے مسیح نے اپنی جان دی۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ہم نے اگرچہ مسیح کو بھی جسم کی حیثیت سے جانا تھا یعنی اُس کو محض ایک اَور اِنسان سمجھا تھا،‏ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یسوع کو گویا ناصرت میں اپنا ایک اَور ہمسایہ جاننا اَور بات ہے یا اُس کو کوئی دُنیاوی مسیحا سمجھنا اَور بات ہے،‏ لیکن جلالی مسیح کے طور پر جاننا جو اِس وقت خدا کے دہنے ہاتھ ہے،‏ بالکل ہی فرق بات ہے۔ آج ہم خداوند یسوع کو زیادہ قریبی طور پر جانتے ہیں،‏ کیونکہ روح کے کلام کے وسیلے سے وہ ہم پر ظاہر کِیا گیا ہے،‏ بہ نسبت اُن لوگوں کے جنہوں نے اُس کی دُنیاوی زندگی کے دوران محض اِنسانی اور ظاہری شکل و صورت کے مطابق اُس کے متعلق اپنی رائے قائم کی۔

ڈیوڈ سمتھ (‏Smith)‏ یوں تبصرہ کرتا ہے:‏

«اگرچہ ایک زمانہ تھا کہ پولس رسول ایک دُنیاوی مسیحِ موعود کے یہودی تصور میں شریک تھا،‏ لیکن اب اُس کو ایک نہایت اَرفع و بلند تصور مل گیا تھا۔ اب مسیح اُس کے لئے جی اُٹھا اور جلالی نجات دہندہ ہے،‏ جس کو حقیقتاً جسم کی حیثیت سے نہیں بلکہ روح کی حیثیت سے جانا ہے۔ تاریخی روایت کے مطابق نہیں بلکہ اُس کے ساتھ گہری اور قریبی رفاقت کے وسیلے سے جانا ہے۔»

۵:‏۱۷ اگر کوئی مسیح میں ہے یعنی نجات یافتہ ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ ایمان لانے سے پہلے تو اِنسان دوسروں کے متعلق اپنی رائے اِنسانی معیار کے مطابق قائم کرتا ہے،‏ مگر ایمان لانے کے بعد سب کچھ بدل جاتا ہے۔ پرانی چیزیں جانچنے کے پرانے طریقے جاتے رہے۔ «پرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں۔»

جن لوگوں نے تازہ تازہ نئی پیدائش کا تجربہ حاصل کیا ہے اُن کو یہ آیت بہت پسند آتی ہے اور وہ اِسے شخصی گواہی میں اکثر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اِس طرح پیش کرنے سے بعض اوقات نہایت غلط تاثر سامنے آتا ہے۔ سننے والے سوچنے لگتے ہیں کہ جب کوئی شخص نجات پاتا ہے تو اُس کی پرانی عادتیں،‏ بُرے خیالات اور شہوانی نظریں ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہیں اور اُس شخص کی زندگی میں ہر بات نئی ہو جاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ حقیقت نہیں۔ یہ آیت ایمان کے طرزِ عمل کا نہیں بلکہ اُس کی حیثیت اور مرتبے کا بیان کرتی ہے۔ غور کریں کہ کیا کہا گیا ہے۔ خاص بات ہے «مسیح میں » ۔ یہ لفظ اِس پورے حصے کو سمجھنے کی کلید ہیں۔ «مسیح میں … پرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں۔» بدقسمتی سے مجھ میں ابھی تک یہ ساری باتیں سچ نہیں ہیں! لیکن جیسے جیسے مَیں مسیحی زندگی میں آگے بڑھتا ہوں،‏ ترقی کرتا ہوں،‏ تو میری آرزو ہوتی ہے کہ میرا طرزِ عمل بھی روز افزوں میری حیثیت کے مطابق ہوتا جائے۔ ایک دن جب خداوند یسوع دوبارہ آئے گا تو دونوں کامل طور پر مطابقت رکھیں گے۔

۵:‏ ۱۸ « اور سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں۔» وہی سب چیزوں کا منبع اور سرچشمہ اور صانع ہے۔ اِنسان کو فخر کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی خدا ہے «جس نے مسیح کے وسیلے سے اپنے ساتھ ہمارا میل ملاپ کر لیا اور میل ملاپ کی خدمت ہمارے سپرد کی»۔ بائبل کی ایک لغت میں میل ملاپ کے اِس عقیدے کا شاندار بیان یوں درج ہے:‏

«صلیب پر خداوند یسوع کی موت کے وسیلے سے خدا نے اپنے بڑے فضل سے اُس فاصلے کو مٹا دیا جو گناہ نے خدا اور اِنسان کے درمیان پیدا کر دیا تھا تاکہ مسیح کے وسیلے سے ساری چیزیں اپنی ذات کے موافق کر کے اپنے سامنے پیش کرے۔ مسیح کی موت کے وسیلے سے ایمان داروں کا خدا کے ساتھ میل ملاپ ہو چکا ہے تاکہ وہ پاک،‏ بے عیب اور بے الزام (‏نیا مخلوق)‏ ہو کر اُس کے حضور پیش کئے جائیں۔ جب مسیح دُنیا میں تھا تو خدا مسیح میں ہو کر دُنیا کا اپنے ساتھ میل ملاپ کر رہا تھا۔ وہ اُن (‏اِنسانوں)‏ کی تقصیریں اُن کے خلاف محسوب نہیں کرتا تھا۔ اب جب کہ صلیب میں خدا کی محبت پورے طور پر ظاہر ہو چکی ہے تو گواہی ساری دُنیا میں پہنچ کر اِنسانوں سے التماس کرتی ہے کہ خدا کے ساتھ میل ملاپ کر لو۔ مقصد یہ ہے کہ اِنسان خدا کی خوشنودی کا باعث بنے۔»

۵:‏ ۱۹یہاں میل ملاپ کی خدمت کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ «پیغام» ہے کہ «خدا نے مسیح میں ہو کر اپنے ساتھ دُنیا کا میل ملاپ کر لیا»۔ اِس بیان کی دو تشریحات ہو سکتی ہیں اور دونوں ہی پاک کلام کے مطابق درست ہیں۔ اوّل،‏ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا مسیح میں تھا۔ مفہوم یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح الٰہی ذات ہے۔ یہ بالکل سچ ہے۔ لیکن اِس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ «خدا …مسیح میں ہو کر اپنے ساتھ دُنیا کا ملاپ کر» رہا تھا،‏ یعنی «وہ دُنیا کا میل ملاپ کر» رہا تھا۔ لیکن یہ کام خداوند یسوع «مسیح» کی ذات میں ہو کے کر رہا تھا۔

ہم اِن میں سے کوئی سی تشریح بھی قبول کریں،‏ سچائی واضح ہے کہ خدا گناہ کے ساتھ نمٹ کر موثر طور سے اُس سبب کو دُور کر رہا تھا جس نے اُس کے اور اِنسان کے درمیان اجنبیت اور بیگانگی پیدا کر دی تھی۔ خدا کو میل ملاپ کی ضرورت نہیں،‏ البتہ اِنسان کو لازماً ضرورت ہے کہ خدا کے ساتھ اُس کا میل ملاپ ہو۔

«اور اُن کی تقصیروں کو اُن کے ذمہ نہ لگایا۔» سرسری نظر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت عالم گیر نجات کی تعلیم دیتی ہے کہ مسیح کے کام کے وسیلے سے سارے اِنسانوں کو نجات مل گئی ہے۔ لیکن ایسی تعلیم خدا کے کلام سے کوئی موافقت نہیں رکھتی۔ خدا نے ایک راستہ مہیا کر دیا ہے جس کے وسیلے سے ممکن ہوتا ہے کہ اِنسانوں کی تقصیریں اُن کے خلاف شمار نہ ہوں۔ اگرچہ یہ راستہ سب کو دست یاب ہے،‏ لیکن فائدہ صرف اُن کو ہوتا ہے جو مسیح میں ہیں۔ غیر نجات یافتہ یا بے ایمان اِنسانوں کی تقصیریں بلاشبہ اُن کے خلاف شمار ہوتی ہیں،‏ یعنی اُن کے ذمہ لگی رہتی ہیں۔ لیکن جونہی یہ لوگ خداوند یسوع کو اپنا نجات دہندہ مان لیتے ہیں،‏ اُسی لمحے وہ مسیح میں راست باز گنے جاتے ہیں،‏ اور اُن کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔

خدا میل ملاپ کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ اُس نے «میل ملاپ کا پیغام» اپنے خادموں کو سونپ دیا ہے۔ یعنی اُس نے اپنے خادموں کو شاندار اعزاز و اِستحقاق بخشا ہے کہ ساری دُنیا میں جا کر ہر جگہ اِس جلالی پیغام کی منادی کریں۔ اُس نے یہ مقدس ذمہ داری فرشتوں کو نہیں،‏ بلکہ ناتواں اور کمزور اِنسان کے سپرد کی ہے۔

۵:‏ ۲۰ گذشتہ آیت میں پولس نے بیان کیا ہے کہ میل ملاپ کا پیغام مجھے دیا گیا ہے۔ مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ بنی نوعِ اِنسان کے سامنے اِس پیغام کی منادی کروں۔ ہماری رائے میں ۵:‏۲۰ سے ۶:‏ ۲ تک میل ملاپ کے پیغام کا خلاصہ دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پولس ہمیں وہ پیغام سنا رہا ہے جس کی منادی وہ ملک ملک اور براعظم بر اعظم غیر نجات یافتہ لوگوں کے سامنے کرتا پھرتا تھا۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہاں پولس کرنتھیوں کو نہیں کہہ رہا کہ خدا کے ساتھ میل ملاپ کر لو۔ وہ تو پہلے خداوند یسوع میں ایمان دار ہیں،‏ بلکہ وہ کرنتھیوں کو سمجھا رہا ہے کہ یہ وہ پیغام ہے جو مَیں ہر جگہ غیر نجات یافتہ لوگوں کو سناتا ہوں۔

ایک سفیر اپنے ملک کا خادم ہوتا ہے۔ وہ کسی دوسرے ملک میں اپنے حاکم کی نمائندگی کرتا ہے۔ پولس مسیحی خدمت کو ہمیشہ ایک سربلند اور باوقار بلاہٹ قرار دیتا ہے۔ یہاں وہ اپنے آپ کو ایک ایلچی (‏سفیر)‏ ٹھہراتا ہے جسے مسیح نے اِس دُنیا میں بھیجا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ وہ خدا کا ترجمان تھا اور اُس کے وسیلے سے خدا التماس کرتا تھا (‏ہے)‏۔ یہ نہایت عجیب سی زبان لگتی ہے جس کا اطلاق ایلچی پر کیا جا رہا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ایلچی کا کام التماس کرنا نہیں ہوتا۔ لیکن یہ خوش خبری کی شان ہے کہ خدا آنکھوں میں آنسو بھر کر مرد و زن سے التماس کرتا ہے کہ میرے ساتھ میل ملاپ کر لو۔ اگر دشمنی ہے تو اِنسان کی طرف سے ہے،‏ خدا نے اپنے اور اِنسان کے ساتھ رفاقت اور یگانگت کو کامل کرنے کے لئے ہر رکاوٹ دُور کر دی ہے۔ خداوند جو کچھ کر سکتا تھا اُس نے کر دیا ہے۔ اب ضرور ہے کہ اِنسان بغاوت کے ہتھیار پھینک دے،‏ اپنی ہٹ دھرمی اور بغاوت کو ترک کر دے،‏ اور خدا سے میل ملاپ کر لے۔

۵:‏ ۲۱ یہ آیت میل ملاپ کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ خدا نے یہ میل ملاپ کیسے ممکن بنایا ہے؟ وہ اُن پُرتقصیر گنہگاروں کو کس طرح قبول کر سکتا ہے جو توبہ اور ایمان کے ساتھ اُس کے پاس آتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ خداوند یسوع نے ہمارے گناہوں کا مسئلہ حل کر دیا ہے،‏ اِس لئے اب ہم خدا کے ساتھ میل ملاپ کر سکتے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں خدا نے مسیح کو ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا۔ مسیح «جو گناہ سے واقف نہ تھا» __ اُسی کو __ «تاکہ ہم اُس میں ہو کر خدا کی راست بازی ہو جائیں»۔

ہمیں اِس نظریے سے خبردار رہنا چاہئے کہ کلوری کی صلیب پر خداوند یسوع مسیح واقعی گناہ آلودہ بن گیا تھا۔ یہ نظریہ قطعی غلط ہے۔ ہمارے گناہ اُس پر لادے گئے تھے۔ وہ اُس میں نہیں تھے۔ ہوا یہ تھا کہ خدا نے اُس کو ہماری جگہ ہمارے بدلے میں گناہ کی قربانی بنایا۔ اُس پر ایمان لا کر ہم خدا کی طرف سے راست باز گنے جاتے ہیں۔ ہمارے عوضی نے شریعت کے سارے تقاضوں کو پورا کر دیا ہے۔

کیسی مبارک سچائی ہے کہ «جو (‏مسیح)‏ گناہ سے واقف نہ تھا اُسی کو اُس (‏خدا)‏ نے ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا» تاکہ ہم جو راست بازی سے واقف نہ تھے «اُس (‏مسیح)‏ میں ہو کر خدا کی راست بازی ہو جائیں۔» کوئی اِنسانی زبان خدا کے ایسے بے کراں فضل کے لئے کافی طور پر شکر ادا نہیں کر سکتی۔

۶:‏ ۱ بعض لوگ اِس آیت سے سمجھتے ہیں کہ پولس کرنتھیوں سے مخاطب ہے اور اُن کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ خدا کا « فضل» جو اُن پر ہوا تھا اُس سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔

لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پولس ابھی تک اُسی پیغام کا بیان کر رہا ہے جو وہ غیر نجات یافتہ لوگوں کو سناتا تھا۔ وہ بے ایمان کو بتا چکا ہے کہ خدا نے تم کو کیسا حیرت افزا فضل پیش کیا ہے۔ اب وہ اُن کی منت کرتا ہے کہ اِس فضل کو جو تم پر ہوا ہے «بے فائدہ نہ رہنے دو»۔ خوش خبری کے بیج کو بنجر زمین میں نہ گرنے دو،‏ بلکہ اِس حیرت انگیز پیغام کو مانو اور جس نجات دہندہ کی یہ خبر دیتا ہے اُس کو قبول کر لو۔

۶:‏ ۲یہاں پولس یسعیاہ ۴۹:‏۸ سے اِقتباس کرتا ہے۔ اگر ہم یسعیاہ کے مذکورہ باب کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ چونکہ اُمت نے مسیحِ موعود کو ردّ کر دیا اِس لئے خدا اپنی اُمت کے ساتھ حجت کر رہا ہے۔ آیت ۷ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اُمت نے خداوند یسوع کو ردّ کر دیا جس کا نتیجہ اُس کی موت ہوا۔ لیکن آیت ۸ میں یہوواہ کے الفاظ ہیں جن سے وہ خداوند یسوع کو یقین دلاتا ہے کہ تیری دعا سن لی گئی ہے اور خدا تیری مدد کرے گا اور تجھے سنبھالے رہے گا۔

« مَیں نے …نجات کے دن تیری مدد کی۔» یہ اِشارہ ہے خداوند یسوع مسیح کی قیامت کا۔ قبولیت کے وقت اور نجات کے دن کا اِجرا ہی مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے ہونا تھا۔

خوش خبری کی منادی کرنے میں پولس اِس تعجب انگیز سچائی کو مضبوطی سے تھامتا ہے اور اپنے غیر نجات یافتہ سامعین کے سامنے اعلان کرتا ہے کہ «دیکھو اب قبولیت کا وقت ہے،‏ دیکھو یہ نجات کا دن ہے۔» دوسرے لفظوں میں وہ دَور جس کو یسعیاہ نے نبوت سے نجات کا دن کہا تھا،‏ وہ شروع ہو گیا ہے۔ اِس لئے پولس لوگوں کو راغب کرتا ہے کہ جب تک نجات کا دن ہے نجات دہندہ کو قبول کر لو۔

ی۔ خدمت میں پولس کا کردار (‏ ۶:‏ ۳-‏۱۰)‏

۶:‏ ۳ اب پولس اپنے (‏میل ملاپ کے)‏ پیغام کی بات چھوڑ کر مسیحی خدمت میں خود اپنے کردار کی بات کرتا ہے۔ اُس کو احساس ہے کہ ایسے لوگ ہمیشہ موجود ہوتے ہیں جو نجات کے پیغام کو قبول نہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اور اگر اُن کو منادی کرنے والے کی زندگی سے یہ بہانہ مل جائے کہ وہ تعلیم کچھ دیتا ہے اور اُس کا اپنا کردار کچھ اَور ہے،‏ تو اُن کا کام بن جاتا ہے۔ اِس لئے وہ کرنتھیوں کو یاد دلاتا ہے کہ ہم کسی بات میں ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع نہیں دیتے تاکہ ہماری خدمت پر حرف نہ آئے۔ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ یہاں خدمت سے مراد کوئی معزز کلیسیائی عہدہ نہیں بلکہ مسیح کی خدمت ہے۔ یہاں اِنسان کی طرف سے مخصوصیت اور تقرر کا خیال موجود نہیں۔ یہ خدمت اُن سب کی ہے جو مسیح کے ہیں۔

۶:‏ ۴ آیات ۴-‏۱۰ میں پولس اِس خدمت میں اپنے طریقۂ کار کا بیان کرتا ہے۔ اور یہ طریقہ ایسا تھا جس پر کوئی حرف گیری نہیں کر سکتا تھا،‏ کوئی اُنگلی نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ پولس کو پورا پورا احساس ہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کا خادم ہوں۔ اِس لئے وہ ہر وقت کوشش میں رہتا ہے کہ میرا کردار و عمل اِس بلاہٹ کے لائق ہو۔

آیات ۴ اور ۵ میں پولس اُن جسمانی دُکھوں کا بیان کرتا ہے جو اُس کو برداشت کرنے پڑے۔ اور جو گواہی دیتے ہیں کہ وہ خداوند کا سچا،‏ مخلص اور وفادار خادم ہے۔ اگلی دو آیات میں اُن مسیحی خوبیوں کا بیان کرتا ہے جو اُس کی زندگی سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اور آیات ۸ تا ۱۰ میں اُن تجربات کا ذکر کرتا ہے جو مسیحی خدمت کا خاصہ ہیں۔

«بڑے صبر سے۔» بلاشبہ یہ بیان ہے پولس کے تحمل اور برداشت کا۔ مختلف افراد،‏ مقامی کلیسیائیں اور ساری مصیبتیں اُس کو ثابت قدمی کی راہ سے ہٹانے کی سرتوڑ کوشش کرتی ہیں،‏ مگر پولس بڑے صبر سے سب کچھ برداشت کرتا ہے۔

«مصیبت سے۔» غالباً اِشارہ ہے اُس ظلم و ستم کی طرف جو وہ مسیح کے نام کی خاطر برداشت کرتا تھا۔

«احتیاج سے۔» اِس میں تصور ہے کہ یہ خادم خوراک اور لباس اور رہائش کی کمی یا نایابی کی مشکل بھی خوشی سے سہتا ہے۔

«تنگی سے۔» اِس میں وہ سارے ناموافق بلکہ مخالف حالات شامل ہیں جن سے پولس اکثر دوچار ہوتا رہتا تھا۔

۶:‏ ۵ «کوڑے کھانے سے۔» پولس کو متعدد بار کوڑے کھانے پڑے (‏دیکھئے اعمال ۱۶:‏ ۲۳)‏۔ اُس کے قید ہونے کا بیان آگے ۲۔کرنتھیوں ۱۱:‏ ۲۳ میں درج ہے۔ اور ہنگاموں سے بلاشبہ اُن ہنگاموں اور فسادوں کی طرف اِشارہ ہے جو اِنجیل کی منادی کے موقعوں پر اکثر اُٹھ کھڑے ہوتے تھے (‏اِس خوش خبری کے باعث کہ غیر قوم افراد بھی نجات پا سکتے ہیں یہودی سیخ پا ہو جاتے اور اکثر ہنگامہ آرائی کرتے تھے)‏۔

«محنتوں سے۔» پولس کی محنتوں میں اُس کی خیمہ دوزی بھی شامل ہے۔ اِس کے علاوہ کئی قسم کی ہاتھوں کی محنت اور تقریباً مسلسل سفر کرنا بھی محنتوں کا حصہ ہیں۔

«بیداری سے۔» یہ بیان ہے ہر وقت ہوشیار اور چوکس رہنے کا۔ ایک طرف تو ابلیس کی مکاری اور عیاری تھی،‏ دوسری طرف اِنسانی دشمن اُس کو نقصان پہنچانے کی گھات میں لگے رہتے تھے۔ فاقوں سے،‏ اگرچہ یہاں مفہوم رضاکارانہ طور پر کھانا نہ کھانا بھی ہو سکتا ہے،‏ مگر زیادہ قرینِ قیاس وہ بھوک ہے جو غربت کی وجہ سے برداشت کرنی پڑتی تھی۔

۶:‏ ۶ پولس پاکیزگی کے ساتھ خدمت کرتا تھا،‏ یعنی خالص نیت اور پوری دیانت داری کے ساتھ۔ اُس پر کبھی بداخلاقی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

پھر یہ خدمت علم سے ہوتی ہے۔ یہاں اِس حقیقت کی طرف اِشارہ ہے کہ یہ جہالت کی خدمت نہیں بلکہ اُس علم سے ہے جو خدا نے عطا کیا ہے۔ اِس کا ثبوت پولس کے خطوط میں الٰہی سچائی کی وُسعت ہے۔

کرنتھیوں کو پولس کے تحمل کا ثبوت درکار نہیں ہونا چاہئے! جس صبر سے وہ اُن کے گناہوں اور ناکامیوں کو برداشت کرتا رہا ہے وہی اُس کے تحمل کا کافی ثبوت ہے۔ پولس کی مہربانی اِس سے ثابت ہوتی ہے کہ اُس نے پوری بے غرضی سے اپنے آپ کو دوسروں کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ وہ خدا کے لوگوں کے ساتھ محبت کا رویہ رکھتا تھا اور اُن سے ہمدردی کے ساتھ برتائو کرتا تھا۔

«روح القدس سے۔» بلاشبہ مطلب یہ ہے کہ پولس جو کچھ بھی کرتا تھا روح القدس کی قدرت سے اور اُس کے مطیع رہ کر کرتا تھا۔

«بے ریا محبت سے۔» پولس کی زندگی میں دوسروں کے لئے محبت بہت نمایاں تھی۔ اِس محبت میں بناوٹ یا دِکھاوے کا شائبہ تک نہیں تھا۔ یہ محبت بالکل خالص تھی اور اُس کے اعمال و اطوار سب اِسی کے تابع تھے۔

۶:‏ ۷ «کلامِ حق سے۔» پولس کی خدمت کی خصوصیت یہ تھی کہ کلامِ حق کی فرماں برداری کرتا تھا،‏ یعنی ساری خدمت دیانت داری سے کرتا تھا۔ اور یہ خدمت اُس پیغام سے مطابقت رکھتی تھی جس کی منادی کرتا تھا۔

«خدا کی قدرت سے۔» اِس کا مطلب تو واضح ہے کہ رسول اپنی طاقت اور قوت سے کچھ نہیں کرتا تھا،‏ بلکہ اُس قوت پر اِنحصار کرتا تھا جو خدا عطا کرتا ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ یہاں اُن معجزوں کی طرف اِشارہ ہے جن کے کرنے کی توفیق رسول کو عطا ہوئی تھی۔

«راست بازی کے ہتھیاروں کے وسیلے سے۔» اِن ہتھیاروں کا بیان اِفسیوں ۶:‏ ۱۴-‏۱۸ میں موجود ہے۔ اِس سے ایک راست،‏ کھرے اور اُصول و قواعد کی پابند زندگی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب کوئی شخص عملی راست بازی سے ملبس ہوتا ہے تو ناقابلِ گرفت ہوتا ہے۔ اگر ہمارا ضمیر خدا اور اِنسان کی طرف سے بے الزام ہے تو ابلیس کا نشانہ نہیں بن سکتا۔

«جو دہنے بائیں ہیں۔» اِس ترکیب کے بالکل صحیح معنوں کے بارے میں کچھ شک پایا جاتا ہے۔ ایک اِمکانی مطلب یہ ہے کہ قدیم طرزِ جنگ میں تلوار دائیں ہاتھ میں اور ڈھال بائیں ہاتھ میں ہوتی تھی۔ تلوار جارحانہ جنگ کی اور ڈھال مُدافعانہ جنگ کی علامت ہے۔ زیرِنظر صورتِ حال میں پولس کہہ رہا ہے کہ اچھا مسیحی چال چلن مضبوط جارحیت بھی ہے اور موثر دفاع بھی۔

۶:‏ ۸ آیت ۸-‏۱۰ میں پولس اُن واضح تقابلوں کا بیان کرتا ہے جو خداوند یسوع کی خدمت میں پائے جاتے ہیں۔ سچے شاگرد کو ہر قسم کے نشیب و فراز کا تجربہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ پہاڑ کی چوٹی پر ہوتا ہے،‏ کبھی نیچے وادی میں۔ علاوہ ازیں وہ درمیان کی ساری زمین کے تجربات میں سے بھی گزرتا ہے۔ اِس زندگی میں عزت اور بے عزتی دونوں ملتی ہیں۔ کبھی کامیابی اور فتح اور کبھی بظاہر ناکامی۔ کبھی تعریف اور کبھی نکتہ چینی کا سامنا ہوتا ہے۔ خدا کے سچے خادم کو کبھی بدنامی اور کبھی نیک نامی کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ بعض لوگ اُس کے حوصلے اور جذبے کی تعریف کرتے ہیں،‏ جب کہ دوسرے اُس کی صرف مذمت کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ اُس کو دھوکے باز اور فریبی اور دغا باز قرار دیا جاتا ہے،‏ لیکن تو بھی خدا کا خادم سچا ہوتا ہے۔ نہ وہ فریبی ہوتا ہے نہ گمراہ کرنے والا بلکہ خدا تعالیٰ کا سچا خادم ہوتا ہے۔

۶:‏ ۹ ایک لحاظ سے پولس گمناموں میں شامل تھا۔ اُس کی تعریف نہیں ہوتی تھی بلکہ اُس کو غلط سمجھا جاتا تھا۔ مگر یہ دُنیاوی نقطۂ نظر سے تھا۔ دراصل اپنے ہم ایمانوں میں ۱؎اور خدا کے سامنے وہ مشہور تھا۔

پولس کی زندگی ہر روز مرنے کی زندگی تھی،‏ تو بھی وہ کہتا ہے مگر دیکھو جیتے ہیں! اُس کو دھمکیاں دی جاتی تھیں،‏ لوگ شکاریوں کی طرح اُس کے پیچھے لگے رہتے تھے،‏ ہر جگہ تعاقب کرتے،‏ ستاتے اور ظلم و ستم کرتے تھے،‏ قید میں ڈال دیتے تھے۔ مگر وہ آزادی حاصل کرتا اور پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے منادی کرتا تھا۔ اِسی حقیقت پر زور دینے کے لئے وہ کہتا ہے کہ ہم مار کھانے والوں کی مانند ہیں مگر جان سے مارے نہیں جاتے۔ اُسے اِنسانوں کے ہاتھوں کتنی ہی دفعہ سزا اُٹھانی پڑی۔ کئی دفعہ تو اُس کے دشمنوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے اُس کی طوفانی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے __ لیکن پھر اُن کو خبر ملتی کہ وہ دوسرے شہروں میں مسیح کے لئے فتوحات حاصل کر رہا ہے۔

۶:‏ ۱۰ پولس کی خدمت میں غم بھی آتے تھے،‏ لیکن تو بھی وہ ہمیشہ خوش رہتا تھا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ خوش خبری کے پیغام کے ردّ کئے جانے پر،‏ خدا کے لوگوں کی ناکامیوں پر اور اپنی خامیوں اور کمزوریوں پر غمگین ہوتا تھا۔ لیکن جب وہ خداوند کا خیال کرتا،‏ اور خدا کے وعدے پر دھیان کرتا تو بے حد خوش اور مسرور ہوتا تھا۔

جہاں تک دُنیاوی مال و دولت کا تعلق ہے پولس ایک کنگال آدمی تھا۔ اُس کی جائیداد یا دولت کے بارے میں کہیں کچھ نہیں لکھا ہوا۔ مگر ذرا اُن زندگیوں کا حساب لگائیں جو اُس کی خدمت کے وسیلے سے دولت مند ہو گئیں! اگرچہ وہ ناداروں کی مانند تھا،‏ تو بھی سب کچھ رکھتا تھا۔

ک۔ کھلے دل اور شفقت کے لئے پولس کی اپیل (‏ ۶:‏ ۱۱-‏۱۳)‏

۶:‏ ۱۱ اب پولس کرنتھیوں سے درد مندانہ اپیل کرتا ہے کہ میرے لئے اپنے دلوں کو کھولو۔ وہ کہتا ہے کہ « مَیں نے تم سے کھل کر باتیں کیں۔» اُس نے اُن کے ساتھ اپنی محبت کے بارے میں واقعی دل کھول کر باتیں کی ہیں۔ اُس کی زبان ایسے دل کی ترجمانی کرتی ہے جو اِن لوگوں کے لئے محبت اور شفقت سے لبریز تھا۔ اِس آیت کا عام مطلب یہی ہے جیسا کہ اِن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا دل تمہاری طرف سے کشادہ ہو گیا یعنی تمہیں محبت کے ساتھ قبول کرنے کو تیار ہے۔

ٹوزر (‏Tozer)‏ نے اِس کا یوں اظہار کیا ہے،‏ «پولس ایک چھوٹا آدمی تھا،‏ لیکن اُس کی باطنی زندگی بہت وسیع و عریض تھی۔ اُس کا بڑا دل اپنے شاگردوں کی تنگ نظری سے اکثر مجروح ہوتا تھا۔ وہ اُن کی سکڑی سہمی روحوں کو دیکھ کر بہت دُکھی ہوتا تھا۔»

۶:‏ ۱۲محبت اور شفقت کے معاملے میں پولس کا دل تنگ نہیں تھا۔ جو تنگی تھی وہ کرنتھیوں کے دلوں میں تھی۔ اُنہوں نے اُس کے لئے اپنی محبت کو محدود کر رکھا تھا۔ یہاں تک کہ اُنہیں پتا نہ تھا کہ اُسے قبول کریں یا نہ۔ لیکن اُن کے لئے اُس کی محبت ہرگز محدود نہ تھی۔ محبت میں کمی پولس کی طرف سے نہیں کرنتھیوں کی طرف سے تھی۔

۶:‏ ۱۳ اگر وہ اُس کی محبت کا بدلہ دینا چاہتے ہیں (‏وہ ایمان میں اپنے فرزندوں سے مخاطب ہے)‏ تو چاہئے کہ وہ بھی کشادہ دل ہو جائیں،‏ یعنی کھلے دل سے اُس کے ساتھ محبت کریں۔ پولس محسوس کرتا ہے کہ وہ اُن کا باپ ہے۔ اور چاہئے کہ وہ بھی اُسے ایمان میں باپ جان کر اُس سے محبت کریں۔ صرف خدا ہی ایسا کر سکتا ہے لیکن ضرور ہے کہ وہ خدا کو ایسا کرنے دیں۔

مافٹ (‏Moffatt)‏نے آیات ۱۱ سے ۱۳ کے تصور کو بہت عمدگی سے پیش کیا ہے:‏

«اے کرنتھیو! مَیں نے تم سے کچھ بھی دریغ نہیں کیا۔ میرا دل تمہارے لئے بے حد کشادہ ہے۔ رکاوٹ؟ __ یہ تمہاری طرف سے ہے،‏ میری طرف سے نہیں۔ فرزندوں کی طرح منصفانہ بدلہ دو۔ میرے لئے اپنے دلوں کو کھول دو۔»

ل۔ کلام کے مطابق علیٰحدگی اِختیار کرنے کی اپیل (‏ ۶:‏ ۱۴-‏ ۷:‏ ۱)‏

۶:‏ ۱۴ آیت ۱۳ اور ۱۴ کا باہمی تعلق یہ ہے۔ پولس رسول نے مقدسین سے کہا ہے کہ میرے لئے محبت میں اپنے دل کشادہ کرو۔ اب وہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے کا ایک طریقہ ہر قسم کے گناہ اور ناراستی سے کنارہ کشی ہے۔ بے شک اُسے کچھ خیال اُن جھوٹے اُستادوں کا بھی ہے جنہوں نے کرنتھس کی جماعت پر یلغار کر رکھی تھی۔

«ناہموار جوئے» سے اِستثنا ۲۲:‏ ۱۰ یاد آ جاتا ہے:‏ « تُو بیل اور گدھے دونوں کو ایک ساتھ جوت کر ہل نہ چلانا۔» بیل پاک جانور ہے جب کہ گدھا ناپاک جانور ہے۔ اُن کے قدم اور ہل کھینچنے کا انداز دونوں فرق فرق ہیں۔ تقابل کے لحاظ سے جب ایمان دار خداوند یسوع کے ساتھ ایک جوئے میں جوتے جاتے ہیں تو اُن کو پتا چلتا ہے کہ اُس کا جوأ ملائم ہے اور اُس کا بوجھ ہلکا (‏متی ۱۱:‏ ۲۹،‏۳۰)‏۔

علیٰحدگی کے موضوع پر ۲۔کرنتھیوں کا یہ حصہ پورے پاک کلام میں کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالکل واضح اور صاف ہدایت ہے کہ ایمان دار خود کو بے ایمانوں سے،‏ بے دینی سے،‏ تاریکی سے،‏ بلیعال سے اور بتوں سے دُور رکھے۔ اُن سے علیٰحدہ رہے۔

بے شک اِس بیان کا تعلق شادی بیاہ کے رِشتے سے بھی ہے۔ ایک مسیحی کو غیر نجات یافتہ شخص سے شادی نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن ایسی حالت میں کہ جہاں ایک ایمان دار کی شادی پہلے ہی بے ایمان شخص سے ہو چکی ہے تو یہ کلام علیٰحدگی یا طلاق کو جائز قرار نہیں دیتا۔ ایسی حالت میں خدا کی مرضی ہے کہ شادی کا رِشتہ قائم رکھا جائے۔ اور پیشِ نظر بات یہ ہے کہ بالآخر بے ایمان ساتھی نجات پانے تک آ سکتا ہے (‏۱۔کرنتھیوں ۷:‏ ۱۲-‏۱۶)‏۔

علاوہ ازیں اِس کا تعلق کاروبار سے بھی ہے۔ ایک مسیحی کو ایسے شخص کے ساتھ کاروبار میں شراکت نہیں کرنی چاہئے جو خداوند کو نہ جانتا ہو۔ واضح طور پر اِس کا اِطلاق خفیہ تنظیموں اور انجمنوں پر بھی ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص جو مسیح کا وفادار ہے ایسی انجمنوں میں شامل ہوتا رہے جہاں خداوند یسوع کا خیر مقدم نہیں ہوتا؟ معاشرتی زندگی میں اِس کا اطلاق یوں ہوتا ہے۔ ایک مسیحی بے ایمانوں کے ساتھ اِس نظریے سے تعلق قائم رکھے کہ اُنہیں مسیح کے لئے جیتنا ہے۔ لیکن اُن کی گناہ آمیز خوشیوں،‏ تفریحات اور دیگر سرگرمیوں میں شامل نہ ہو،‏ مبادا وہ سوچنے لگیں کہ یہ ہم سے فرق نہیں ہے۔ پھر کلام کے اِس حصے کا اطلاق مذہبی معاملات پر بھی ہوتا ہے۔ مسیح کا سچا پیرو کسی ایسی کلیسیا کا ممبر بنے رہنا گوارا نہیں کرے گا جس میں بے ایمانوں کو دیدہ دانستہ ممبر بنایا اور ممبر رکھا جاتا ہے۔

آیات ۱۴ سے ۱۶ تک زندگی کے تمام اہم تعلقات کا احاطہ کرتی ہیں:‏

  • «راست بازی اور بے دینی۔» اخلاقی چلن اور کردار کا پورا علاقہ اِس میں آ جاتا ہے۔
  • «روشنی اور تاریکی۔» یہ شعبہ خدا کے بارے میں باتوں کی سمجھ بوجھ اور علم سے تعلق رکھتا ہے۔
  • «مسیح اور بلیعال۔» اِختیار کا سارا دائرہ اِس میں شامل ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک شخص اپنی زندگی میں کس کو مالک مانتا ہے۔
  • «ایمان دار اور بے ایمان۔» اِس کا تعلق ایمان کی دُنیا سے ہے۔
  • «خدا کا مقدِس اور بتوں۔» یہ عبادت کے پورے موضوع کا اِحاطہ کرتے ہیں۔

راست بازی اور بے دینی میں رفاقت نہیں ہو سکتی۔ یہ اخلاقی طور پر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ نہ روشنی اور تاریکی میں شراکت ہو سکتی ہے۔ جب روشنی کمرے میں داخل ہوتی ہے تو تاریکی بھاگ جاتی ہے۔ دونوں ایک ساتھ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔

۶:‏ ۱۵ « بلیعال» نام کا مطلب ہے «نکما پن یا شرارت»۔ یہاں یہ شریر یعنی ابلیس کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کیا مسیح اور شیطان میں صلح ہو سکتی ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ نہیں ہو سکتی۔ اور نہ ایمان دار اور بے ایمان کے درمیان رفاقت و شراکت ہو سکتی ہے۔ ایسی کوشش کرنا بھی خداوند کے خلاف بغاوت اور دغابازی ہے۔

۶:‏ ۱۶ بتوں کو خدا کے مقدِس سے کوئی مناسبت،‏ کوئی سروکار نہیں ہو سکتا۔ اِس صورت میں ایمان دار جو کہ زندہ خدا کا مقدِس ہیں بتوں کے ساتھ کس طرح چل سکتے ہیں! یقینا یہاں بتوں کا مطلب کھودے یا ڈھالے ہوئے مجسمے نہیں،‏ بلکہ ہر وہ چیز ہے جو مسیح اور روح کے درمیان آ جاتی ہے۔ اِس میں روپیہ پیسہ،‏ تفریحات،‏ شہرت اور ناموری کی ہوس اور مادی چیزوں کا لالچ وغیرہ بھی شامل ہے۔

رسول کے پاس کافی ثبوت ہیں کہ ہم زندہ خدا کا مقدِس ہیں (‏دیکھئے خروج ۲۹:‏ ۴۵؛ احبار ۲۶:‏۱۲ اور حزقی ایل ۳۷:‏ ۲۷)‏۔ ڈینی (‏Denney)‏ کہتا ہے:‏

«پولس توقع رکھتا ہے کہ خدا کے گھر کے تقدس کو قائم رکھنے میں مسیحی اُسی قدر سرگرم ہوں گے جس قدر یہودی اِسے خراب کرنے میں سرگرم ہیں۔ اور اب وہ کہتا ہے کہ یہ گھر ہم ہیں،‏ ہمارا اپنا آپ ہے جس کو ہمیں دُنیا سے بے داغ رکھنا ہے۔»

۶:‏ ۱۷ اِس بات کے پیشِ نظر پولس ایک چیلنج پیش کرتا ہے کہ اُن میں سے نکل کر الگ رہو۔ وہ یسعیاہ ۵۲:‏ ۱۱ سے اِقتباس کرتا ہے۔ بدی اور گناہ سے الگ رہنے کے لئے یہ خدا کی اپنی قوم کو واضح ہدایت ہے۔ مسیحیوں کو اِس (‏بدی)‏ کے درمیان نہیں رہنا۔ اِس کا حصہ نہیں بننا۔ یہ بہانہ نہیں کرنا کہ ہم اِس کا علاج کرنے کے لئے اِس کا حصہ بنے ہیں۔ خدا کا پروگرام ہے کہ نکل کر الگ رہو۔ اِس آیت میں ناپاک چیز بنیادی طور پر بے دین اور بت پرست دُنیا ہے۔ مگر اِس آیت کا اِطلاق ہر قسم کی بدی پر ہوتا ہے،‏ خواہ وہ تجارتی ہو،‏ معاشرتی ہو یا مذہبی ہو۔

اِس آیت کو دوسرے ایمان داروں سے علیٰحدگی کی تعلیم دینے کے لئے ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ مسیحیوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ روح کی یگانگی صلح کے بند سے بندھی رہے (‏اِفسیوں ۴:‏۳)‏۔

۶:‏ ۱۸ اکثر اوقات مسیحیوں کو بڑی مشکل پیش آتی ہے کہ خدا کے کلام کا حکم ماننے کے لئے برسوں کے تعلقات کو توڑ لیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۱۸ میں خدا پہلے ہی اِس مشکل کو دیکھ رہا ہے۔ اُس نے آیت ۱۷ میں کہا تھا مَیں تم کو قبول کر لوں گا اور اب وہ کہتا ہے کہ (‏مَیں)‏ تمہارا باپ ہوں گا اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہو گے۔ یہ خداوند قادرِ مطلق کا قول ہے۔ بدی کی لشکرگاہ سے باہر مسیح کے ساتھ کھڑے ہونے کا اَجر باپ کے ساتھ ایک نئی اور گہری رفاقت ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خدا کے کلام کی تعمیل اور فرماں برداری کرنے سے اُس کے بیٹے اور بیٹیاں بن جاتے ہیں بلکہ یہ کہ جب ہم اِس طرح زندگی گزارتے ہیں اور ایسی عادات و اطوار دکھاتے ہیں تو آشکارا ہو جاتا ہے کہ ہم اُس کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ اور ہم کو فرزندیت کی خوشیوں اور مسرتوں کا وہ تجربہ ہوتا ہے جیسے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔

حقیقی علیٰحدگی کی مبارک حالت خود عظیم خدا کی جلالی رفاقت سے کسی طرح کم نہیں۔

۷:‏ ۱یہ آیت گذشتہ باتوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہ نئے پیرے کا آغاز نہیں بلکہ ۶:‏۱۴ سے شروع ہونے والے پیرے کا اِختتام ہے۔

اِس آیت میں جن وعدوں کا حوالہ ہے وہی ہیں جن کا ذکر گذشتہ باب کی آیات ۱۷ اور ۱۸ میں ہوا ہے۔ «مَیں تم کو قبول کر لوں گا … تمہارا باپ ہوں گا … تم میرے بیٹے بیٹیاں ہو گے۔» خدا کے اِن حیرت افزا وعدوں کے پیشِ نظر آئو ہم اپنے آپ کو ہر طرح کی جسمانی اور روحانی آلودگی سے پاک کریں۔ جسمانی آلودگی میں ہر طرح کی بدنی ناپاکی اور روحانی آلودگی میں باطنی زندگی،‏ خیالات اور نیتوں کی ناپاکی شامل ہے۔

خدا صرف منفی پہلو ہی نہیں دکھاتا،‏ بلکہ مثبت پہلو بھی دکھاتا ہے،‏ خدا کے خوف کے ساتھ پاکیزگی کو کمال تک پہنچائیں۔ ہم کو صرف اُن ہی چیزوں کو دُور نہیں کرنا جو ناپاک اور آلودہ کرتی ہیں بلکہ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں خداوند یسوع مسیح کے مشابہ ہوتے جانا ہے۔ یہ آیت ہرگز یہ تاثر نہیں دیتی کہ ہم اپنی زمینی زندگی کے دوران کامل طور پر پاک ہو سکتے ہیں۔ عملی تقدیس ایک ایسا عمل ہے جو ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ ہم خداوند یسوع مسیح کی مانند ہوتے جاتے ہیں۔ یہ عمل اُس دن تک جاری رہے گا جب ہم اُس کو روبرو دیکھیں گے،‏ اور پھر ابد تک ہم اُس کے مشابہ ہی رہیں گے۔ چونکہ ہم بڑی عقیدت،‏ احترام اور خوفِ خدا سے مسیح کی پیروی کرتے ہیں اِس لئے ہمارے دلوں میں پاک بننے کی آرزو ہے۔

م۔ کرنتھس سے اچھی خبر ملنے پر پولس کی خوشی (‏ ۷:‏ ۲-‏۱۶)‏

۷:‏ ۲ ہم کو اپنے دل میں جگہ دو۔ کوئی وجہ نہیں کہ کرنتھی ایسا نہ کریں۔ پولس مزید کہتا ہے ہم نے کسی سے بے اِنصافی نہیں کی۔ کسی کو نہیں بگاڑا۔ کسی سے دغا نہیں کی۔ اُس کے نکتہ چین اُس کے خلاف کچھ بھی کہتے رہیں،‏ پولس رسول نے کسی کو دُکھ نہیں پہنچایا تھا۔ کسی سے مالی فائدہ حاصل نہیں کیا تھا۔

۷:‏ ۳ پولس نے جو کچھ کہا ہے اور کہہ رہا ہے اُس سے کرنتھیوں کو مجرم ٹھہرانا ہرگز مقصود نہیں۔ وہ اُن کو بار بار یقین دلا چکا ہے کہ زندگی اور موت میں بھی تمہارے لئے میری محبت قائم رہے گی۔

۷:‏ ۴چونکہ وہ کرنتھس کے ساتھ ایسی گہری وابستگی محسوس کرتا ہے،‏ اِس لئے اُن سے بڑی دلیری کے ساتھ باتیں کرنے کی آزادی بھی محسوس کرتا ہے۔ لیکن اگر اُن کے ساتھ اُس کی بے تکلفی اِتنی زیادہ ہے تو دوسروں کے سامنے اُسے اُن پر بڑا فخر بھی ہے۔ اِس لئے مناسب نہیں کہ وہ اُس کی سیدھی اور کھری باتوں کی غلط تشریح کریں کہ محبت میں کمی آ گئی ہے بلکہ اُن کو احساس ہونا چاہئے کہ رسول کو اُن پر واقعی فخر ہے اور وہ جہاں کہیں جاتا ہے اُن کی تعریف کرتا ہے۔ غالباً اُن کی مسیحی زندگی کا خاص پہلو جس کے باعث وہ اُن کی تعریف کرتا ہے یہ ہے کہ یروشلیم کے حاجت مند مقدسین کے لئے امداد کے سلسلے میں اُنہوں نے بڑی رضامندی دِکھائی تھی۔ پولس رسول اِس موضوع پر بھی ابھی بات کرے گا،‏ لیکن یہاں صرف ایک اِشارہ کرتا ہے۔

مجھ کو پوری تسلی ہو گئی ہے۔ جتنی مصیبتیں ہم پر آتی ہیں اُن سب میں میرا دل خوشی سے لبریز رہتا ہے۔ اِن جملوں کی تشریح اگلی آیات میں کی گئی ہے۔ اپنی ساری مصیبتوں کے باوجود پولس کا دل خوشی سے لبریز کیوں رہتا تھا؟ وجہ یہ ہے کہ ططس کرنتھیوں کے بارے میں بڑی اچھی خبر لایا تھا۔ اِس سے رسول کو زبردست خوشی اور حوصلہ افزائی حاصل ہوئی تھی۔

۷:‏ ۵ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ پولس اِفسس سے روانہ ہو کر ططس کی تلاش میں تروآس کو گیا۔ وہ وہاں اُس کو نہ ملا تو وہ جہاز پر سوار ہو کر مکدنیہ چلا گیا۔ اب وہ بیان کرتا ہے کہ وہاں پہنچ کر بھی مطلوبہ چین نہ ملا۔ وہ ابھی تک پریشان اور مصیبت میں گرفتار تھا۔ ابھی تک اُس پر ظلم ہو رہا تھا۔ باہر لڑائیاں تھیں،‏ یعنی دشمن ضرب پر ضرب لگا رہا تھا اور اندر دہشتیں تھیں۔ فکریں اور اندیشے تھے۔ بلاشبہ اِن کا تعلق اِس حقیقت سے تھا کہ ابھی تک ططس سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔

۷:‏ ۶ پھر خدا نے قدم بڑھایا اور ططس کے آنے سے ہم کو تسلی بخشی۔ اِس موقعے پر پولس کو اَمثال ۲۷:‏۱۷ کی سچائی کا تجربہ ہوا کہ جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چہرے کی آب اُسی سے ہے۔ ذرا مسیح کے اِن دو جاں نثار خادموں کی ملاقات کا منظر ذہن میں لائیے۔ پولس سوال پر سوال پوچھے جا رہا ہے اور ططس حتی المقدور تیزی سے جواب دینے کی کوشش کر رہا ہے (‏اَمثال ۲۵:‏۲۵ بھی دیکھئے)‏۔

۷:‏ ۷ ططس کے ساتھ دوبارہ ملاقات ہی پولس کے لئے خوشی کا باعث نہ تھی بلکہ یہ خبر اَور بھی زیادہ باعث مسرت تھی کہ خود ططس کو بھی کرنتھیوں کے بارے میں تسلی تھی کہ اُنہوں نے پولس کے خط پر اچھا رِدعمل ظاہر کیا تھا۔

یہ خبر بہت اچھی تھی کہ کرنتھی پولس سے ملاقات کے مشتاق ہیں حالانکہ جھوٹے اُستاد ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ اِن مقدسین اور پولس کے درمیان اختلافات پیدا ہوں اور وہ ایک دوسرے سے دُور ہو جائیں۔ کرنتھی نہ صرف پولس سے ملاقات کے آرزو مند تھے بلکہ اُس کے لئے «غم» بھی کھاتے تھے۔ «یہ غم» اُن کو اپنے غیر محتاط رویے پر بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت میں گناہ کو برداشت کرتے رہے تھے،‏ اور اِس بات پر بھی کہ وہ رسول کے لئے فکر مندی اور دُکھ کا باعث بنے تھے۔ ططس نے اُن کے اِس غم کی خبر دینے کے علاوہ اُن کے جوش کا بھی بیان کیا تھا جس سے پولس اَور بھی خوش ہوا۔

چنانچہ پولس کی خوشی صرف ططس کے آنے پر نہ تھی بلکہ اِس حقیقت کی شہادتوں پر بھی تھی کہ کرنتھی اُس کی ہدایات پر کار بند ہوئے اور ابھی تک اُس کو محبت سے یاد کرتے تھے۔

۷:‏ ۸ «گو مَیں نے تم کو اپنے خط سے غمگین کیا مگر اُس سے پچھتاتا نہیں،‏ اگرچہ پہلے پچھتاتا تھا۔ چنانچہ دیکھتا ہوں کہ اُس خط سے تم کو غم ہوا گو تھوڑے ہی عرصہ تک رہا۔»

جس خط کا ذکر پولس کر رہا ہے،‏ ہو سکتا ہے وہ کرنتھیوں کے نام پہلا خط،‏ یا کوئی اَور خط ہو جو اَب ناپید ہے،‏ جس میں اِن مقدسین کو زیادہ سختی سے سرزنش کی گئی تھی۔

پولس کہتا ہے کہ مَیں اُس خط پر پہلے پچھتاتا تھا۔ اِس پچھتاوے کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ فرض کریں کہ اُس کا اشارہ کرنتھیوں کے نام پہلے خط کی طرف ہے تو بھی الہام کے موضوع پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ جو باتیں پولس نے لکھیں وہ خدا کے احکام تھے۔ مگر پولس خود تو اِنسان تھا۔ دوسرے لوگوں کی بے حوصلگی اور فکرمندی سے متاثر ہو سکتا تھا۔ ولیمز (‏Williams)‏ لکھتا ہے:‏

«لکھنے والے میں اور الہام میں اِمتیاز آیت ۸ میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ میرا پہلا خط الہام سے لکھا گیا تھا۔ اُس کی باتیں خداوند کے حکم تھے۔ لیکن وہ کمزور،‏ فکر مند اور شفیق اِنسان تھا۔ اِس لئے ڈرتا اور کانپتا تھا کہ مبادا اِس خط کی باتوں کے اثر سے کرنتھی مجھ سے بیگانہ ہو جائیں اور اُن کو دکھ ہو۔ یہ واقعہ نبی کی اِنفرادیت اور روح القدس کی طرف سے اُس کو دیئے گئے پیغام میں فرق دلچسپ مثال ہے۔»

مختصر یہ کہ پولس کہہ رہا ہے کہ جب کرنتھیوں نے پہلے اُس کا خط پڑھا،‏ تو اُن کو ملامت ہوئی جس سے اُن کو دُکھ اور غم ہوا۔ خط بھیجنے کے بعد رسول کو احساس تھا کہ اُن کا ردِّعمل کیا ہو گا۔ چنانچہ وہ پچھتایا۔ اِس لئے نہیں کہ وہ سمجھتا تھا کہ مَیں نے کوئی غلطی کی ہے۔ یہاں یہ تصور ہرگز نہیں ہے،‏ بلکہ اُسے افسوس اِس بات کا ہے کہ خداوند کا کام کرنے کی خاطر اُسے کبھی کبھی دوسروں کو ناخوش اور غمگین بھی کرنا پڑتا ہے۔ بے شک یہ ناخوشی عارضی ہی کیوں نہ ہو،‏ لیکن مقصد یہ ہے کہ اُن کی زندگیوں میں خدا کے ارادے پورے ہوں۔

آیت کے آخری حصے میں پولس زور دیتا ہے کہ اگرچہ خط سے اُن کو غم ہوا لیکن تھوڑے ہی عرصے تک رہا۔ خط کے پہلے اثر نے غم پیدا کیا تھا،‏ مگر غم مستقل نہیں بلکہ عارضی تھا۔

جس عمل کا ذکر پولس یہاں کر رہا ہے اُس کی مثال سرجن کے کام جیسی ہے۔ اِنسانی جسم کے کسی حصے سے فاسد مادے کو نکالنے کے لئے اُس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ گہرا کاٹے۔ اُسے مریض کے درد سے خوشی نہیں ہوتی،‏ لیکن وہ جانتا ہے کہ صحت بحال کرنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ خاص کر اگر مریض عزیز دوست ہو تو سرجن کو اُس کے دُکھ اور درد کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔ مگر وہ جانتا ہے کہ اُس کا درد عارضی ہو گا اور وہ اُس کو یہ درد پہنچانے پر اِس لئے تیار ہو جاتا ہے کہ اِس کا نتیجہ خوش گوار ہو گا۔

۷:‏ ۹ پولس بھی کرنتھیوں کو دُکھ دے کر خوش نہیں ہوا،‏ بلکہ اِس لئے خوش ہوا کہ اُن کے عارضی غم کا انجام توبہ ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اُن کے غم نے اُن کی سوچ کو بدلا جس کے نتیجے میں اُن کی زندگیوں میں تبدیلی آئی۔ ہوج (‏Hodge)‏ کہتا ہے کہ توبہ صرف اِرادے کی تبدیلی کا نام نہیں،‏ بلکہ اِس میں دل کی تبدیلی شامل ہے جس کے نتیجے میں اِنسان غم زدہ ہو کر گناہ سے نفرت کرتا اور اُس سے چھوٹ کر خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔

کرنتھیوں کا غم یا افسوس خدا کی مرضی کے مطابق تھا۔ یہ اِس قسم کا غم تھا جو خدا دیکھنا پسند کرتا ہے۔ چونکہ اُن کا غم اور توبہ حقیقی اور خدا پرستی کے ساتھ تھی اِس لئے اُن پر پولس رسول کی ملامت کا کوئی دیرپا بُرا اثر نہیں ہوا۔

۷:‏ ۱۰ اِس آیت میں خدا پرستی کا غم اور دُنیا کا غم میں تقابل پیش کیا گیا ہے۔ خدا پرستی کا غم وہ غم ہے جو گناہ کرنے کے بعد اِنسان کی زندگی میں پچھتاوے کی صورت میں پیدا ہوتا اور نتیجے میں توبہ تک پہنچاتا ہے۔ اِنسان کو احساس ہوتا ہے کہ خدا مجھ سے بات کر رہا ہے۔ اور وہ اپنے اور اپنے گناہ کے خلاف ہو کر خدا کا ساتھ دیتا ہے۔

«خدا پرستی کا غم ایسی توبہ پیدا کرتا ہے جس کا انجام نجات ہے۔» یہاں لازمی نہیں کہ پولس ابدی نجات کے بارے میں سوچ رہا ہے (‏حالانکہ یہ بھی سچ ہے)‏۔ آخر کرنتھی پہلے ہی نجات یافتہ تھے،‏ مگر یہاں نجات سے مراد ہے کہ اِنسان اپنی زندگی میں ہر قسم کے گناہ،‏ بندھن اور مصیبت سے رہائی پاتا ہے۔

«اور اُس سے پچھتانا نہیں پڑتا۔» یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِشارہ توبہ کی طرف ہے یا نجات کی طرف؟ چونکہ یہ بات یکساں طور پر دُرست ہے کہ کوئی بھی توبہ یا نجات سے پچھتاتا نہیں،‏ اِس لئے یہ سوال کھلا چھوڑا جاتا ہے۔

«دُنیا کا غم۔» اِس سے مراد ہے ندامت یا پچھتاوا جس میں سچی توبہ نہیں ہوتی۔ اِس کا نتیجہ تلخی،‏ سختی،‏ مایوسی اور بالآخر موت ہوتا ہے۔ اِس کی مثال ہمیں یہوداہ اسکریوتی کی زندگی سے ملتی ہے۔ اُس نے اُن نتائج پر افسوس نہ کیا جو اُس کے گناہ کے باعث خداوند یسوع کو پیش آئے،‏ بلکہ وہ صرف اِس لئے پچھتایا اور افسردہ ہوا کہ اُسے نہایت خوف ناک فصل کاٹنی پڑی۔

۷:‏ ۱۱ جو بات پولس نے آیت ۱۰ کے پہلے حصے میں کہی ہے اُس کی مثال دینے کے لئے وہ کرنتھیوں کے اپنے تجربے کو پیش کرتا ہے۔ جو بات اُس نے خدا پرستی کے غم کے بارے میں کہی ہے،‏ وہی بات اُس کی اپنی زندگی میں ظاہر ہوئی ہے۔ آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِس حقیقت کا ثبوت یہ ہے کہ تم خدا پرستی کے طور پر غمگین ہوئے۔ اِس کے بعد پولس اُن کے خدا پرستی کے غم کے مختلف نتائج بیان کرتا ہے۔

اوّل،‏ اِس سے سرگرمی پیدا ہوئی،‏ یعنی وہ تندہی سے محتاط ہوئے۔ اگر اِس بات کا اِشارہ پہلے خط میں درج تادیب اور سرزنش کی طرف ہے تومطلب یہ ہے کہ اگرچہ شروع میں وہ بے پروا تھے،‏ مگر بعد میں سارے معاملے پر ازحد فکرمند اور محتاط ہو گئے۔

دوسری بات جس کا وہ ذکر کرتا ہے «عذر» ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو راست ٹھہرانے یا معذور ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے،‏ بلکہ ایک مستعد قدم اُٹھا کر اُنہوں نے خود کو مزید الزام یا قصور سے بچا لیا۔ اُن کے رویے میں تبدیلی آئی جس کے نتیجے میں اُنہوں نے ایک نیا کام کیا۔

«خفگی۔» یہ اِشارہ ہے گنہگار یا قصوروار شخص کے لئے اُن کے رویے کی طرف __ کیونکہ وہ مسیح کے لئے بدنامی کا باعث ہوا تھا۔ دوسرے یہ اشارہ اُن کے اپنے بارے میں رویے کی طرف بھی ہے،‏ کہ وہ اپنے آپ پر خفا ہوئے کہ ہم نے اِتنے عرصے تک اِس بات کو ہونے دیا اور کوئی کارروائی نہ کی۔

«خوف۔» بے شک مطلب ہے کہ اُنہوں نے خداوند کے خوف سے کارروائی کی۔ مگر یہ تصور بھی شامل ہے کہ اُن کو خوف تھا کہ پولس رسول آئے گا،‏ اور اگر ضروری ہوا تو لکڑی (‏۱۔کرنتھیوں ۴:‏ ۲۱)‏یعنی چھڑی لے کر آئے گا۔

«اِشتیاق۔» مطلب ہے زبردست یا شدید آرزو۔ بیشتر مفسرین متفق ہیں کہ اِشارہ اُس سچی خواہش کی طرف ہے جو اُن کے دل میں پیدا ہو گئی تھی کہ پولس ہماری ملاقات کو آئے۔ تاہم اِس کا مطلب غلطی کو درست کرنے اور بُرائی کی اصلاح کرنے کی شدید خواہش بھی ہے۔

«جوش۔» اِس کی تشریح کئی طرح سے کی گئی ہے۔ مثلاً خدا کے جلال کے لئے جوش۔ گنہگار کی بحالی کے لئے،‏ اِس معاملے میں اپنی ناپاکی سے پاک ہونے کے لئے،‏ یا رسول کا ساتھ دینے کے لئے جوش۔

«اِنتقام۔» اِس کا مطلب ہے سزا یا بدلہ۔ یہاں صرف یہ خیال پیش ہوا ہے کہ اُنہوں نے جماعت کے خطاوار کی اِصلاح اور درستی کے لئے کارروائی کی۔ اُنہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ گناہ کی سزا دینا ہے۔

اِس کے بعد پولس کہتا ہے کہ تم نے ہر طرح سے ثابت کر دکھایا کہ تم اِس اَمر میں بَری ہو۔ یقینا ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ کبھی موردِ الزام تھے ہی نہیں۔ مطلب صرف اِتنا ہے کہ اُنہوں نے مناسب اقدام کرنے کے لئے وہ سب کچھ کیا جو اُن کو پہلے ہی کر لینا چاہئے تھا۔

۷:‏ ۱۲ اِس آیت میں تین بڑے مسائل ہیں۔ اوّل « مَیں نے تم کو لکھا تھا» سے پولس کون سے خط کا حوالہ دے رہا ہے؟ دوم،‏ وہ کون شخص ہے «جس نے بے اِنصافی کی؟» سوم،‏ وہ کون شخص ہے «جس پر بے اِنصافی ہوئی؟»

ممکن ہے خط وہی ہو جس کو ہم ۱۔کرنتھیوں کے نام سے جانتے ہیں۔ یا کوئی اَور خط جو بعد میں لکھا گیا اور ہمارے واسطے محفوظ نہیں رکھا گیا۔ بے اِنصافی کرنے والا وہ حرام کار بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر ۱۔کرنتھیوں باب ۵ میں آیا ہے۔ یا کلیسیا کے اندر کوئی باغی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پولس اُسی حرام کار کی بات کر رہا ہے تو جس پر بے اِنصافی ہوئی،‏ وہ اُس شخص کا اپنا باپ ہے۔ اور اگر بے اِنصافی کرنے والا کوئی سرکش اور باغی شخص ہے تو پھر جس پر بے انصافی ہوئی وہ پولس خود ہے یا کوئی ایسا شخص جس کی پہچان نہیں کرائی گئی۔

۷:‏ ۱۳چونکہ اُس کے خط کا مطلوبہ اثر ہوا،‏ اِس لئے پولس کو تسلی ہوئی۔ کرنتھیوں نے توبہ کی اور اُس کا ساتھ دیا۔ مزید برآں ططس نے مقدسین کے لئے جس سرگرمی کا اِظہار کیا اُس سے بھی رسول کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اُن سے مل کر ططس کی روح پھر تازہ ہو گئی تھی۔

۷:‏ ۱۴صاف معلوم ہوتا ہے کہ ططس کو کرنتھیوں کے پاس بھیجنے سے پہلے پولس نے وہاں کے ایمان داروں کے بارے میں اُس سے فخریہ باتیں کہی تھیں۔ اب وہ کہتا ہے کہ میرا فخر غلط ثابت نہیں ہوا۔ اُس نے کرنتھیوں کے بارے میں جو کچھ بھی کہا تھا،‏ وہ اُن کے درمیان ططس کے تجربے سے سچ ثابت ہوا۔ جس طرح وہ باتیں جو پولس نے کرنتھیوں سے کہی تھیں،‏ سچ تھیں،‏ اُسی طرح جو فخر اُس نے ططس کے سامنے کیا،‏ وہ بھی سچ نکلا۔

۷:‏ ۱۵ ظاہر ہے کہ ططس نہیں جانتا تھا کہ مَیں جنوبی یونان میں جائوں گا تو میرا کیسا خیر مقدم ہو گا یا مجھے کیسے قبول کیا جائے گا؟ شاید اُسے ڈر تھا کہ مجھے کوئی نہیں پوچھے گا۔ مگر جب وہ وہاں پہنچا تو کرنتھیوں نے اُس کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔ اُسے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ صرف اِتنا ہی نہیں،‏ بلکہ جو ہدایات وہ پولس رسول سے لایا تھا اُن کی فرماں برداری کر کے اُنہوں نے ططس کے دل میں گھر کر لیا۔

«تم کس طرح ڈرتے اور کانپتے ہوئے اُس سے ملے۔» پولس کا مطلب ذلیل سا خوف اور بزدلانہ ڈر نہیں ہے،‏ بلکہ خداوند کے سامنے احترام اور عقیدت کا احساس اور اُسے خوش کرنے کی شدید خواہش ہے۔

۷:‏ ۱۶ پولس کرنتھس کے مقدسین سے کہتا ہے کہ ہر بات میں تمہاری طرف سے میری خاطر جمع ہے۔ یہاں ہمیں مطلب پر حاشیہ آرائی نہیں کرنی چاہئے۔ یہاں ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ کرنتھیوں کو گناہ یا ناکامی کے امکان سے ماورا سمجھتا تھا۔ بلکہ یہ کہ اُس نے اُن پر جو اعتماد کیا تھا اور جس کے لئے ططس کے سامنے فخر کیا تھا وہ غلط ثابت نہیں ہوا۔ اُنہوں نے خود کو پولس کے اعتماد کا اہل ثابت کر دیا۔ بلاشبہ یہاں یہ خیال بھی موجود ہے کہ جس معاملے پر پولس نے پہلے خط میں بحث کی تھی،‏ اُنہوں نے اُس کے بارے میں موزوں رویہ اپنایا تھا۔ اِس لئے وہ اُن کی طرف سے خاطر جمع رکھنے میں حق بجانب ہے۔

اِس آیت کے ساتھ ۲۔کرنتھیوں کا پہلا حصہ مکمل ہوتا ہے۔ یہ حصہ وقف ہے پولس کی خدمت کے بیان کے لئے،‏ اور کرنتھیوں اور رسول کے باہمی تعلق اور بندھن کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے ذکر کے لئے۔

اگلے دو ابواب میں خیرات کی توفیق پر بحث کی گئی ہے۔