ج۔ کاہنوں کو ملامت (۲: ۱۔۹)
کاہنوں کو بڑی سنجیدگی سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ نہیں کریں گے اور اپنی روِشوں کی اصلاح نہیں کریں گے تو ہولناک سزائیں اُن کی منتظر ہیں۔ اُن کو یاد دلایا گیا ہے کہ اگلے زمانے کے نبی خدا کے اُس عہد کے وفادار اور پابند تھے جو اُس نے لاوی کے ساتھ قائم کیا تھا۔ لیکن اب لاوی بالکل بگڑ گئے ہیں اور اِسی وجہ سے خدا نے بھی اُن کو سب لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر کر دیا ہے۔
د۔ طلاق اور مخلوط شادیاں (۲: ۱۰۔۱۶)
اِس کے بعد طلاق اور بے دین اور بت پرست بیویوں سے شادی کے موضوع پر بات کی گئی ہے۔ یہوداہ کے لوگوں نے اِس اَمر میں بے وفائی کی کہ غیر قوم والوں کے ساتھ شادیاں کیں اور قومی یک جہتی اور مفادات کو تباہ کر دیا۔ مخلوق شادیاں کرنے والے کاٹ ڈالے جائیں گے۔
۲: ۱۳۔۱۶ لوگ مذبح پر روتے تھے کیونکہ خداوند اُن کے نذرانوں کو خوشی سے قبول نہیں کرتا تھا۔ لیکن کیوں نہیں؟ اِس لئے کہ خداوند اُن کی شادیوں میں گواہ تھا جنہیں وہ آسانی سے منسوخ کر رہے تھے۔ اُس کا مقصد تو یہ تھا کہ وہ ایک پاک قوم ہوں اور خدا ترس نسل پیدا ہو۔ یہ اِسی صورت میں ممکن تھا کہ وہ بت پرستوں اور بے دینوں سے الگ رہتے۔ اگر پاک کلام کے مطابق نہ ہو تو خدا طلاق سے اور اِس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ظلم سے بیزار ہوتا ہے۔ بالڈون (Baldwin)نے طلاق اور ظلم کے باہمی تعلق کی وضاحت کی ہے:
’’خدا طلاق کو ایسے سمجھتا ہے جیسے ’ اپنی پوشاک کو ظلم سے بالکل آلودہ کر لینا‘۔ یہ اِستعارہ ہے جو ہر قسم کے بھاری اور سخت ظلم کے مفہوم ادا کرتا ہے، جیسے مظلوم مقتول کا خون داغ چھوڑ جاتا ہے جو ہر کسی کو نظر آتے ہیں۔‘‘
ہ۔ خدا کی پاکیزگی اور عدل کا اِنکار (۲:۱۷)
وہ کہتے تھے کہ ہر شخص جو بُرائی کرتا ہے خدا اُس کی پروا نہیں کرتا۔ خدا اُن کی یہ بات سن سن کر بیزار ہو گیا تھا۔ علاوہ ازیں وہ کہتے تھے کہ عدل کا خدا کہاں ہے؟ دراصل اِس طرح وہ ریاکاری سے خدا کو چیلنج کرتے تھے کہ وہ مداخلت کرے۔
مقدس کتاب
۱ اور اب اے کاہنو تمہارے لے یہ حکم ہے۔
۲ رب الافواج فرماتا ہے اگر تم شنوانہ ہو گے اور میرے نام کی تمجید کو مدنظر رکھو گے تو میں تم کو اور تمہاری نعمتوں کو ملعون کروں گا بلکہ اس لے کہ تم نے اس مدنظر نہ رکھامیں ملعون کر چکا ہوں۔
۳ دیکھو میں تمہارے بازو بیکار کر دو گا اور تمہارے منہ پر نجاست یعنی قربانیوں کی نجاست پھینکوں گا اور تم اسی کے ساتھ پھینک دے جاو گے۔
۴ اور تم جان لو گے کہ میں نے تم کو یہ حکم اس لے دیا ہے کہ میرا عہد لاوی کے ساتھ قائم رہے رب الافواج فرماتا ہے۔
۵ اس کے ساتھ میرا عہد زندگی اور سلامتی کا تھا اور میں نے اسے زندگی اورسلامتی اس لے بخشی کہ وہ ڈرتا رہے چنانچہ وہ مجھ سے ڈرا اور میرے نام سے ترسان رہا۔
۶ سچائی کی شریعت اس کے منہ میں تھی اور اس کے لبوں پر ناراسی نہ پائی گی اور وہ میرے حضور سلامتی اور راستی سے چلتا رہا اور وہ بہتوں کو بدی کی راہ سے واپس لایا۔
۷ کیونکہ لازم ہے کہ کاہن کے لب معرفت کو محفوظ رکھیں اور لوگ اس کے منہ سے شرعی مسائل پوچھیں کیونکہ وہ رب الافواج کا رسول ہے۔
۸ پر تم راہ سے مخرف ہو گے ۔ تم شریعت میں بہتوں کے لے ٹھوکر کا باعث ہوے۔ تم نے لاوی کے عہد کو خراب کیا رب الافواج فرماتا ہے ۔
۹ پس میں نے تم کو سب لوگوں کی نظر میں ذلیل اور حقیر کیا کیونکہ تم میری راہوں پر قائم نہ رہے بلکہ تم نے شرعی معاملات میں روداری کی۔
۱۰ کیا ہم سب کا ایک ہی باپ نہیں ؟ کیا ایک ہی خدا نے ہم سب کو پیدا نہیں کیا؟پھر کیوں ہم اپنے بھائیوں سے بے وفائی کر کے اپنے باپ دادا کے عہد کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
۱۱ یہوداہ نے بے وفائی کی۔ اسرائیل اور یروشیلم میں مکروہ کام ہوا ہے۔ یہوداہ خداوند کی قدوسیت کو جو اس کو عزیز تھی بے حرمت کیا اور ایک غیر معبود کی بیٹی بیاہ لایا۔
۱۲ خداوند ایسا کرنے والے سے زندہ جواب دہند اور رب الافواج کے حضور قربانی گزراننے والے یعقوب کے خیموں سے منقطع کر دے گا۔
۱۳ پھر تمہارے اعمال کے سبب سے خداوند کے مزبح پر آہ و نالہ اور آنسووں کی ایسی کثرت ہے کہ وہ نہ تمہارےہدیہ کو دیکھے گا اور نہ تمہارے ہاتھ کی نزر کو خوشی سے قبول کرے گا۔
۱۴ تو بھی تم کہتے ہو کہ سبب کیا ہے؟ سبب یہ ہے کہ خداوند تیرے اور تیری جوانی کی بیوی کے درمیان گواہ ہے۔ تو نے اس سے بے وفائی کی اگرچہ وہ تیری رفیق اور منکوحہ بیوی ہے۔
۱۵ اور کیا اس نے ایک ہی کو پیدا نہیں کیا باوجودیکہ اس کے پاس اور ارواح موجود تھیں ؟ پھر کیوں ایک ہی کو پیدا کیا ؟ اس لے کہ خدا ترس نسل پیدا ہو۔ پس تم اپنے نفس سے خبر دار رہو اور کوئی اپنی جوانی کی بیوی سے بیوفائی نہ کرے۔
۱۶ کیونکہ خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے میں طلاق سے بیزار ہوں اور اس سے بھی جو اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے رب الافواج فرماتا ہے اس لے تم اپنے نفس سے خبردار رہو تا کہ بے وفائی نہ کرو۔
۱۷ تم نے اپنی باتوں سے خداوند کو بیزار کر دیا تو بھی تم کہتے ہو کس بات میں ہم نے اسے بیزار کیا؟ اسی میں جو کہتے ہو کہ ہر شخص جو برائی کرتا ہے خداوند کی نظر میں نیک ہے اور وہ اس سے خوش ہے اور یہ کہ عدل کا خدا کہاں ہے؟۔